Featured Post

شیعہ نوجوانوں کو راہِ حق پرلانےکے لینے 20 سوالات Unanswerable Questions for Shias

وہ اہم سوالات متلاشیان حق نوجوانوں کوراہ حق سے ہم کنارکرنے میں بڑاعظیم کردارہے! 70 UNANSWERED QUESTIONS to Shia,...

Khatm-e-Nabuwat-qadyani ختم نبوت - تحقیقی جائزہ


https://goo.gl/HDpr4t
ختم نبوت اسلام کے اہم عقائد میں سے ایک ہے، ایک صدی قبل ہندوستان میں انگریز کی سرپرستی میں مسلمانوں کی وحدت کی مزید تقسیم کے لیے قادیانی فتنه پیدا کیا گیا - بہت جدو جہد کے بعد 1974 میں پاکستان میں آیینی طور پر قادیانوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تاکہ یہ اسلام کی آڑ میں اپنے گمراہ کن عقائد کا پرچار نہ کر سکیں- ایک طے شدہ معاملہ کو نواز شریف کی حکومت نے دھوکہ سے آیینی ترمیم سے dilute ختم کرنے کی کوشش کا شروعات کی جو پکڑی گئی-اب عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ مجرموں کو بےنقاب کیا جائے.
مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی 100 سے بھی زیادہ آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے:

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo (الاحزاب40)
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالٰیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔

قرآن حکیم میں سو سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ لہٰذا اب قیامت تک کسی قوم، ملک یا زمانہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور نبی یا رسول کی کوئی ضرورت باقی نہیں اور مشیت الٰہی نے نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلسلۂ نبوت اور رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ. (ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الرويا، 4 : 163، باب : ذهبت النبوة، رقم : 2272)

ترجمہ : اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔

اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. (ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219)

ترجمہ: میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اگر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتب کے احکام منسوخ کرنے والی اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام و قوانین میں جامع و مانع ہے۔ قرآن کریم تکمیل دین کااعلان کرتا ہے۔ گویا انسانیت اپنی معراج کو پہنچ چکی ہے اور قرآن کریم انتہائی عروج پر پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کسی دوسری کتاب کی ضرورت ہے ، نہ کسی نئے نبی کی حاجت۔ چنانچہ امت محمدیہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انسانیت کے سفر حیات میں وہ منزل آ پہنچی ہے کہ جب اس کا ذہن بالغ ہو گیا ہے اور اسے وہ مکمل ترین ضابطۂ حیات دے دیا گیا، جس کے بعد اب اسے نہ کسی قانون کی احتیاج باقی رہی نہ کسی نئے پیغامبر کی تلاش۔

قرآن و سنت کی روشنی میں ختم نبوت کا انکار محال ہے۔ اور یہ ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خود عہد رسالت میں مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعوی کیا اور حضور کی نبوت کی تصدیق بھی کی تواس کے جھوٹا ہونے میں ذرا بھی تامل نہ کیا گیا۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں صحابہ کرام نے جنگ کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس کے بعد بھی جب اور جہاں کسی نے نبوت کا دعوی کیا، امت مسلمہ نے متفقہ طور پر اسے جھوٹا قرار دیا اوراس کا قلع قمع کرنے میں ہر ممکن کوشش کی۔ 1973ء کے آئین میں پاکستان میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے والے کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
https://ur.m.wikipedia.org/wiki/ختم_نبوت
28 ارکان کے دستخطوں پر پیش کیا۔قائدایوان ذوالفقارعلی بھٹونے سانحہ ربوہ پرغورکرنے اور قادیانی مسئلے پر سفاشات مرتب کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی کوخصوصی کمیٹی قرار دیا۔ سرکاری طور پر بل وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کیا۔قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پرغوروفکرکرنے کے لیے دو ماہ میں 28 اجلاس اور 96 نشستیں کیں۔ 5اگست 1974ء میں ایوان کی پہلی کارروائی ہوئی جس کی صدارت چیئرمین سینٹ صاحبزادہ فاروق علی خان نے کی۔6 سے 10 اور 20 سے 23 اگست کو قادیانیوں پر جرح ہوئی اور 27اگست کولاہوری گروپ پرجرح ہوئی۔لاہوری اور قادیانی گروپ نے اپنے اپنے محضر نامے پیش کیے اور جھوٹے ثابت ہوئ۔یہاں تک کہ پاکستان کے قومی اسمبلی میں یہ بل 7 ستمبر 1974ء کو4بج کر35منٹ پرمنظورہوا اور پوری قوم کے اتحاواتفاق سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاگیا۔
ذوالفقارعلی بھٹونے قائد ایوان کی حیثیت سے 27منٹ تک وضاحتی تقریرکی اور بتایاکہ قادیانی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے بھی انکاری ہیں اور پاکستان کے بھی دشمن۔ یوں 7ستمبرکوایک تاریخی فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہوا۔اس فیصلے پر ملک بھر میں خوشی ومسرت کی لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں نے اس فیصلے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے کی بارہا کوشش کی، جس پر علماء نے احتجاج کیااور صدر ضیاء الحق سے مطالبہ کیا، جس پر انہوں نے 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکے قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ مرزا طاہر برطانیہ فرارہوگیا یعنی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کاخمیرتھا ، مگرختم نبوت کے پروانوں اور دیوانوں نے اِن کا پیچھا کہیں بھی نہیں چھوڑا۔
سوال #1 : قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے، پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی اسلامی ملک نے ان کو غیر مسلم نہیں قرار دیا - لہٰذا ان کو غیر مسلم قرار دینے کا کسی کو حق نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کریں۔ کوئی ایسی آیت قرآن بتائیں جس سے ختم نبوت کا انکار کسی کو خارج اسلام کر دے؟ جواب: بظاھر بات معقول لگتی ہے، مگر جب قرآن اور اسلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے- میرے علم کے مطابق دنیا میں کسی مسلم ملک یا مستند علماء میں سے کسی نے حکومت پاکستان کے قادیانی کو غیر مسلم قرار دینے کو غلط نہیں کھا- مختصر جوابات درج ذیل ہیں، تفصیلا جواب نیچے مفصل" تحقیقی جائزہ" پڑھنے سے مل جائیں گے :
1.ختم نبوت کوئی لوکل مسلہ نہیں اس پر چودہ سو سال سے قرآن و سنت کی روشنی میں صحابہ اور علماء کا مکمل اجماع ہے کہ اپ کے بعد کوئی نبی رسول نہیں ہے، جو ایسا دعوی کرے وہ اور اس کو ماننے والے کافراسلام سے خارج ہیں-
2.قادیانی فتنہ بر صغیر ہندو پاک کی پیداوار ہے، لہٰذا اس کا حل بھی ادھر ہی نکالنا ہے- باقی دنیا کو اس فتنہ کی بنیادی وجوہات اوٹ تفصیل کا اتنا علم نہیں ہو سکتا- ان کی کتب ، مٹیریل کثریت اردو میں ہیں جن کا مکمل رکارڈ یھاں موجود ہے جس سے قادیانی انکار نہیں کر سکتے- کسی دور دراز ملک میں قادیانی مبلغین جو پراپگنڈا کریں گے اور قرآن و حدیث کی تحریف شدہ آیات پیش کرکہ ان کو دھوکہ دے سکتے ہیں- اگر مصر، نائجیریا، انڈونیشیا یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار پیدا ہوں تو وہ ممالک ہی ان کا سدباب کریں گے ہم کو شاید اس بات کا علم بھی نہ ہو سکے-
3.قرآن و سنت کا علم تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے مگر چند صدی قبل جو اسلامی تحقیق انڈیا پاکستان میں ہوئی اور جو علماء یھاں پیدا ہوۓ اس کی مثال مشکل ہے- یہ بھی ایک وجہ ہے کہ قادیانیت کے فتنہ کا رد بھی مدلل طریقه سے یہیں ہوا اور ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا-
4.اس دور میں دنیا میں اکثریت دہریہ atheists اور مسیحی مذھب والے ہیں، جو اسلام کو نہیں مانتے، ہم کو ان کی پرواہ نہیں، دعوه اسلام کی کوشش کرتے ہیں، الله کا فرمان ہے:
".. جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا(قرآن 17:15)5.مسلمان تمام انبیاء اور تمام الہامی کتب پر ایمان رکھتے ہیں- قرآن کے مطابق قرآن کی آیت کا انکار کرنے والا کفر ، ظلم کرتا ہے اور عذاب کا مستحق ہے۔ الله قرآن میں اپ صلعم کو ختم النبیین ، آخری نبی قرار دیتا ہے، جو اس آیت کا انکار کرتا یا تحریف کر کہ کوئی نیا مطلب نکلتا ہے وہ قرآن کا کفر کرتا ہے اور مسلمان نہیں ہو سکتا-
قرآن کی آیت کا انکارکفر ہے، صرف چند آیات پیش ہیں: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo (الاحزاب، 40) ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ( النساء-136 ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا ( النساء-136 )وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ( التغابن-10) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے- وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ (المائدہ-10) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔"پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔"(قرآن ، سورت الانعام، آیت نمبر 157)
....................................
سوال #2: بہت سے مسلمانوں کے ذہن میں ایک سوال کانٹا بنا ہوا ہے کہ قادیانیوں اوردیگر غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟
ایسی کونسی بات ہے جس کی وجہ سے قادیانیوں کو دوسرے غیر مسلموں سے زیادہ برا قرار دیا جاتا ہے؟
مسلمانوں کو دوسرے غیر مسلموں سے میل ملاپ اور ضروری تعلقات اور کاروبار کی بقدر ضرورت اجازت ہے مگر قادیانیوں کے ساتھ ایسی کوئی اجازت نہیں ہے؟
سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ:
قادیانیوں میں اور دوسرے کافروں ( غیر مسلموں) میں کیا فرق ہے؟
پہلے کفر کو سمجھ لیں ، یوں تو کفر کی بہت سی قسمیں ہیں مگر کفر کی تین اقسام بالکل ظاہر ہیں۔
(1) مطلق کافر:
وہ ہے جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو یا اعلانیہ کفر کا مرتکب ہو۔ اس قسم کے کافر کو مطلق (کھلا) کافر کہتے ہیں۔ اس میں یہودی، عیسائی ، ہندووغیرہ سب داخل ہیں۔ مشرکین مکہ بھی اسی قسم میں داخل تھے اور مطلق کافر تھے۔
(2) منافق:
دوسری قسم والے کو منافق کہتے ہیں جو زبان سے ''لا الہ الا اللہ'' کہتا ہے مگر دل کے اندر کفر چھپاتا ہے۔
(3) زندیق:
ان منافقوں سے بڑھ کرہے اور اس تیسری قسم والوں کا جرم ہے کہ وہ کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ خالص کفر لیکن یہ اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں ''زندیق'' کہا جاتا ہے ۔ قادیانیوں کا تعلق اسی قسم سے ہے ۔
اب اسی بات کو عام زبان میں سمجھتے ہیں-
قادیانی زندیق ہیں، مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لے ۔اور زندیق وہ ہوتا ہے جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے ، لہذا یہ لوگ اسلام کے باغی ہیں،اور جس طرح کسی ملک کاباغی کسی رو رعایت کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ ان لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں وہ بھی قابل گرفت ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح چونکہ قادیانی بھی زندیق ہیں تو اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی رو رعایت اور میل ملاپ کے مستحق نہیں۔ دوسرے کافر اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اور مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں، جبکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد پر ملمع سازی کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں-
مثال سے یہ بات سمجھئے:
سب کومسئلہ معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے۔ شراب کا پینا، اس کا بنانا، اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں ۔اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے یہ بھی مجرم ہے، اور ایک دوسرا آدمی ہے جو شراب فروخت کرتا ہے اور مزید ستم یہ کرتا ہے کہ شراب پر زمزم کا لیبل چپکاتا ہے یعنی شراب بیچتا ہے اس کو زم زم کہہ کر، مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کافرق ہے۔
ایک حرام کو بیچتا ہے۔ اس حرام کے نام سے ، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے اور دوسرا اسی حرام کو بیچتا ہے۔ حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہوسکتا ہے ۔ٹھیک یہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوئوں ، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔ کفر ہر حال میں اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے تمام کافر اپنے کفرپر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کافر ہونے میں بھی کوئی شک نہیں، اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں ۔مگرقادیانی کافر ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جی!
ہم تو ''جماعت احمدیہ'' ہیں۔
ہم تو مسلمان ہیں
لندن میں اپنی بستی کا نام رکھا ہے''اسلام آباد'' اور کہتے ہیں کہ جی ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔
جی! ہمارے تو شرائط بیعت میں لکھا ہوا ہے کہ میں صدق دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔
لہٰذا مرزائی زندیق ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر پراسلام کو ڈھالتے ہیں :
1. ساری دنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
2.دوسو سے زیادہ احادیث ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عنوانات سے، مختلف طریقوں سے ختم نبوت کا مسئلہ سمجھایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی
3.لیکن قادیانی مرزائی تحریف کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر سے نبی بناکریں گے۔اس کے بعد مرزا قادیانی کو نبی بناتے ہیں ۔
4.ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے اور کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مرزا مراد لیتے ہیں۔
5. چنانچہ مرزا بشیر احمد(مرزا قادیانی کا بیٹا ) لکھتا ہے۔''مسیح موعود(مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کیلئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسو ل اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔'' (کلمہ الفصل صفحہ158)
6.گویا''لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' کے معنی ان کے نزدیک ہیں ''لا الہ الا اللہ مرزارسول اللہ'' (نعوذ باللہ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے
7.۔پھر اس پر یہ کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے-
8. چنانچہ مرزا بشیر احمد(مرزا قادیانی کا بیٹا )لکھتا ہے۔''ہرایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کونہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا ہے اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومانتا ہے پر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافربلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمہ الفصل صفحہ110)
9.یہ ہے زندقہ ،کہ نام اسلام کا لیتے ہیں، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآن کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں اور اپنے بہت سے کفریہ عقائد کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں
10.ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو  شراب بیچتے ہیں مگر زمزم کا لیبل چپکا کر
11.اگر یہ لوگ اپنے دین و مذہب کو اسلام کا نام نہ دیتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے کہ ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو ہمیں ان کے بارے میں اس قدر متفکر ہونے کی ضرورت نہ ہوتی۔ (ایران میں بہائی مذھب)
12.قادیانیوں کو یہ حق آخر کس نے دیا ہے کہ وہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول سمجھیں اور پھر اسلام کا دعویٰ بھی کریں؟
13.محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو منسوخ کر کے اس کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریںپھر اس کا کلمہ جاری کرائیں۔
14.مسلمانوں کو کافر کہیں ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی(قرآن کریم) کے بجائے مرزا کی وحی(تذکرہ) کو واجب الاتباع اور مدارنجات قرار دیں اورپھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اورغیر احمدی(یعنی مسلمان) کافر ہیں۔
 
اب ہمارے ذمہ ہے مرتد اور زندیق کے بارے میں اسلام کا مطالعہ کریں- قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،  جو حکومت کا کام ہے اس کو حکومت پر چھوڑیں۔ ہم انفرادی طور پر اس پر قادر نہیں نہ اس کی اجازت ہے۔ ہم کو اپنے ایمان کو بچانا ہے اور مسلمانوں کو تبلیغ کرنا ہے کہ ان کو پہچانیں اور ایمان کی حفاظت کریں-
سوال #3: قادیانی گھر میں پیدا بچے برے ہو کر مرتد تو نہیں کیونکہ وہ تو مسلمان ہی نہیں تھے ؟ جواب :
قادیانی یا تو مرتد ہوں گے ،یا زندیق،  جو اسلام ترک کرکے قادیانی ہوئے وہ مرتدہیں اورجو قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے اور اپنے مذھب کو اسلام کہنے پر مصر ہیں اور ساتھ ہی قادیانی عقائد کو بھی گلے سے لگائے ہوئے ہیں ۔وہ زندیق ہیں اور اسلام میں “مرتد و زندیق” کے احکام عام کافروں سے الگ ہیں۔ لہٰذا یہ دلیلیں دینا کہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی آزادی دی جائے ، انھیں بھی مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ۔یہ درست نہیں ہے ،کیونکہ دنیا میں جعل سازی کی اجازت کوئی بھی قانون نہیں دیتا ۔ مثال کے طور پر کوکا کولا کمپنی کو پتہ چلے کہ کوئی اس کے نام سے جعلی مشروب بنا رہا ہے اور لیبل تو کوکا کولا ہے لیکن اندر جو چیز ہے، وہ اصلی نہیں تو قانون ایسی جعل ساز فیکٹری کو بند کرنے کا پابندہے ۔اگر دنیا میں کسی کمپنی کے ٹریڈ مارک کی اتنی اہمیت ہے تو کیا دین اس سے بھی گیا گزرا ہے کہ کوئی بھی اپنے کفریہ
عقائد کو “اصلی اسلام” بنا کر پیش کرے اور اسے کھلی اجازت دے دی جائے ؟
سوال #4 اہل کتاب سے تعلقات جائز ہیں ان کا ہلال کھانا اور ان کی نیک عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے، تو پھر قادیانوں سے اتنی سختی کیون، جو مسلمانوں کی طرح عبادت کرتے قبلہ کی طرف نماز بھی پڑھتے ہیں؟
جواب : مفصل جواب اوپر ہے ، مختصر جواب :
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ختم نبوت - تحقیقی جائزہ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
انڈکس
 
 
فتنہ مرزیت کا خاتمہ : شیر نواب خان قصوری (1935): https://goo.gl/xgVb6c
............................................................................
مزید پڑھیں >>>
Qadiani Fitna قادیانی فتنہ
ختم نبوت - تحقیقی جائزہ Rebuttle to Qadianis [Ahmedeyya] http://www.allaahuakbar.net/qadianism/INDEX.HTM Magaz...
Source: Qadiani Fitna قادیانی فتنہ

Wilayat-e-Faqih ولایت فقه (شیعہ عالمی خلافت ) کا ایرانی نظریہ


Wilayat-e-Faqih doctrine, a fifth column strategy, has propagated sectarianism in the Muslim world
Image result for ‫ولایت فقہ‬‎

The Arab world came into the hands of non-Arab Ottomans in 1517 with the destruction of Mamluk Dynasty in Cairo and later became colonies, or the protectorate, of colonial powers like Britain, France and Italy. During this era, the Arab world did not get divided into sectarian polarities, as per the Treaty of Amasya, signed on May 29, 1555.
.........................................................................
............................................................

ولایت کے معنی : عربی زبان میں ولایت ماده "ولی" سے هے اور اس کے معنی نزدیکی اور قرب هے- ولایت کے لئے اس معنی کے علاوه مزید دو معانی بھی بیان هوئے هیں، یعنی ۱- سلطنت، زور اور غلبه ۲- رهبری اور قیادت-
والی،مدیر اور نافز کرنے والے کے معنی میں هے، اور اگر یه کها جائے که "فقیه ولایت رکھتا هے" تو اس کے معنی یه هیں که "عصر غیبت میں شارع مقدس کی طرف سے قوانین الهی بیان کرنے،احکام دین کو نافز کرنے اور اسلامی معاشره کا نظم و انتظام چلانے کا کام فقیه جامع الشرائیط کے ذمه هے-" البته بعض لوگوں نے اس معنی میں "ریاست" و "سلطنت" کا مفهوم لیا هے که جو "ولی" کی ولایت رکھنے والوں پر غلبه اور بالادستی کے معنی میں هے- جبکه اس کا مراد ولی کی ولایت رکھنے والوں کی سرپرستی اور ان کے امور کا نظم و انتظام چلانا هے اور یه ولایت کے دائرے میں آنے والوں کی ایک قسم کی خدمت هے- >>>>>

ولایت فقیہ کا نظریہ مغربی سیکولر ازم نظریہ کا بالکل برعکس ہے کہ جس میں دین و مذہب محور ہے جبکہ مغربی سیکولرازم میں مذہب اور سیاست دو الگ الگ میداں ہیں جن کا آپسی کوئی تال میل نہیں ہے۔لیکن ولایت فقیہ سے مراد مذہب اور سیاست کا ایکدوسرے کا مکمل ہونا ہے۔ >>>>

Export of Iran's revolution enters 'new chapter': Iran's top general said  his country has reached "a new chapter" towards its declared aim of exporting revolution, in reference to Tehran's growing regional influence. The comments by Major General Mohammad Ali Jafari, commander of the nation's powerful Revolutionary Guards Corps, come amid concern among some of Shiite Iran's neighbours about Tehran's role. "The Islamic revolution is advancing with good speed, its example being the ever-increasing export of the revolution," he said, according to the ISNA news agency. "Today, not only Palestine and Lebanon acknowledge the influential role of the Islamic republic but so do the people of Iraq and Syria. They appreciate the nation of Iran." He made references to military action against Islamic State (IS) jihadists in Iraq and Syria, where the Guards have deployed advisers in support of Baghdad and Damascus.  "The phase of the export of the revolution has entered a new chapter," he added, referring to an aim of Iran's 1979 Islamic revolution.>>

-----------------------------------------------------------------

When Arabs got the chance to self-rule in the 20th century, they did not succumb to sectarian warfare in the post-colonial era. Rather the Arab world moved towards a secular Pan-Arab political identity led by Gamel Abdul Nasser and proposed by Syrian Christian Michel Aflaq. In this regard, different attempts were made to unify Arab states, like United Arab Republic, United Arab Federation, Arab Islamic Republic and United Arab Emirates, with only the last attempt being successful.

In the post-colonial era, modern-day Iraq and Syria were represented by minority regimes, i.e. Sunni dictator Saddam Hussain and Alevi Shia dictator Hafez-ul-Assad. There was no sectarian warfare in post-colonial Arab world till that time, since the Arab world was divided into two distinct camps; one was pro-Arab competing with a pan-Muslim identity. The former was represented through the Arab League on a foreign level, and domestically through Baath party, PLO and dictatorial regimes who were enjoying popular support through their anti-Israel rhetoric.

The Pan-Muslim political identity was represented by Muslim Brotherhood, which was under suppression under dictatorial regimes and hence could not successfully flourish to its full potential. It is believed that Kingdom of Saudi Arabia (KSA) is very much involved in fuelling sectarian warfare in the Muslim world; but the fact is, KSA was there in 1932 and even in 1970s but such allegations were not leveled against it and there were no reports of sectarian warfare being fueled in or outside the Arab world by KSA. Rather the KSA gave refuge to its immediate threat, the members of Muslim Brotherhood during Gamel’s era.

The sectarian warfare in Muslim world initiated with the end of Iran-Iraq war, which was aimed against the first post-colonial sectarian based Islamic state, Iran, by the in-command pan-Arab polity, for whom, first sub-sectarian Islamic State was a security threat. Majority of the Arab countries were supporting Iraq’s assertion on Iran.


Sunni majority Arab countries like, Libya, Lebanon, Kuwait and even the Iraqi Sunni Kurds supported Iran against Iraq, which clears the notion that it was not a sectarian war for Arabs. For Iran, it was a matter of survival. Driven on the basis of sectarian identity the aggression was taken as sectarian war by the first sect-based Islamic State of modern era. In short, it was a war between those who believed in Arab identity and those who believed in sect-based identity and as a result, gave rise to sectarian identity overtaking the Arab identity.

However, with the territorial stalemate as a result of the Iran-Iraq war, and Sunni Kurds role within Iraq, Iran recalled the strategy of fifth-column warfare which was used by Saffavid dynasty of Persia against Ottomans by using Qizalbash to weaken the Ottoman dynasty.

In the aftermath of Iran-Iraq war, Iran vigorously initiated its political agenda in the Muslim world, and supported organizations which worked as fifth column, (وطن دشمن,غدار ،وطن فروش) provoking sectarian identity in the Muslim world, which was detrimental to the unity of Muslim countries including those in the Arab world. Following this, KSA used the term of “Khadim-e-Harmaen- Sharfaen” for its political objective and also facilitated organizations to counter the segments of societies being affected by the influence of Iran’s sectarian political identity.

Since Shia Muslims live in almost every country of the Muslim world, their loyalties could only be questioned by exploiting the sectarian card. The strategy of creating a fifth-column i.e. using sect-based groups to undermine dominant groups either in favor of Iranian influence or towards weakening the political unity of other states, has proven successful and in favor of Iran.


In this lieu, different Muslim countries witnessed Shia political awakening on the basis of sectarian identity.


Whether it is the proscribed Tehreek e Jafria Pakistan (Shia Ulema Council), which is politically affiliated with the Islamic Council of Iran having representation in Gilgit-Baltistan assembly of Pakistan, or the pro-Iran Islamic Movement of Nigeria  in West Africa, all have one thing in common, i.e., allegiance towards Iran’s doctrine of Wilayat-e-Faqih in which faqih is the political representative of Shias around the world.

Iran’s doctrine, in one of the most important country of Arab world, i.e. Egypt, is evident by the fact that a road in Iran is named after Khalid Islambouli, a member of Islamic Jihad Movement, who assassinated Egyptian president Anwar Sadat. The appreciation of an assassin by Iran shows how it implements the policy of fifth pillar in Arab countries, i.e. by creating heroes and influencing in the domestic policies of other states. For Iran, Islambouli’s execution was the execution of the fifth column in Egypt, which was consciously or subconsciously working for Iran’s political ambitions in the Muslim world.

Even the western African country Morocco is inflicted by Iran’s policy of supporting groups which can fulfill the role of fifth-column. This can be seen in its recognition of Sahrawi Arab Democratic Republic on Moroccan territory.

On Jan 2016, a Saudi Shia citizen and cleric Nimr-al-Nimr was executed on orders of KSA’s Supreme Court, despite failed appeal on the charges of rebellion against the state. Nimr was schooled in Iran and was the leading Shia cleric involved in stirring an uprising on the basis of sectarian identity. However, KSA which in the past has also executed ruling family princes, received a hostile reaction from Iran against the execution of Nimr. It was the first time in post-colonial Muslim history that the embassy of a country was attacked by the population of another Muslim country. As a result KSA diplomatic staff had to leave the country.

Taking action against its own citizen as per law is the right of every sovereign country, but why was Iran so concerned about the execution of one Saudi citizen? For Iran, it was the execution of a representative of the fifth-column in KSA being actualized under sectarian card in favor of Iran at the expense of KSA’s territorial integrity.

The role of Hezbollah in Lebanon, Syria under Bashr-ul-Asad, Houthi-Shias in Yemen, is self-explanatory about the creation of fifth column within these states which are weakening these states. This policy has created states within a state and triggered civil warfare. Today, Iraq is very much under the influence of Iran, and being a Shia majority, there is no need to create any fifth column there.

Today, a pro-Iran Shia sitting in USA or France may pick up arms against their own country, if the seat of Wilayat-e-Faqih sanctions such fatwa. This is an exact replication of what adherents of Abu Bakar Baghdadi are capable of around the world. The doctrine of Wilayat-e-Faqih works in parallel with the strategy of fifth-column warfare which weakens other states from within, while making inroads in them through divisions based on sectarian identity.

The world is witnessing rapid changes, where it has to face narratives which are detrimental for the nation-state system which emerged after the 1648, Treaty of Westphalia. The political allegiance to a person, who is sitting at the head of affairs of state, in an alien country is more detrimental in the era of globalization and information age, for every sovereign state.

The transition of nation-state system into post-nation state system has already started with the paradigm shift in sources of power, i.e. from states to corporations and now has transcended into ideologically driven political entities, having no boundaries unlike states.

In early 20th century, the ideology of communism was used for creating fifth columns around the world. Adherents of Karl Marx’s ideology were united under the leadership of USSR and politically motivated for regime changes in favor of pro-Soviet camp, around the world.

In essence, sectarianism has nothing to do with religion; rather political motives instigate it, and the establishment of any state on the basis of any specific sect or ideology, will only result in political instability in the region.

Sunni or Shia identities are in essence political in nature and have evolved over a historical narrative; one can be a Muslim without being Sunni or Shia. There was no Shia or Sunni Muslim until the death of Hazrat Ali (R.A).  These political identities gradually emerged with the shifting of capital from Damascus to Baghdad under the Abbasid dynasty.

The first sub-sect-based Islamic state i.e. Iran, in post-colonial Muslim history, needs to find communities around the world, to work as fifth column in other countries. This fifth column strategy is the exact replication of USSR’s policies in 1960s and 1970s around the world i.e., to spread and support communists across the globe.

Iran never violated, and will never violate, territorial integrity of any country; since it has learnt a lesson from USSR’s collapse, but, it will be using organizations in other countries to trigger the failure of states and intends an indirect control which is feasible and effective in this era of globalization.

The Iranian diaspora spread around the world, must focus on the resurgence of a new Iran which should be the symbol of unity of Muslims around the world and not of any specific sub-sectarian identity group. For which, it has to abandon the doctrine of Wilayat-e-Faqih and learn from the policy of Sistani of Iraq.

As Iran has lost respect in Muslim world by affiliating itself to one sub-sectarian group and is a continuous threat to the same group it claims to represent, where they are in minority like, Pakistan and KSA.

The risk associated with this ideologically driven sub-sectarian Islamic State is massive and other Muslim countries must monitor the people of Twelver-Shia adherents that they do not follow the political narrative of the seat of Wilayat-e-Faqih of sub-sectarian Islamic state. Otherwise, people like Nimr, and proscribed organizations like TJP, and its rival entities like ASWJ and SSP, will keep on emerging and will be more dangerous for the identity of any country. If this continues, the states will be focused on sectarian issues rather than progressive agendas.

If state fails to do so, the rise of organizations like SSP, MDM or ASWJ is inevitable and they are more capable of winning the seat in any constituent assembly, if sectarian identities are allowed to flourish. Those who believe in sectarian identity should be left to move towards countries which believe in sectarian identity, Pakistan should ensure it refrains from an identity which revolves around any sect.

This is the way forward for a strong Pakistan, and Islam should be incorporated with consultation of a modern interpretation of the religion and not on the basis of any specific school of thought, with an open room for revision of any belief or practice.

Muhammad Malhan Auj, is an IoBM alumni and is pursuing his studies in International Relations at University of Karachi. His areas of interest include religion, finance, politics and social issues. He can be reached at malhan.khan@gmail.com.  Follow him on Twitter.

See comments: http://nation.com.pk/blogs/16-Dec-2016/wilayat-e-faqih-doctrine-a-fifth-column-strategy-has-propagated-sectarianism-in-the-muslim-world

Sufyan Abid (University of Chester),An Alternative umma: The Construction and Development of Shia Globalism among South Asian Shia Muslims in London

This paper explores the paradoxical nature of Shia globalism as proposed and propagated by Shia speakers and activists of a South Asian background in London. The paper will elaborate the complexities that the proponents of Shia globalism have to confront with while introducing themselves as an alternative umma vis-á-vis Sunni Muslims. The paper discusses the negotiations and compromises that proponents of the idea of “Shia Muslims as an alternative umma” experience while they present it publically. The paper is based on fieldwork undertaken among South Asian Shia Muslims living in London and the analysis is based on both discourse and religio-political practices undertaken by these Muslims. The idea of Shia globalism brings itself in the spotlight by denouncing terrorism and by showing solidarity with the West’s “War on Terror” against various terrorist organisations of Sunni inclinations across the world, yet at the same time, it creates its space within the Muslim world by showing strong solidarity with the Palestinian cause by demonstrating severe opposition to Israel. The Shia speakers and activists based in Britain emphasise unity and consensus about the political leadership of the Supreme Leader in Iran as single representative of global Shia Islam. The paper argues that idea of “Shias as an alternative umma”has many conflicting and divergent points where the “alternative umma” compromises the interests of either the Sunni Muslims or the West. The paper also maintains that Shia globalism is not an acceptable position for some sections of Shia Muslims who have their reservations about the hegemonic ambitions of the Supreme Leader in Iran and about the ideology and institution of wilayat al-fiqh (guardianship of the Muslim jurist).
https://www.google.com.pkXXX
As google Doc
https://www.al-islam.org/shia-political-thought-ahmed-vaezi/what-wilayat-al-faqih
.......................................................................................
ولایت فقیہ کا نظام ایران تک محدود رکھا جائے‘‘
حزب اللہ، اخوان المسلمون تنہا اسلام کے نمائندہ نہیں:
 لبنان کے ایک ممتاز شیعہ مذہبی پیشوا السید علی الامنین نے کہا ہے کہ ایران کے ولایت فقیہ کا تعلق کسی مخصوص سیاسی مکتب فکر سے نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ولایت فقیہ کے نظام کو ایران سے باہر کسی دوسرے ملک میں بھی نافذ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ اس نظام کو ایران کے اندر تک ہی محدود رکھا جائے۔
السید الامین کا کہنا تھا کہ میں نے ایرانی نظام کو سنہ 1980ء میں مسترد کر دیا تھا۔ ریاست کی کمزوری کے باعث لبنان میں ایرانی نقطہ نظر کو تقویت ملی۔ میرے خیال میں چونکہ ریاست پوری قوم کے لیے چھتری کی مانند ہوتی ہے، اس لیے فیصلہ کن اتھارٹی بھی ریاست ہی کے پاس ہونی چاہیے‘‘۔
 ایک سوال کے جواب میں لبنانی شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ مختلف مذاہب اور ادیان کے درمیان باہمی ربط ملکوں اور اوطان کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم ایرانی نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ شام کے میدان جنگ سے خود کو الگ کرے
 ایک دوسرے سوال کے جواب میں الشیخ علی الامین کا کہنا تھا کہ اقوام کبھی بھی اشتعال انگیز تقاریر سےمستفید نہیں ہوتے اور نہ ہی جلتی پر تیل چھڑکنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ جس طرح اخوان المسلمون تنہا سنی اسلام کی نمائندہ نہیں، اسی طرح حزب اللہ بھی شیعہ مسلک کے پیروکاروں کی اکلوتی نمائندہ نہیں ہے۔ دنیا میں ان دو کے علاوہ اور بھی جماعتیں موجود ہیں جو دین اسلام کی خدمت کرتی ہیں۔ ان کی اتباع بھی ضروری ہے۔
انہوں نے عرب ممالک میں جاری موجودہ کشیدگی کو محض سیاسی قرار دیا اور کہا کہ عرب ملکوں میں شورش مسلکی یا مذہبی تصادم نہیں بلکہ اس کے سیاسی محرکات ہیں۔
 شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ صدیوں سے مسلمان شیعہ اور سنی مسلک کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کو اپنائے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ ماضی میں کبھی شیعہ اور سنی کی بنیاد پر کوئی فساد نہیں ہوا ہے۔


In the final analysis, I would say that one may do taqlid of any of the marمji'-e taqlid in all matters; but since they are silent or have no opinion on political issues and on issues related to the Islamic Movement world-wide, one should follow the Wali-e faqih of Iran who is best suited to guide on such issues. [ http://islam-laws.com/articles/waliefaqih.htm]

Lebanese  (Pakistani or any non shia country) Sovereignty, and Wilayat Al Fiqh
It will be a good idea to revist the comparative analysis between the radical religious groups that operate in the region and primarily Islamic Jihad the radical section of the Muslim Brotherhood founded in Egypt by Hassan Al Banna, and the same group that HAMAS originated from, they are also believers in an Islamic umma of Shiites and Sunnis based on Jamal el Din Al Afghani ideology, This organization has a strong support by Iran, whose role is to finance and instigate the Islamic Revolution of the "opressed".

Jewish Fundamentalism and Islamic Fundamentalism:

Jewish Religious groups are divided into two distinctly different groups the more extreme group called the Haerdime, and the members who are more religiously moderate are called the religious national Jews. The Haredim(ultra Orthodox) which is derived from the word hard meaning God fearing, evolved during the nineteenth centaury with the Jews in Diaspora, in opposition to modernization, and the rising number of secular Jews. In Israel these groups are divided into the Shas, the party of oriental Haredim the Mezrahis, and Yahadut ha’Torah( Judaism of the law) that is the party of the Ashkenazi Haredim. The Haredim want Israel to be ruled by Jewish Law, and they reject secularism and the separation of the state and religion. They disagree with Zionism on certain principles, the most important is related to a Talmudic passage where God is said to have imposed on the Jews, three oaths two of which contradict Zionism, 1) The Jews should not rebel against non-Jews, 2) The Jews as a group should not massively immigrate to Palestine before the coming of the Messaiah. 

Muslim fundamentalism emerged during the late nineteenth and early twentieth centaury as an intellectual movement calling for the revival of Islam. The modernists were led by Iranian Shiite Jamal el-Din Al-Afghani (1849-1905) and Rashid Rida (1865-1935), and Mohamed Abduh, (1849-1905). Abduh for example had strong opinions about the rights of women, as he argued on banning polygamy, as an act of justice.
AL-Afghani’s work emphasized on pan-Islam, Al-Afghani called for the regeneration of Islam and the return to the original text, following the steps of Afghani, Rida developed an intellectual reformist group that was called the Salaf el-Saleh,, who somehow resemble in their belief of the return to original texts of the Koran the Ultra Orthodox Jews.
The Haredim, could be easily called the Jewish Salaf, they wear traditional old cloths and the black hat and refuse to adjust to the forces of European modernity. These two groups are not necessarily violent and they are mostly religious fundamentalist groups that call for the utilization of religious law based on the original texts and their interpretations.
In Judaism the interpretations of the Torah is called the Talmud, and in the Muslim faith, there are four schools of interpretations for Sunni Muslims and one for the Shiites. This difference in the application and the interpretation of the Koran between the Sunnis and the Shiites makes them fundamentally distinct from each other, since the application of the interpreted Koran adheres to different rules, laws and regulations, and different outcomes of legislation. It will be correct to say theoretically that Shiites and Sunnis are two different religions because they adhere to two fundamentally different schools of law and politics that they somehow give the status of divinity to. They are however both an offshoot of Mohamed’s  (pbuh) message the Koran. In the same way there are all these other sects that exist in the Middle East which are offshoots of Mohamed’s message: the Baha’is, who are twelver Shiites, believe that the Bab is the twelfth Imam the awaited Mehdi, and Bahaullah is a messenger from God, they believe in the Koran and Mohamed (pbuh) . The Druze, who were Shiites during the Ismaili Fatimide Dynasty, and believes that Al-Hakim was a reincarnation of God, the Sunnis and the Alawites are as well off, shoots of Mohamed’s message. 

Of the Israeli Jewish fundamentalists groups who adhere to violence is the radical ultranationalist right, the religious group Gush Emunim, which was an Israeli political movement that sprang out of the conquests of the Six Days War. It encouraged settlements of land, which they believe that God has allotted for the Jews. Yigal Amir’s Assassination of Yitzhak Rabin, was a result of a process of delegitimization of the Israeli government by the group Gush Emunim in response to the Oslo Accords, in which the government agreed to the principle of territorial compromise with the Palestinians. Amir acted alone based on his belief that this was a call from God. The assassination was actually a result of what could be called in the terminology of the Islamic fundamentalists a fatwa. The heads of Yesha’s rabbinical council decided to put the Israeli government on trial, where they issued a “fatwa” legitimizing the killing of Rabin based on a religious law called din rodef and din moser. A moser and a rodef according to the Halacha are the worst kind of Jews. A moser is a Jew who will provide information to the gentiles about the Jews or giving away sacred Jewish property, which in this case is the biblical land of Israel, accordingly Jews are obliged to kill a moser. A moser in Hezbollah’s terminology could easily be called a collaborator. Rabin was assassinated based on the religious “fatwa” that legitimized his assassination by the radical right Jews. Gush Emunim condemned the assassination as an individual act and that is why it had avoided a ban from Israel’s political life. Conversely, the Kach Party of Meir David Kahane, who was a Rabbi and a member of the Israeli Kenesset and founder of the Jewish Defense League in the United States, was banned from participating in the Israeli government and his group is categorized as a terrorist organization by both Israel the United States and Canada. Goldstein and based on a religious call that was endorsed by the political religious movement committed the Hebron massacre, as a reaction to the Oslo Accords 1993. The massacre was not political-military revenge; Goldstein was engaged in kidush hashem, as sanctification of God’s name. 
Radical Islamic fundamentalism, started as an intellectual movement in Egypt, and as a revolutionary radical movement in Iran. In Egypt Hassan Al-Banna founded the Organization of the Muslim Brotherhood, which preached a political version of Islam, that promoted Islam religiously, economically, socially and culturally as the only alternative of westernization. The movement started as a response to Arab nationalism, where unity between Muslims was not based on national origin but based on Islam. The Assassination of Hassan Al-Banna during the era of the monarchy, and the later execution of Saed Qutb his disciple by Nassir made the movement go underground and were the primary causes of its radicalization. The movement was radicalized during the 70’s and adopted a militant approach with its militant off spring Islamic Jihad, which emerged after the Camp David Accords between Egypt and Israel. The assassination of Anwar Sadat was the culmination of this radical movement delegitimization of the Egyptian state and the peace with the Jews as enemies of Islam. The assassination according to the radical Islamists could also be called a din moser, since Sadat was the moser of the Muslims and killing him was a religious call.
Khomeini and the Iranian Revolution represent the Shiite version of the same radical ideology that adopts Jihad, hostage taking, airplane hijacking and murdering civilians as a religiously justified militant act to achieve a political claim.
In Iran, the Islamic State that is run by the Jurists of Islam is what actually stands for Wilayat Al-Faqih, a Wilaya that supports the radical approach of militants to achieve political positions under the pretext of Jihad, thus a call of God. Consequently, Iran supports rebels, who are in opposition for states, and it is primarily in opposition to peace with Israel, not based on the principle of Iranian and Israeli, but based on the idea of a Muslim war against the Jews. This Wilaya, and here I would like to repeat myself, adheres to a revolutionary course of action that rejects the idea of nation-state, and civil legislators and the separation of state and religion; only the jurists who are the clergy are acceptable legislators in Wilayat Al-Faqih. 

Radical Islam as well as radical Judaism reject the idea of peace, and legalize violent actions against individuals and groups who initiate peace between Muslims and Jews and vice versa. This rejection to peace is stemming directly from one’s perception that the other’s religion is inferior to his own, which consequently legitimize the killings of civilians by each of these radical religious fundamentalists or terrorists of the other religion, by claiming that it is an act directed by God. This premise was central to my argument in the article above. Hezbollah within this context falls under the category of radical Islamists who adhere to violence against the Jews- the Zionists, whatever you prefer to call them- as a method for achieving a political objective prescribed by Wilayat Al-Faqih over all Muslims wherever they reside.
................................
The first conflict that faces the Lebanese constitutional government with the participation of Hezbollah in the Lebanese government is that Hezbollah operates as a military branch of the Iranian Revolutionary Guard that is ruled by the constitution of Wilayat Al-Fiqh as formulated by Ayatollah Seyyed Ruhollah Khomeini. Khomeini’s Islamic Government is a theory of governance that is founded on the governance of the religious jurists. This line of thinking became fundamental to Shiite thought since the implementation of the Iranian constitution in 1979. According to Khomeini, since the only true Islamic state that will ever come is the one that will be ruled by the twelfth Imam upon his return, a necessity exist for the jurists of Islam to presume the role of the Islamic leadership and thus the Caliph. Al-Sayyed Hassan Nasrallah Hezbollah’s secretary General was educated in Najaf in Iraq and then ousted by the Iraqi government. He then went on to study in Qum in Iran, where he became very close to Khomeini. He used to be known as the most faithful disciple of Khomeini, and was called the Khomeini of Lebanon. Hezbollah is a universalistic Islamic movement that rejects the separation of the state and religion as principled in the Iranian Constitution.
Hezbollah accepted Khomeini as the deputy of the hidden Imam and as divinely empowered to legislate over the fate of al Mustadafoun, the oppressed, and the dispossessed. 
Nasralah insisted in his speeches to his Lebanese followers that loyalty to the Islamic leadership in Iran did not contradict the Lebanese citizenship and the Lebanese Constitution, since Islam extended beyond national borders of the state. Thus, Nasrallah has created an entity of Lebanese followers who are dual citizens. They are the citizens of Wilayat al-Fiqh to which they vow the first allegiance, as the state of the divine, where legislations are promulgated by self-installed divinely inspired jurists, and the second citizenship is the Lebanese citizenship to which loyalties could be overruled by the divine command of Iran. 

One of the main characters of the Islamic revolution in Iran is the idea of the revolution of the oppressed on Earth. The objective of supporting all revolutionary rebellions from oppression is a guiding principle and objective for the raison d’état of Iran. The Constitution of Iran makes this objective as the guiding principle of the Iranian State.
“Article 2. 5. Continuous leadership (imamah) and perpetual guidance, and its fundamental role in ensuring the uninterrupted process of the revolution of Islam”; article three goes on to describe the procedure for the implementation of these objectives
“3.15.the expansion and strengthening of Islamic brotherhood and public cooperation among all the people;
3.16.framing the foreign policy of the country on the basis of Islamic criteria, fraternal commitment to all Muslims, and unsparing support to the mustad'afiin of the world.
Lebanon served as a fertile ground for the expansion of the Iranian expansionist agenda of a centralized divinely ordered Islamic state, with its capital as Tehran. Iran’s former Ambassador to Lebanon Hojjatoleslam Fakher Rouhana stated that Lebanon is a platform from which different ideas have been directed to the Arab World, thus an Islamic movement in the country will result in Islamic movements throughout the Arab world.....
.....................  Hezbolah does support Islamic resistence organizations within other states, some are Sunnis like Islamic Jihad and HAMAS, these people have an agenda of a war with the west, that is the Crusaders and Christianity, and Zionism that is the Jews. This is the situation with these radicals, and I must say any one who supports a man like Ahmed inejad is someone who is out of touch with reality and believes in him self as the super man, such people as we must not forget the cases of Hitler and Saddam, those who think that they are above all are normally found in a hall underground.

[Read full discussion at this link: https://www.oroom.org/forum/threads/lebanese-sovereignty-and-wilayat-al-fiqh.8588/page-3]
--------------------------------------------------------------------------------------

ولایت کہتے ہیں حکومت کو اور فقیہ کہتے ہیں اس شخص کو جو دین میں درجہ اجتہاد پر فائز ہو اس کے ساتھ ساتھ عادل ہو، عاقل ہو اور دنیا کے مسائل سے آشنا ہو۔ پس ولایت فقیہ کا مطلب ہوا فقیہ اور مجتہد کی حکومت۔


ولایت فقیہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں


ولایت فقیہ سے کیا مراد ہے؟ مختصر اور علمی جواب دیں۔

old.tvshia.com/.../610-ولایت-فقیہ-سے-کیا-مراد-ہے؟-مختصر-اور-...

"ولایت " عربی زبان میں " ولی " کے مادہ سے لیا گیا ھے ۔ یھ مادہ عربی زبان کے لغت شناس ماھروں کے اعتراف کے مطابق صرف ایک معنی رکھتا ھے " ولی " کے معنی ...


دین ملا فی سبیل اللہ فساد: چند ایران نواز پاکستانی شیعوں کی ایل یو بی پی پر تنقید – عامر حسینی  
https://lubpak.com/archives/318926
پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کے دائیں بازو کے مولویوں کے تین بڑے گروپ ہیں جن کو ہم ایران میں اسلامی انقلاب کے قائد حوزہ علمیہ قم کے سید روح اللہ خمینی اور ان کے دیگر حامیوں پر مشتمل مذهبی پیشوائیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریہ ولایت فقیہ کے حامیوں کے گروپ کہہ سکتے ہیں اور یہ پاکستان کے اندر بهی ولایت فقیہ کے ایرانی نظریہ کو روشنی میں اسلامی انقلاب لانے کے داعی ہیں ،ان میں سے ایک گروپ کی سربراہی اس وقت علامہ جواد نقوی کررہے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے پاس ہے اور تیسرے گروپ کی قیادت علامہ ساجد علی نقوی کے پاس ہے

پاکستان میں شیعی اسلامی سیاسی انقلاب لانے کی ان کوششوں کا آغاز سنہ اسی کے عشرے میں اس وقت ہوا تها جب جنرل ضیاءالحق نے پاکستان کے اندر جمہوریت اور جمہوری طاقتوں کو شکست دینے کے لیے مذهبی فرقہ پرست شرعی قوانین نافذ کئے- اپنے دیوبندی نظریات کی وجہ سے جنرل ضیاء نے نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری پراکسی وار میں سعودی کیمپ جوائن کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کے اس فیصلے کے خلاف شیعہ کمیونٹی کے دائیں بازو کے ایک اس حصے نے جو ایران کے اندر انقلاب کے خمینی شیعی ماڈل سے متاثر ہوچکنے کے بعد پاکستان میں زمینی حقائق کے برعکس اس ماڈل کا نفاز کرنا چاہتا تها ایرانی کیمپ جوائن کرلیا
پاک و ہند کی شیعہ کمیونٹی کے لیےیہ فیصلے انتہائی تباہ کن اور ایک طرح سے پاکستان ، سعودی عرب و دیگر گلف ریاستوں کی جانب سے پاکستان کو اپنی سٹریٹیجک پالیسیوں کے لیے میدان جنگ بنانے کے فیصلے کو موثر ثابت کرنے کے مترادف تھے

پاکستان جس میں ٦٠ فی صد اہل سنت بریلوی ،٢٥ فی صد دیوبندی ، ٥ فیصد اہل حدیث اور ١٥ فی صد شیعہ ہیں (یہ اعداد و شمار ریجنل پولیس افیسرز کے پاس موجود سینسز کی بنیاد پر بیان کررہا ہوں) وہاں پر ایران میں انقلاب کی متنازعہ شکل کے ایک ماڈل کو بنیاد بناتے ہوئے شیعی سیاسی انقلاب اور اور اس پر سیاسی پارٹی بنانا خطرناک مثالیت پسندی اور خواب پرستی کی ایک انوکهی مثال تهی اور آج بهی اس فلسفے کے تحت پاکستان کے اندر سیاسی جدوجہد کرنے والے ایک طرح سے یوٹوپیا کا شکار ہیں

ویسے بهی میرے اپنے خیال کے مطابق سیاست میں فرقہ کی بنیاد پر سیاست نے مڈل ایسٹ ، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں امن اور سیاسی استحکام کی منزل کو بہت دور کردیا ہے

بہرحال پاکستان میں ایران کے آیت اللہ سید روح اللہ خمینی کے نظریہ ولایت فقیہ جوکہ ایران کے آئین کا بنیادی جزو بهی ہے کی بنیاد پر سیاسی عمارت کهڑے کرنے والے ان تین مذکورہ بالا پاکستانی گروپوں کے اپنے اپنے خیال کے مطابق سید جواد نقوی یا سید ساجد علی نقوی یا راجہ ناصر عباس پاکستان میں امام منتظر قائم آل محمد مهدی علیہ السلام کے نائب ایرانی ولی فقیہ کے نائب ہیں ویسے تو سید حامد علی موسوی کا گروپ بهی سید حامد موسوی کو نائب امام پاکستان کے اندر خیال کرتا ہے

علمائے اہل تشیع میں نوآبادیاتی نظام سے قبل اور نوآبادیاتی دور و بعد از نوآبادیاتی دور میں غیبت امام زمان کے بعد سے یہ تصور رہا کہ امام زمانہ غیوبت میں بهی ملت اہل تشیع کی رہنمائی فرماتے ہیں اور ان کے معاملات فقہی و شرعی میں ان کی طرف سے یہ فریضہ علمائے شیعہ کے پاس ہے لیکن یہ کوئی کسی کو باقاعدہ نیابت امام سونپے جانے والی بات نہیں تهی جو بهی مجتهد فی المذهب کی شرط پر پورا اترے وہ نیابت امام کا اہل ہے لیکن اس سے مراد اس مجتهد کا سیاسی انقلاب برپا کرنا نہیں تها بلکہ علمائے اہل تشیع کی اکثریت نے ظہور امام غائب تک اپنے آپ کو سیاسی معاملات مین رہنمائی و مشاورت تک وہ بهی اگر کوئی چاہے تو محدود کرلیا تها

لیکن سید روح اللہ خمینی سمیت کئی ایک علمائے ایران نے ولائت فقیہ کے نام سے ایک نیا تصور نیابت امام پیدا کیا اور اگر بغور دیکها جائے تو اپنے مواد اور هئیت کے اعتبار سے سارے کے سارے دلائل وہ تهے جو ہم اسی زمانے میں عراق کے علامہ باقرالصدر، مصر میں تشدد پرست تحریک کے قائد سید قطب اور پاکستان میں جماعت اسلامی کے سید مودودی کے ہاں پاتے ہیں

آیت الله خمینی کا نظریہ ولایت فقیہ ایک طرح سے امام زمانہ کے کلی سیاسی اختیارات کی منتقلی نیابت کے نام پر کسی ایک شیعہ عالم کو کرنے کا نام ہے اور بعض مخالفین ولایت فقیہ کے ہاں یہ اپنے جوہر کے اعتبار سے صفت معصومیت کو اہلیت حکمرانی و ولایت روحانی و سیاسی کی شرط قرار دینے سے انحراف کا نام بهی ٹهہر جاتی ہے

خیر مجهے ان مباحث کا یہاں تذکرہ اس لیے تفصیل سے مقصود نہیں ہے کہ میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ ولایت فقیہ کی جو تشریح خمینی صاحب اور ان کے رفقاء کرتے ہیں وہ ٹهیک ہے یا وہ ٹهیک ہے جو ان کے مخالفین کرتے ہیں یا پهر شیعیت کی وہ تعبیر درست ہے جس کا زکر ہمیں ڈاکٹر علی شریعتی کے ہاں ملتا ہے

میں تو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح پاکستانی شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کو پاکستان کے زمینی حقائق کے برعکس ان ایرانی شیعی انقلاب سے مستعار لئے گئے تصورات کے تحت پاکستان کے سیاسی نظام کو بدل ڈالنے کے فریب کن نعروں کے تحت گمراہ کرنے کی کوشش ہوئی اور اس تکفیری دیوبندی و سلفی فریق کو بالواسطہ طاقتور کیا گیا جو یہ دعوے کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک شیعہ ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں انهی تنظیموں کے نام اور ان کے جلسوں میں ایرانی علما کی تصویریں پیش کرتا ہے

ایران میں جب سے خمینی انقلاب آیا اس وقت سے ایران کی جانب سے اتحاد بین المسلمین کے نام سے ایک مہم بهی جاری و ساری ہے اور اس تصور کے تحت پاکستان سے جماعت اسلامی ، جمعیت العلمائے اسلام کے س اور ف دونوں دهڑے ، مصر سے اخوان المسلمون اور اس اخوان کی جملہ دیگر عرب اور افریقی شاخیں ، حماس کی سیاسی لیڈر شپ ، افغانستان سے گلبدین حکمت یار ، صبغت اللہ مجددی ، مرحوم برهان الدین ربانی سمیت کئی ایک مسسلم دائیں بازو کے رجعت پرست بلائے جاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے

یہ تیسری دنیا کے مسلم ملکوں کی دائیں بازو کی وہ رجعت پرست سیاسی قیادتیں ہیں جن کا سرد جنگ کے دوران قبلہ امریکہ اور افغانستان میں سی آئی اے فنڈڈ جہاد کو سپورٹ کرنا رہا اور یہ سیکولر ڈیموکریسی اور سوشلسٹ اکنامک ماڈل کی سخت مخالف ہیں – خود ایران افغانستان کے اندر سی آئی فنڈڈ جہاد کرنے والوں کے ساتھ وابستہ رہا

اور آج بهی یہ سب کی سب دائیں بازو کی اسلام پسند جماعتیں عورتوں ، آزادی رائے ، اقلیتیوں کے حقوق کے حوالے سے رجعت پرستانہ خیالات کی مالک ہیں اگرچہ شیعہ طبقے اور ایران کے اندر خواتین کو سعودی عرب اور طالبان سے بہت زیادہ آزادی حاصل ہے

ولایت فقیہ کے ایرانی نظریہ کا پاکستان میں ایران نواز پاکستانی شیعوں پر کچھ ایسا اثر ہوا ہے کہ وہ ایرانی آیت الله اور ولی فقیہ کو امام معصوم کے درجے پر بٹھا دیتے ہیں جن پر تنقید نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی تنقید کرے تو اس پر تکفیری الزامات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے

احیاء اسلام کے نام سے ایک بلاگ ایک ایران نواز پاکستانی شیعہ گروپ کی طرف سے چلایا جارہا ہے اور مجهے ایسے شواہد ملے ہیں کہ یہ شاید پاکستانی شیعہ مولوی جواد نقوی کے حامیوں کا بلاگ ہے 
http://theislamicawakening.wordpress.com/2014/07/29/exposing-lubp
اسیطرح کے  لوگ مسلم یونٹی اور پولیٹیکل شیعہ پاکستان کے نام سے بھی ایران نواز پاکستانی شیعوں کے گروپ چلا رہے ہیں  - - -  - - - - - -  --   -

میں نے شیعہ کمیونٹی کے اہل عقل و دانش کو یہ بات سمجهانے کی کوشش کی تهی کہ وہ شیعی دائیں بازو کی ملائیت کی جانب سے رجعت پرستانہ کهیل کا حصہ مت بنیں یہ کهیل دراصل بلواسطہ طور پر ایرانی رجعت پرست مذهبی پیشوائیت اور ایرانی متنازعہ شیعی انقلاب کی روشنی میں بننے والی رجعت پرستانہ نیشنل و خارجہ پالیسیوں سے ابهرنے والی اس جیو پالٹیکس کے میدان میں کهیلا جارہا ہے جس کے مخالف فریق سعودی عرب ، قطر ،کویت ، گلف ریاستیں ہیں اور یہ دونوں فریق عالمی طاقتوں کی بچهائی شطرنج کے مہرے ہیں ،یہ تو بشپ ، نائٹس بهی نہیں ہیں فقط پیادے اور بس پیادے

میں اپنے دوست حیدر جاوید سید کی رائے سے متفق ہوں کہ نظام خمس نے شیعہ علما کو مظبوط کیا اور نظام تقلید نے شیعہ کی فکری آزادی اور حریت کو جکڑ دیا اسی وجہ سے روایتی طور پر اعتدال پسند شیعہ بھی دائیں بازو کی تنگ نظری کا شکار ہو گئے – ولایت فقیہ کا نظریہ ائمہ اہلبیت کی تعلیمات کو نہیں بلکہ شیعہ مولوی کے اقتدار کو ثابت اور مستحکم کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا
- - - - - - -   میں جب ایرانی انقلاب کے پاکستان و ہندوستان کے کلچر اور تہذیب پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیتا ہوں تو اس کا اثر مثبت سے زیادہ منفی نظر آتا ہے ،پاکستانی معاشرے میں شیعہ مڈل کلاس جوکہ اپنے پروگریسو اور ترقی پسند ماڈریٹ موقف اور اظہار کے طور پر پہچانی جاتی تهی اس کے اندر بہت تیزی سے دائیں سمت جهک جانے کا رجحان جنم لیا ہے اور اس کی ایک وجہ ایرانی انقلاب نواز شیعہ دائیں بازو کے گروپ ہیں تو دوسری وجہ خود سیکولر لبرل سیاسی جماعتوں کا شیعہ نسل کشی کے مرتکبین کے خلاف گول مول مبہم ڈسکورس یا مجرمانہ خاموشی ہے

یہ جو تکفیری ڈسکورس سے متاثر ہوجانے اور دائیں سمت جهک جانے کا رجحان ہے اسی کے بطن سے ایرانی نیشنل و فارن پالیسی ڈسکورس کی پیروی کے رجحان بهی ابهرے ہیں

یہ میرے خیالات ہیں ان سے اختلاف کا حق دائیں بازو کے شیعہ بنیاد پرست جماعتوں کو اور ان کے بلاگرز کو پورا پورا حاصل ہے لیکن ان کو یہ بهی سوچنا چاہئیے کہ دلیل کا جواب دلیل ہے، گالی اور تکفیر نہیں، تو بهائی جب آپ اختلاف کرنے کا شائستہ طریقہ چهوڑ کر سازشی تهیوریز کا سہارا لیتے ہو کہ کسی کو قادیانی یا کسی کو اسرائیلی ایجنٹ کہتے ہو تو اس کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی

بات صاف اور سیدهی ہے کہ ایران اور ایران پرست پاکستآنی شیعہ کے موقف سے اتفاق نہ کرنا اور اس سے اختلاف کرنے کا مطلب امریکی، اسرائیلی یا قادیانی کیمپ میں ہونا نہیں ہے-

https://lubpak.com/archives/318926
https://us15.proxysite.com/process.php?d=75YQ6J9xWHpD02hjPfValn7cBd0mdQ96Rmbyvmwh&b=1
.....................................................................
پاکستانی ایران پسند شیعہ مؤقف :

ایران کی حکومت، ایران کے وسائل اور ایران کے مسائل ایرانیوں کیلئے ہیں اور ہمارا واسطہ اور سروکار پاکستان سے ہے۔ ہمارا ایران سے تعلق اس وجہ سے ہے کہ ایک تو وہاں آئمہ علیھم اسلام کے مزاراتِ مقدس ہیں اور دوسرا وہاں انقلابِ اسلامی کے بعد نظامِ ولایتِ فقیہ قائم ہوا ہے جو اسلام کا نظام ہے اور کسی ملک کے اندر محدود نہیں ہے۔ دراصل نظامِ ولایتِ فقیہ، امامت کا استمرار اور تسلسل ہے جو قرآںی نظام ہے اور کسی جغرافیے کا پابند نہیں ہے۔ ایران ، ایرانیوں کیلئے ہے لیکن نظام ولایت تمام مسلمین کیلئے ہے جس میں ہم پاکستانی بھی شامل ہیں۔ رضا شاہ پہلوی بھی ایرانی تھا لیکن ہم اس پر نفرین کرتے ہیں کیوں کہ وہ بظاہر شیعہ تھا لیکن تعلیماتِ اہلِ بیت کے بالکل بر خلاف کام کرتا تھا اور مستکبرین و ظالمین جیسے امریکہ و اسرائیل سے دوستانہ تعلقات بھی رکھتا ہے۔ اگر ہم ایران نواز یا ایران پرست ہوتے تو ہر ایرانی چیز کا دفاع کرتے لیکن رضا شاہ کی مخالفت دلیل ہے کہ ہم ایران پرست نہیں اسلام پرست ہیں۔

جس طرح رسول اللہ(ص) کو تمام مسلمین پر ولایت یعنی اختیار حاصل تھا، جس طرح امام علی(ع) کو تمام مسلمین پر ولایت حاصل تھی ، اسی طرح زمانۂ غیبتِ کبریٰ میں ولیٔ فقیہ کو تمام مسلمین پر خدا کی جانب سے اختیار حاصل ہے اور ولایتِ فقیہ یعنی فقیہ کی حکومت آئمہ علیھم السلام کی تعلیمات سے ثابت ہے۔ لہٰذا ہمیں ایران پرست کہنا دراصل ہماری حب الوطنی کو مشکوک قرار دینا ہے اور اپنے مخالفین کو زیر کرنے کیلئے اس طرح کا منفی پروپیگنڈہ یہ مافیا بہت کرتا ۔ہے۔

اگر ایک پاکستانی عیسائی پاپائے روم کی تصویر لگائے تو اس کی حب الوطنی مشکوک نہیں ہوتی اور اسے روم نواز یا ویٹیکن نواز نہیں کہا جاتا، اگر ایک بوہری اپنے مذہبی پیشوا کی تصویر لگائے جو پاکستان کے دشمن ملک بھارت میں رہتے ہیں تو بھی اس کی حب الوطنی مشکوک نہیں ہوتی اور اسے بھارت نواز نہیں کہا جاتا، تو اگر ایک شیعہ اپنے مذہبی پیشوا کی تصویر لگائے اور اس کے اقوال نقل کرے تو وہ کیسے ایران نواز ہو جاتا ہے اور اس کی حب الوطنی مشکوک   ہو جاتی ہے؟  یہ دوہرا معیار منافقت کی دلیل ہے۔

 کمنٹس:
رومن کیتھولک پوپ ، بوہری ، آغا خانی لوگ اپنے روحانی ، مذہبی پیشواؤں کی تصاویر لگاتے ہیں ، ان کی عزت کرتے ہیں اس سے ان کی محب الوطنی پر کوئی شک نہیں کرتا کیوں کہ یہ مذہبی ، روحانی رہنما صرف مذھبی معاملات تک محدود ہیں یہ رہنما اپنے مقلدین کی سیاسی لیڈرشپ کا دعوی نہیں کرتے جبکہ ولایتِ فقیہ یعنی فقیہ کی حکومت ، مذہبی سیاسی قیادت کی دعوی دار ہے-لہٰذا یہ مختلف متوازی،دوغلا سیاسی ڈھانچہ ہے جسے کوئی خود مختار ملک پسند نہیں کر سکتا-

https://theislamicawakening.wordpress.com/2014/07/29/exposing-lubp/
https://theislamicawakening.wordpress.com/2014/06/05/system-of-iran/comment-page-1/#comment-9
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

 "ولایت فقیہ و مرزھای جغرافیائی”
آیت اللہ علی محقق نسب کی نو تنصیف شدہ کتاب
ایک چونکا دینے والی کتاب کا تذکرہ

اسحاق محمدی

سچ تو یہ ہے کہ میں “ ملا شاہی” برادری سے تقریباً مایوس ہو چلا تھا کیونکہ انکا طبقاتی مفاد براہ راست عوامی مفادات سے متصادم ہے اور ان کے مفادات کا تقاضا ہے کہ سادہ لوح عوام کو جھوٹی تسلیاں دیکر اور دلفریب لوریاں سناکر سُلاتا  رہے اور خود خواب غفلت میں پڑے بیچارے عوام کی محنت شاقہ  کی کمائی سے گل چھرے اڑاتے چلے جائیں لیکن کبھی کبھار تاریخ یورپ کے حوالے سے یہ حسرت دل میں آتی  کہ کاش اس ظلمت کدہ میں بھی کوئی مارٹن لوتھر کنگ جیسا    Clergy  پیدا ہوجائے اور اس طلسماتی دنیا کے “گرگ میش نما” باسیوں کے حقیقی مکروہ چہرے اور کرتوتوں کو سادہ لوح عوام کے سامنے بے نقاب کرکے ان کی صدیوں سے قائم فرعونی راج دھانی کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں ڈالے اور اس طرح ہمارے ہاں بھی Renaissance    یا تحریک احیاے علوم کی شروعات کریں  کیونکہ یہ بات قطعی ہے کہ ایک ایسی علمی و فکری تحریک جسکی بنیادیں عقل و منطق، دلیل و برہان اور انسانی برابری و آزادی پر استوار ہو، کے بغیر ہم علم و ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دنیا میں ترقی و خوشحالی کا تصور بھی نہیں کر سکیں گے۔ اور    "مردہ بودن و نان زندہ خوردن ” کے حقیقی  مصداق بنے ایسی لایعنی و احمقانہ الجھنوں میں گرفتار رہیں گے کہ مثلاً اگر نماز کے دوران یہ شک ہو جائے کہ میں نے ایک رکعت پڑھی ہے یا پانچ تو اس مسئلے کی شرعی حیثییت کیا ہوگی۔۔۔۔؟ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ اقوام کی درست سوچوں نے خداوند عالم کی بہترین تخلیق حضرت انسان کی  راز حقیقت کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہیں۔

بہر حال ” یأس و نا امیدی” کی اس کیفیت میں پچھلے دنوں ایک ہزارہ آیت اللہ( Clergy)  علی محقق نسب کی نو تنصیف شدہ کتاب "ولایت فقیہ و مرزھای جغرافیائی” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یاد رہے کہ مذکورہ کتاب کو “ملاشاہی نظام” کے بندھنوں میں جکڑے ایران میں اشاعت کی اجازت نہ ملنے پر مؤلف نے اسے چند ہزارہ قوم دوست اشخاص کے تعاون سے کوئٹہ میں شائع کرایا ہے۔

اب خدا کریں کہ اس تحقیقی کتاب کی چشم گشا انکشافات ہمارے سادہ لوح روایت پرست عوام کی آنکھیں کھولنے کے باعث اور ان کے ذہن کی کھڑکی اور دروازوں پر لگے غفلت و بے خبری کے زنگ آلود قفلوں کو وا کرنے کا وسیلہ بنیں اور ایکبار پھر مارٹن لوتھر کنگ کی تاریخ  دہراتے ہوئے تعصب اور بنیاد پرستانہ تشدد کی اس گھٹاٹوپ تاریکی میں ہمیں بھی   Renaissance کی روشنی دکھائی جائے۔

کُل گیارہ ابواب اور سات سو صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب میں فاضل محقق نےاپنے نقطہ نظر کی وضاحت اور صداقت کیلئے ایک سو بیانوے (192) کتابوں کی سینکڑوں حوالہ جات کا سہارا لیتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کتاب دو حصوں ،بخش اول اور بخش دوئم پر مشتمل ہے۔

بخش اول کے آٹھ ابواب کے موضوعات یہ ہیں:ـ

  1. نظام ولایت فقیہ ۔۔۔۔ خواب تا حقیقت
  2. نظام ولایت فقیہ میں قومی اقتدار اعلیٰ National Sovereignty اور بین الاقوامی اقتدار اعلیٰ کا باہمی تعلق
  3. نظام ولایت فقیہ میں بین الاقوامی اقتدار اعلیٰ کی بنیادیں
  4. ولایت فقیہ ۔ فقہا کی نظر میں
  5. ولایت فقیہ اور مرجعیت کا تقابلی جائزہ
  6. بے اقتدار فقہا کو خمس کے استعمال کا حق نہیں پہنچتا
  7. نظام ولایت فقیہ اور دیگر ممالک کے اقتدار اعلیٰ
  8. ملکوں کے رویے پر حاکم، اصول و قواعد

بخش دوئم کے موضوعات اس طرح سے ہیں۔

  1. ولایت فقیہ ، ایرانی ڈاکٹرین Doctrine کے تناظر میں
  2. انتخاب فقیہ اور بیعت، ولایت اور حکومت کے قیام کا بہترین معیار
  3. ولی فقیہ کی بین الاقوامی حاکمیت، ایرانی قوانین کے تناظر میں

فاضل محقق ان گیارہ ابواب میں جہاں ایک طرف رائج الوقت شیعہ عقائد کے بظاہر مسلمہ اصولوں جیسے تقلید، مجتہدین کی واجب الاطاعتی اور خمس کی فی زمانہ جمع آوری اور استعمال کرنے کے طریقے کو نہایت مدلل انداز میں پیش کرتےہیں  وہی دوسری طرف موصوف ایرانی آئین میں موجود اسلامی تعلیمات سے متصادم شقوں کو بھی چابک دستی سے آشکارا کرتے ہیں ، مثلاً وہ پوائنٹ آوٹ کرتے ہیں کہ "ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کے قیام سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی شہریت منسوخ کی جاچکی ہے اور ایک لاکھ اسی ہزار بچے صرف غیر ملکی باپ کی نسبت سے انکی رجسٹریشن معرض التوا میں ہے حتیٰ کہ وہ تعلیم کے حق سے بھی محروم ہیں” (صفحہ 186) موصوف ولی فقیہ کی اہلیت کی شرائط اور صدر مملکت کی اہلیت کی شرائط میں ایک عمدی تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ “ دستور کے شق 109 کے جس میں رہبر (ولی فقیہ) کی شہریت کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ اسی دستور کے شق  115 میں صدر کی اہلیت کیلئے شہریت کے ساتھ ساتھ ایرانی الاصل اور ایرانی نسب ہونے کی شرط بھی لگادی گئی ہے، نیز  کلاز 982 منظور شدہ 1370 ھ ق (1991) کی رو سے ایرانی گرین کارڈ ہولڈرز کو تمام سرکاری نوکریوں کیلئے نا اہل جبکہ صرف چھوٹے موٹے کاروبار کا حق دیا گیا ہے۔ ان حقائق کو دیکھتے ہوئے ہم برملا کہ سکتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں قانون سازی کا عمل عادلانہ اور متوازن نہیں  بلکہ دستور بنانے والے کی مرضی و منشأ کا تابع ہے۔ یوں ان دستور سازوں کی نہ تو سخت گیری اور نہ ہی  سہل اندیشی کسی قاعدہ قانون و ضابطہ کے مطابق ہے انکی سوچوں کا محور محض وقتی مفادات کا حصول ہی ہے “بقول” انکے  چونکہ رہبریت کے سلسلے میں خمس اور بیرونی تشہیر جیسے مفادات کے حصول کا تقاضا ہے کہ “شہریت” کی شرط کو فراموش کردیا جائے سو انہوں نے اسے فراموش  کردیا ہے جبکہ صدارت کے آب و تاب والے حکومتی عہدہ کیلئے وہ شہریت سے کئی قدم آگے بڑھتے ہوئے (مسلمہ اسلامی اصولوں کو پائمال کرتےہوئے) نسل اور نسب کی شرائط لگانے سے بھی نہیں چوکتے (ص669-670) اس ضمن میں علی محقق نسب ایک اور قابل غور نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ایک طرف ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ رہبر انقلاب یعنی ولی فقیہ کو “ولی الامر مسلمین”رہبر مسلمانان جہان” کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ اسی رہبر کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف اور صرف ایرانیوں کو ہی حاصل ہے!!!

اب کتاب کے اس حصے کی طرف آتے ہیں جس میں اجتہاد، تقلید کے واجب ہونے اور خمس کی جمع آوری و تقسیم کے عمل سے متعلق اہم چونکا دینے والے انکشافات سامنے آتے ہیں۔ اجتہاد کے لغوی و اصطلاحی تعریف اور تاریخ کا پس منظر بیان کرنے کے بعد فاضل مؤلف  لکھتے ہیں کہ “ اجہتاد کی اصطلاح حضور اکرمؐ کی رحلت کے بعد مذّمتی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جسکی شیعہ ائمہ ؑ نے مسلسل مذمت کی ہے”   آگے چل کر لکھتے ہیں کہ “ ائمہ معصومین ؑ کے دور سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک لفظ اجتہاد اسی معنی (مذمتی) میں آیا ہے اور انکی مسلسل مذمتی روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد کو ایک ذاتی رائے کے طور پر شرعی احکام کے بنیادی ماخذ ( قرآن و سنت) میں ایک غیر ضروری اضافہ تصور کیا گیا ہے اسی لیے شیعہ فقہا و عالموں نے حضرت امام زمانؑ کے دور سے ہی اجتہاد کی ردوتردید کیلئے کمرہمت باندھی اور اپنے گفتار و کردار کے ذریعے "اجتہاد” کے خلاف اپے تند و تیز حملوں کا آغاز کردیا (ص 300-301)۔ اس کے بعد موصوف معتبر حوالوں کے ذریعے شیعہ فقہا کے مختلف ادوار کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں جو کہ نہایت اہم ہونے کے باوجود میں مضمون کی طوالت کے خوف سے قارئین  سے معذرت کرکے صرف انہی کی نتیجہ گیری کا ترجمہ پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ "تیرہویں صدی ہجری کے اوائل سے شیعہ فقہا (فقیہ کی جمع) کی اجتہاد سے اُنسیت ہوگئی اور اس سے یوں دوستی کرلی کہ نہ صرف اجتہاد مقدس قرار پایا بلکہ اجتہادی صلاحیت عطیہ الہٰی تصور ہونے لگی”آگے چل کر وہ یوں رقم طراز ہوتے ہیں کہ:

بلاشبہ ائمہ معصومینؑ کے دور سے قریب تر کے یہ سات سو سال جو شیعہ فقہ کا روشن ترین باب ہے، ان سالوں میں اجتہاد کی اصطلاح نہ صرف مقدس نہ تھی بلکہ اسے مسترد شدہ اور نامقدس گردانا جاتا تھا۔ شیعہ علماء ، اجتہاد کو مذہب سے ایک قسم کا انحراف یا ائمہ ؑ کی تعلیمات کے برخلاف اور اسلامی عبادی اصولوں سے روگردانی خیال کرتے اور اسے امام ابوحنیفہ اور انکے پیروکاروں کی روش گردانتے تھے۔
ابن ادریس کے زمانے چھٹی صدی ہجری کے اواخر یا محقق حلی کے زمانے ساتویں صدی ہجری کی دوسری دہائی سے ایک حد تک اجتہاد کی اصطلاح شیعہ کلچر میں نہایت محدود معنوں میں شرف قبولیت پا سکی اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ تیرہویں صدی ہجری تک یہ اصطلاح اور یہ عمل شیعہ علماء کے درمیان اتفاق نظر حاصل نہیں کر سکا۔ اسی لیے تاریخ فقہ جعفری کے بارہ سو سالوں کے طویل عرصے میں نہ تو   آجکل کی طرح کوئی اجتہادی کتاب “توضیح المسائل” وجود رکھتی تھی اور نہ ہی کسی خاص مجتہد سے تقلید کرنا واجب تھا اس کے برعکس عقلاء کی سیرت کے بموجب قرآن و سنت آشنا عالموں سے دینی احکام سیکھنے جاتے اس عرصے میں مرجع یا عالموں سے رجوع کا عمل نہایت آسان تھا۔ مکتب تشیع میں اجتہاد کی اس جدید اصطلاح کیلئے کوئی گنجائش نہ تھی یہ "اجتہاد” اور یہ "تقلید” ایک جدید ریت ہے۔ (ص-311)
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں جناب علی محقق نسب برملا اعلان کرتے ہیں کہ۔۔۔

الف   عقل ومنطق کا تقاضا ہے کہ کسی خاص مجتہد سے تقلید بالکل ضروری نہیں بلکہ ہر مسلمان آزاد و خودمختار ہے کہ وہ کسی بھی مجتہد یا غیر مجتہد (عالم دین) سے (صرف شرعی احکام نماز،روزہ وغیرہ کے سلسلے میں) اپنی کامل اطمینان تک رجوع کرسکتا ہے۔

ب     عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی مجتہد سے رجوع و برگشت (ترک کرنا) ہمہ وقت جائز ہے۔ یہ غیر عقلی بات ہوگی کہ کسی خاص شرعی مسئلہ سے متعلق محض ایک سوال پوچھنے کے بعد آپ کو یہ حق نہ ہو کہ اسی مسئلہ یا دیگر مسائل سے متعلق کسی اور عالم سے رجوع کریں ۔ اس کے برعکس آپ ایک مسئلہ کو ہزار مجتہد سے معلومات لیکر انکی یا ان میں سے ایک کی پیروی کر سکتے ہیں اور بعد ازاں انہیں (مجتہدین کو) ترک کرنے میں بھی آزاد ہونگے۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ کسئ ڈاکٹر، انجینیئر یا کسی خاص شعبے کے کئی ماہرین سے کسی خاص مسئلے پر اپنی اطمینان کامل کے حصول تک مشورہ کرنے میں آزاد ہیں۔ (ص 42-341)

خمس:
خمس کی تاریخ، جمع آوری اور خرچ کے سلسے میں بھی فاضل مولف کے انکشافات چونکا دینے والے ہیں۔ مثلاً وہ قرآنی آیت المعروف بہ “خمس” پر تفضیلی بحث کے بعد کہتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ کا نفس مضمون مال غنیمت کی تقسیم ہے اور دیگر اسلامی مکاتب فکرِ اہل سنت و جماعت کے علماء کا اس پر اتفاق نظر ہیں۔ بعد ازاں  وہ آیت اللہ منتظری کی خمس پر آوردہ چند اعتراضات کا ذکر کرتے ہیں جن میں پہلا اعتراض اس طرح سے ہے “تاریخ اسلام کے پہلے سو سالوں میں (سالانہ) انکم پر “خمس” جمع کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ رسول اکرمؐ،  آپکے خلفاء حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عشمانؓ، حضرت علیؑ و دیگر ائمہ کرامؑ حضرت امام  حسنؑ، حضرت امام حسینؑ اور امام سجادؑ نے خمس کو نہ تو واجبات دینی کے ضمن میں کبھی گردانا اور نہ ہی خود انہوں نے اس پر عمل فرمایا”۔ آگے چل کر آقای منتظری کے قول سے مزید لکھتے ہیں “اگر ہم ایک نسل کا دورانیہ (بلوغت کے لحاظ سے) بیس برس میں فرض کرلیں تو اوائل اسلام کی کم از کم پانچ نسلیں خمس کو ایک دینی فریضہ کےطور پر نہیں لیتی تھیں اگر خمس واقعاً ایک اسلامی ٹیکس کے طور پر واجب ہوتا تو حتمی طور پر آنحضرتؐ اور آپ کے خلفاء کی  طرف سے اس کے قواعد و ضوابط مرتب کراکے اس پر باقاعدہ عمل درآمد کرائے جاتے کیونکہ زکوۃ  جو کہ ایک واجب اسلامی ٹیکس ہے کی خوب تشہیر بھی ہوئی اور زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کو تادیبی اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑا، نیز یہ کہ اس وقت اس نوزائیدہ اسلامی حکومت کو خمس کی آمدنی کی اشد ضرورت بھی تھی۔ (ص 83-382) گرچہ آیت اللہ منتظری نے محض قیاس کی بنیاد پر مندرجہ بالا اہم اعترضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے مگر علی محقق نسب نہایت مدلل و منطقی انداز میں اسے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہیں ( ملاحظہ ہو ص 384 تا 387) لیکن خمس سے متعلق اس طرح کے کئی سوالات اٹھانے کے باوجود وہ خود ائمہ ؑمتاخرین کی روایتوں کے رو سے اسے فی زمانہ واجب قرار دیتے ہیں؟ (صفحہ 390) ۔

بہر حال اب جبکہ خمس واجب قرار پایا ہے تو ذرا اسکے استعمال سے متعلق فتوؤں کا جائزہ مولف کے قلم سے لیتے ہیں جس نے  آقای منتظری کی تحقیقات کا حوالہ پیش کرتے ہیں جس کے رو سے اس ضمن میں 17 نکتہ ھای نظر یا فتوے سامنے آتے ہیں (جن میں چند از حد مضحکہ خیز ہیں مضمون نگار) مثلاً

شیخ مفید (413-336ھ) کا فتوی ہے کہ تمام خمس کی رقم جمع ہو کر ایک امانت دار مومن کی سپرد ہو اور اسکی وفات پر کسی اور مومن اور ۔۔۔۔۔۔ اور حتیٰ کہ یہ تمام رقم بالاخر امام زمانہؑ کے ظہور پر اسکی سپرد کی جائے۔
بعض علماء جیسے سلار دیلمی متوفی 463 ھ۔ فاضل خراسانی، ملا محمد باقر سبزواری متوفی 1090 ھ اور کئی اخباری علماء کا عقیدہ ہے کہ غیبت امام زمانؑ کے دوران خمس دینا سرے سے واجب ہی نہیں ہیں۔
جبکہ بعض دانا عالموں نے اسے خفیہ دفن کرنے کا فتویٰ دیا ہے تا کہ ظہور امامؑ ہونے کے بعد آپ خود انہیں نکال کر مصرف فرمائیں ۔۔۔؟ (دفینہ اگر نوٹ کی صورت ہو تو اس کا اللہ ہی حافظ) (صفحہ 409)
17ویں نظریہ کے متعلق مولف لکھتے ہیں کہ “سب سے بہترین و منطقی نظریہ وہی ہے جسے آیت اللہ خمینی ؒ  (کتاب البیع ج 2 صفحہ495) و آیت اللہ منتظری خود پیش کرتے ہیں اور جسکی ،موجودہ ایرانی رہبرآقای خامنہ ای احتیاط کی شرط کے ساتھ تائید بھی کرتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق “خمس در حقیقت ایک اسلامی ٹیکس ہے جسکی جمع آوری و استعمال کا حق اسلامی حکومت کے سربراہ کو حاصل ہے”اس ضمن میں علی محقق نسب کی نتیجہ گیری انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو کہ درج ذیل ہیں:-

الف-  خمس نہ سادات اور نہ ہی امامؑ کا ہے بلکہ ایک طرح کا اسلامی ٹیکس ہے جسے انتظامی امور کی انجام دہی اور معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے لاگو کیا گیا ہے۔

ب     خمس اسلامی بیت المال کے ذرائع آمدن کا ایک ذریعہ اور دیگر ٹیکسوں کی طرح سوسائٹی کی ملکیت ہے۔ جسے حاکم وقت جمع کرواکے درست کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

ج      چنانچہ جس طرح ہر سوسائٹی کیلئے حکومت کی موجودگی ضروری  ہے اور حکومت مالی وسائل کے بغیر نہیں چل سکتی پس کوئی اسلامی حکومت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

د       اب یہ اسلامی حکومت کے سربراہ کا فرض ہے کہ وہ ان تمام محصولات (زکوۃ، خمس وغیرہ) کو میرٹ کی بنیاد پر زیر استعمال لایں۔

ھ      چونکہ ہر حکومت کو مالی وسایل کی ضرورت ہیں لہذا حکومت کی اجازت کے بغیر خمس کی رقم باہر بھیجنا جائز نہیں۔

کیونکہ

۱۔ جس طرح A حکومت کو رقم کی ضرورت ہے  B  حکومت کو بھی اتنی ہی ضرورت ھے۔

۲۔ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کیلئے جائز قرار نہیں دیا ہے کہ وہ غیر ممالک یا اقوام کو محصولات (خراج یا جزیہ) دیں بلکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر قومیں حاکمیت ، شہریت، رہبریت اور سیاسی و اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے کے شریک نہ ہوں تو پھر بیت المال میں بھلا کس طرح شریک ہو سکتی ہیں۔(صفحات 416 تا 419)۔

خمس کے استعمال کے رائج الوقت طریقے

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ فی زمانہ اکثر مجتہدین یا انکے نام نہاد ایجنٹ مختلف طریقوں اور حربوں سے مالدار شیعہ افراد سے خمس کی پوری رقم (سالانہ آمدنی کا پانچواں حصہ) لیکر  اس کا نصف حصہ چند انگشت شمار سادات میں حاتمانہ سخاوت سے تقسیم فرماتے ہیں اور بقایا نصف میں سے بھی ایک خاص پرسنٹیج  (%) اپنے پاس رکھ کر (گویا پاکستان کی طرح صوابدیدی اختیار) باقی رقم ایران، عراق اور شام جیسے مالدار ملکوں کے ارب پتی مجتہدین (بلاشک) کو ارسال کرتے ہیں۔ اب ماشاءاللہ ہمارے جید مجتہدین کی اکثریت اس خطیر شیعی اسلامی ٹیکس کو کس طرح زیر استعمال لاتے ہیں یہ المناک داستان بھی جناب محقق نسب کی زبانی سنتے ہیں۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ مؤلف کا یہ انکشاف کسی طرح ایٹمی دھماکہ سے کم نہیں کہ مجتہدین حضرات کی ایک بڑی تعداد خود یہ رسائل   (توضیح المسائل) لکھنے کی زحمت نہیں کرتیں بلکہ اسے اپنے شاگردوں یا دیگر لکھاریوں ( شاید پیشہ وروں) سے لکھواکر آخر میں محض طائرانہ نظر سے (کم فرصتی کی وجہ سے ) رنجہ فرماکر فی الفور مہر تصدیق ثبت فرماتے ہیں (صفحہ 294)۔ کئی درجن مختلف الادوار توضیح المسائل کو اگر سامنے رکھا جائے تو فاضل مؤلف کا یہ کہنا اس طرح صد فیصدی سچ نظر آتا ہے کہ انکی نوے فیصد سے زائد جملہ بندیاں یکساں ہوتی ہیں (یعنی نقل بہ مطابق اصل) اور شاید یہ چند فیصدی فرق بھی محض بھرم رکھنے کی خاطر روارکھا جاتا ہے؟ یوں مرجع و آیت اللہ کا ٹائٹل اختیار کرکے پوری دنیا سے خمس کا پیسہ بٹورنے کا بلا منازعہ حقدار بن جاتے ہیں ( ممکن ہے چند ایک مستثنیٰ ہو)

بہر کیف فاضل مؤلف کی تحقیقات کے مطابق جدید تاریخ میں جاری سیکولر دور حکومت میں خمس کی رقم کسی مجتہد کے پاس رقم جمع کرنے کی ریت سید ابراہیم قزوینی کے دور سے ہوئی (ایک وسیع و منظّم کمپین کے نتیجے میں) جسے بعد ازاں شیخ حسن نجفی متوفی 1266 ھ اور شیخ انصاری متوفی 1281 ھ کی کوششوں نے ریت سے بہت آگے بڑھا کر ایک دینی واجبی فریضے کی حیثیت دی (صفحہ 448) اس طرح اس نو وارد فریضہ دینی کی عمر بمشکل ڈیڑھ دو سو سال ہی ہے۔ اب یہ ممکن ہے ان صدیوں میں چند خدا ترس حضرات اس رقم کو ایک مقدس امانت سمجھ کر استعمال کرتے ہونگے اور اب بھی کر رہے ہوں تا ہم “گرگ میش نما” افراد کی تعداد بہر حال ہمیشہ زیادہ ہی رہی ہیں۔ بقول فاضل مؤلف اس لوٹ مار کے خلاف بعض حضرات جیسے آیت اللہ شاہرودی ، آیت اللہ حجت، آیت اللہ خوانساری، آیت اللہ باقرصدر و غیرہ نے آواز اٹھائیں لیکن "نقار خانے میں طوطے کی آواز” ثابت ہوئی (صفحہ 451) اور وقت کے ساتھ ساتھ اس بہتی گنگا میں عیش کی ڈبکیاں لگانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی مؤلف، آیت اللہ آذری قمی کے حوالے سے اس لوٹ مار کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

۱ ۔ خمس کی امانت کا ایک  بڑا حصہ بے قاری توضیح المسائل کی چھپائی کی نذر ہوجاتا ہے جو کہ بعد ازاں ردی میں تبدیل ہوتے ھیں۔

۲ ۔ ایک موٹی رقم مراجع حضرات کے حاشیہ نشین چمچے ہضم کر جاتے ہیں۔

۳ ۔ دینی علوم حاصل کرنے کے نام پر ہزاروں مفت خوروں کی عمر بھر کی دیاڑیاں لگتی رہتی ہیں اور ماشاءاللہ یہ تشنہ گان علم ہمیشہ تشنہ (جاہل) ہی رہتے ہیں۔ فاضل محقق اس شرمناک فہرست میں مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”بہت سے مراجع حضرات خفیہ طور پر بڑی بڑی رقم (خمس سے) کی سرمایہ کاری کرتے ہیں جو کہ انکی وفات کے بعد براہ راست انکے وارثوں کو وراثت میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ نیز بعض دور اندیش مجتہدین (مندرجہ فراڈی طریقے سے) اپنے فرزندوں کو مجتہد ڈیکلر فرما کر یہ بہتی گنگا ان کے حوالے کردیتے ہیں۔ (صفحہ 477)

اب جناب علی محقق نسب کا ایک دلچسپ تبصرہ کہ “سالوں بعد جب ایرانی مرکزی بینک میں 123 ارب تومان کا غبن سامنے آیا تو ہر طرف شور و غوغا بر پا ہوا حالانکہ دوسری طرف ہمارے دینی مدرسوں میں براجمان نمائندہ امام زمانہؑ، حاکم شرع مقدس ، تقدس اور عدالت کے دلفریب لبادے  اڑھنے والوں کے سامنے  یہ غبن ایک معمولی اور عام سی بات ہے (صفحہ 475) یا للعجب!!!

اور آخر میں

مندجہ بالا تمام تلخ اور افسوسناک بلکہ شرمناک حقائق کی روشنی میں فاضل محقق یہ منطقی اور نہایت مدلل نکتہ، خمس کے صحیح استعمال سے متعلق دیتے ہیں

"وہ شیعہ افراد جن کے ہاں اسلامی حکومت نہیں یا انکے حکمرانِ عادل نہیں ، انہیں چاہئیے کہ وہ اپنے ہاں عادل اور ایماندار اشخاص پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیکر اپنی وجوہات شرعیہ (خمس، زکوۃ) انکے پاس جمع کرائیں اور ان کے درست طریقہ استعمال سے متعلق ایک مکمل دستورالعمل بناکر انہیں اجتماعی مفاد کے کاموں میں زیر استعمال لائیں اور کسی اور کو یہ حق نہ دیں کہ وہ انکی اس حق حلال کمائی پر آقائی کریں چاہے وہ بہت بڑا فلسفی، علامہ دہر، کئی رسائل (توضیح المسائل) یا کتابوں کا مصنف ہی کیوں نہ ہوں” (صفحہ 484) ۔

قارئین کرام! آج یہ دردناک تلخ حقیقت ہم سب کے سامنے ہے کہ گذشتہ چودہ، پندرہ سالوں کے دوران کرائے کے تکفیری، دھشت گردوں کے ہاتھوں ھمارے ھزاروں بے گناہ لوگ شہید یا عمر بھر کیلئے معذور ہوگئے ہیں جسکی وجہ سے ھزاروں گھرانے  “نان شبینہ” کے محتاج بن گئے ہیں ان حالات میں کیا ھمارے لئے دینی اور ملی لحاظ سے واجب نہیں ہوا کہ نہ صرف خود بلکہ اپنے دیگر بھائیوں کو بھی جناب آیت اللہ محقق نسب کی اس ھدایت کے تحت اپنے تمام شرعی واجبات (خمس ، زکو ٰۃ، فطرانہ  اور نذرات) اپنے ہاتھوں یا قابل اعتماد افراد یا اداروں کے ذریعے اپنے ہی مستحق افراد میں تقسیم کرنے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں۔یادرہے کہ شرعی لحاض سے یہ ھم پرواجب بھی ھیں۔

http://www.hazarapeople.com/urdu/?p=615

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~`

 "ولایت فقیہ کا نظام اصلاحات کے نام پر ایرانیوں کو مسلسل دھوکا دے رہا ہے۔ اس نظام کے سائے تلے کوئی بھی تبدیلی یا اصلاح ناممکن ہے۔ تہران کا موجودہ نظام محض نعروں کا نظام رہے گا۔ اس میں بدعنوانی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس پر انٹیلی جنس مافیا کا پوری طرح کنٹرول ہے۔ معاشی مسائل حدوں کو پار کرچکے ہیں جس کا نتیجہ غربت، فحاشی اور خودکشی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ قوم کے بہترین اور باصلاحیت دماغ پوری دنیا میں ہجرت کرچکے ہیں۔

 ایرانی عوام بتدریج اپنے قانونی حقوق کے حصول کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بات روز اوّل سے واضح ہے کہ ولایت فقیہ کا نظام اور اس کے مختلف حلقے عوام کی جانب سے منتخب کردہ نہیں اور وہ کسی بھی لمحے تمام قوانین کو نظرانداز کرسکتے ہیں۔ یہ نظام کسی کو بھی کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ ایرانی نظام اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جانب عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کرتا ہے تو دوسری جانب اپنے انقلابی نظریے کو پھیلانے کے ذریعے پورے خطے پر دباؤ ڈالتا ہے۔ یمن، عراق، لبنان اور شام میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔
آخری انتخابات میں ہم نے دیکھ لیا کہ عوام کی شرکت کا تناسب کم ترین سطح پر تھا۔ میں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ اس طرح کے نظام میں ووٹنگ اس نظام کو قانونی حیثیت دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ووٹنگ کے عمل کا لوگوں کے انجام کار کو متعین کرنے میں کوئی کردار نہیں۔

دوسروں کے امور میں مداخلت کے لیے تہران کو بحران تخلیق کرنے کی اشد ضرورت :
ایرانی نظام کے کئی مقاصد ہیں جن میں ایک مقصد اپنے نظریے کو پھیلانا ہے تاکہ نظام باقی رہ سکے۔ اس کا علاقائی رسوخ اور دوسروں کے امور میں مداخلت صرف بحران زدہ اور غیرمستحکم فضاؤں میں ہی ممکن ہے۔ اس نظام کی سوچ عصری خلیفہ کے پرچم تلے علاقائی کنٹرول حاصل کرنے پر مبنی ہے۔ اس کے نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا مطلب ضروری نہیں کہ وہ اسرائیل پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ یہ اس لیے ہے تاکہ نیوکلیئر دھمکی کے ذریعے وہ روایتی عسکری محاذ قائم کرسکے جس کا کوئی مقابلہ نہ کرپائے۔

خامنہ ای نے قدامت پسندوں کے وجود کی تردید کر کے سروں پر ٹھنڈا پانی انڈیل دیا
کچھ عرصہ قبل خامنہ ای نے یہ کہا کہ "ایرانی نظام کے تمام فرزند اصلاح پسند ہیں اور قدامت پسندوں کا کوئی وجود نہیں ہے"۔ اس طرح انہوں نے سب کے سروں پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا۔ تاہم خامنہ ای کے مطابق "ہر کوئی نظام کے تحفظ کا عہد کرتا ہے خواہ وہ روحانی ہو، خاتمی ہو یا پھر احمدی نژاد"۔ لہذا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی نظام کی مخالفت کی بات نہیں کرسکتا!

عوام بھوک کے مارے ہوئے ہیں جب کہ نظام دوسرے وعدے پیش کر رہا ہے
آپ خود کو ایران میں کسی یونی ورسٹی پروفیسر، عام انجینئر یا اور کسی ملازم کی جگہ رکھیں جس کی ماہانہ تنخواہ 300 سے 400 ڈالر کے درمیان ہے جب کہ سرکاری طور پر غربت کی اعلان کردہ حد 500 ڈالر ہے۔ 

ایک طرف ہمیں لوگ بھوک کے مارے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف نظام لبنان میں لڑنے والوں یا اسرائیلی مفادات پر حملے میں مارے جانے والوں کے گھر والوں کو 7 ہزار ڈالر کی پیش کش کررہا ہے جو ایک استاد کی کئی تنخواہوں کے برابر ہے۔ تو پھر آپ کی ترجیحات کہاں گئیں؟

ایران میں لوگوں کو درپیش مسائل کی ایک طویل فہرست ہے۔ ریاست کے تمام اقتصادی زاویوں پر پاسداران انقلاب کی مافیا قابض ہے۔ لوگوں کے پاس گزر اوقات کے لیے وسائل نہیں، انہیں وقت پر تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ معاملے میں نظام کی نسل پرستی ملک کو تقسیم کرنے کی راہ ہموار کررہی ہے۔

خمینی کے انقلاب سے دہشت گردی پھوٹی اور مسلک کی آگ بھڑکی:

1979 تک خطے کے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات میں سنی یا شیعہ مسلک کا معاملہ درپیش نہیں تھا اور نہ ہی قومیتوں کے درمیان کوئی اختلاف تھا خواہ وہ کرد ہوں، بلوچی ہوں یا پھر عرب۔ ترکی اور پاکستان کے ساتھ اتحاد کی تشکیل کے وقت  ان ملکوں سے تعلقات اچھے تھے جب کہ کچھ ماہ قبل پاکستان نے ایران کو باور کرایا ہے کہ اگر اس نے خطے میں تنازع بھڑکایا اور سعودی عرب اور دیگر ممالک کو اشتعال دلایا تو وہ ایران کے مقابلے پر کھڑا ہوگا۔ کیا اس دوران ایرانی عوام تبدیل ہوگئے یا پھر نظام ان بحرانوں کا سبب ہے؟ ماضی میں سنیوں اور شیعوں کے درمیان مقابلہ ناممکنات میں سے تھا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس نظام کے زوال کے بعد ہی ایران میں اصلاح ہوسکتی ہے۔
نظام کی جانب سے عوام کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کی صورت حال نے تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تبدیلی ایک شہری مزاحمتی تحریک کے ذریعے آنا چاہیے جو تشدد سے دور ہو اور اس کی قیادت عوام کو اپنے چاہت پوری ہونے کے حوالے سے قائل کرسکے۔ بہرکیف فوجی مداخلت کے ذریعے تبدیلی کو قطعا مسترد۔
2009 میں سبز تحریک کے قائدین مير حسين موسوي اور مہدي كروبي درحقیقت "جعلی اپوزیشن" تھے۔ اس وقت سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں نے ان تمام خطرات کاسامنا محض انتخابات میں جعل سازی کے مسئلے کی خاطر نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اس سے کہیں زیادہ گہرے مطالبات تھے۔

تبدیلی کے لئے تیار
ایرانی عوام بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ روز بروز ان کا خوف کم اور صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقے جن میں خواتین ، اساتذہ ، مزدور اور اسی طرح سیاسی قیدیوں اور موت کے گھاٹ اتارے جانے والے افراد کے خاندان سب ہی مسلسل آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہمارے ملک میں طاقت ور شہری حلقوں کے نمودار ہونے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔
تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے.. مگر کیسے؟ اس کے لیے شہری مزاحمتی تحریک کو نظام پر اندورونی طور پر دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہوگا اس کے ساتھ ساتھ نظام پر بیرونی طور دباؤ ڈالنے والے فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔
مماثل تحفظات
مشرق وسطی کی معاصر تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ خطے کے ممالک کے تحفظات میں اس حد تک مماثلت پائی جارہی ہے۔ خطے کے مرکزی ممالک مثلا سعودی عرب، پاکستان، ترکی، مصر اور بہت سے مغربی ممالک مثلا فرانس اور جرمنی. ان سب کی انگلیاں ایران کی جانب ہیں!
مسلح افواج کا اضطراب
ہم مسلح افواج کے اہل کاروں سے کہتے ہیں کہ ایران کے مستقبل میں آپ لوگوں کی جگہ محفوظ رہے گی اور نظام کی تبدیلی کے بعد آپ کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ بے شک ہر نظام کے پیروکار ہوتے ہیں مگر ایران میں مسلح افواج کی اکثریت آج عدم اطمینان کا شکار ہے۔ وہ لوگوں کی گالیاں بھی کھاتے ہیں اور ان کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچتا، ان کی اجرتیں ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
فرقہ وارانہ جنگوں کا خاتمہ
موجودہ ایرانی نظام مسلک کے فلسفے کی بنیاد پر خلافت کی تاسیس چاہتا ہے - ملک کا مستقبل ایسا ہو جہاں قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔ ان کی قومیت، رنگ، نسل اور مذہب اور مسلک کو نہ دیکھیں۔ جب تمام شہری برابری کی بنیاد پر زندگی گزاریں گے تو پھر فضائیں پرامن ہوں گی۔ ملک ترقی، معاشی استحکام، انفرادی اور اجتماعی امن و امان کا گہوارہ بنے اور یہ قانون کی بالادستی کے بغیر نہیں ہوگا۔

نظام فقیہ کا اپنے مفاد میں کام آنے والی لابی پر خطیر رقم بہانا
گزشتہ دو ڈھائی سالوں کے دوران ایران میں دی گئی سزائے موت کی تعداد تقریبا دو ہزار رہی جو احمدی نژاد کے دور حکومت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
مغربی دنیا میں ولایت فقیہ کے نظام کے مفاد میں کام کرنے والی لابی سرگرم ہے۔ ایرانی نظام یورپ اور امریکا میں اپنے ہم نوا پریشر گروپوں پر خطیر رقم خرچ کرتا ہے۔ یہ لابی بتدریج تبدیلی اور اصلاحات واقع ہونے کا پروپیگنڈہ کرتی ہے تاکہ موجودہ نظام کو برقرار رکھا جاسکے۔

ایرانی نظام داعش کا ناخدا ہے
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ داعش کا مقابلہ کرنے میں ایران ان کا حلیف ہوسکتا ہے۔  اس "بوجھ" کا ناخدا ہی ایرانی نظام ہے پھر اس کے ساتھ اتحاد کس طرح ممکن ہے؟ جس نظام کی بنیاد ہی دہشت گردی کے لیے رکھی گئی ہو وہ آپ کا اتحادی کیسے ہوسکتا ہے؟ اس مسئلے کی وسیع پیمانے پر وضاحت کی کی جانی چاہیے اور اس کے لیے ذرائع ابلاغ کے ذریعے گہری آگاہی کی ضرورت ہے اور یہ تیز ترین راستہ ہے۔
امریکیوں سے قربت دباؤ اور درمیانی ایجنٹوں کا نتیجہ ہے
جن بعض پریشر گروپوں کی جانب اشارہ کیا تھا ان کا موجودہ امریکی حکومت کی بعض شخصیات پر اثر و رسوخ ہے۔ ان کے علاوہ بعض "درمیانی بروکر" بھی ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ تعلقات کے قیام کے لیے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ بہرکیف جو معاہدہ ہوا ہے وہ مکمل نہیں ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ نیوکلیئر معاہدے کے نتیجے میں واپس ملنے والی رقم کہاں خرچ ہوگی ؟ یہ ایرانی عوام پر خرچ ہوگی یا پھر نظام اس کو ملیشیاؤں پر لٹائے گا؟ میرے خیال میں پابندیوں کے اٹھنے کے بعد کے منظرنامے کے حوالے سے غیرحقیقی رجائیت پسندی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

تہران کا نظام بربریت اور انسانی جرائم کے ارتکاب پر قائم ہے
ایرانی نظام کا مقصد خطے کے استحکام کو خطرے سے دوچار کرنا ہے۔ یہ نظام جب لوگوں کو اپنا ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور کرتا ہے تو یہ مہاجرین دیگر ممالک پر بہت بڑا دباؤ ثابت ہوتے ہیں اور یہ امر ایک انسانی جرم شمار کیا جاتا ہے۔ اگر ایرانی نظام ان عوام سے ہمدردی رکھتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔

شام کا مستقبل؟
شام کا مستقبل بڑی حد تک ایرانی نظام کے مستقبل سے مربوط ہے۔ ایران میں صورت حال کی تبدیلی کے نتیجے میں یقینی طور پر شام میں حالات تبدیل ہوں گے۔ اگر ہم ذمہ داری کی حد تک حکومت پانے میں کامیاب ہوگئے تو ایک طرف ہم نیوکلیئر اندیشوں کا خاتمہ کریں گے اور دوسری طرف دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ تمام تر تعلقات کو ختم کر ڈالیں گے جن کو ایرانی نظام سپورٹ کرتا ہے۔ ہمیں مشترکہ ویژن کے ذریعے مسائل سے نمٹنا چاہیے۔ جب یورپ والوں کی مشترکہ منڈی ہوسکتی ہے تو پھر اسی طرح ہماری کیوں نہیں ہوسکتی؟

ایرانی نظام اپنی بقاء کے لیے دوسروں کے زوال کا قائل
مشرق وسطی میں چار دارالحکومت ہیں جن پر ایرانی نظام کا کنٹرول ہے۔ ایرانی نظام نے پہلے روز سے ہی سعودی عرب کے خلاف مقابلہ آرائی شروع کی مگر سعودی حکومت نے اس وقت مماثل طریقے سے سامنا نہیں کیا تاکہ بلا وجہ اشتعال نہ پھیلے۔ اس دوران حجاج کی آمدورفت جاری رہی۔ موجودہ ایرانی نظام کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا دنیا کے ساتھ باہمی بقاء ممکن نہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کی بقاء دوسروں کے زوال کے مرہون منت ہے۔ اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے امور میں مداخلت نہ کرے۔ صدام حسین نے 1982 میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو جنگ کا خسارہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے ، اقوام متحدہ نے بھی اس کا اعلان کیا مگر خمینی نے اس کو مسترد کرتے ہوئے کاہ کہ جنگ کو جاری رہنا چاہیے کیوں کہ بیت المقدس کا راستہ کربلا سے گزر کر جاتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ہمارا طویل المیعاد مقصد دنیا پر کنٹرول حاصل کرنا اور اس کو ایرانی نظام کے آگے سرنگوں کرنا ہے۔

ایرانی عوام نہیں بلکہ ایرانی نظام خطے کی دیگر اقوام کا دشمن ہے
ایران کی جانب سے سعودی عرب اور بحرین کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے۔ میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ خطے کے ممالک بالآخر مداخلت پر مجبور ہوجائیں گے۔ لہذا میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ مشاورت کی جائے تاکہ ہم خطے کے ممالک کے ساتھ مشترکہ موقف کے حوالے سے تعاون کرسکیں ۔ ہمارا ایک مشترکہ دشمن ہے جس کا نام "ایرانی نظام" ہے۔
ایرانی عوام کسی ملک کے عوام کے معاند نہیں ہیں۔ ایرانی نظام کے زوال کے ساتھ ہی اس کی پیدا کردہ تمام تر عداوتیں اور نفرتیں ختم ہوجائیں گی۔ ہم دیکھیں گے کہ ایرانی عوام دیگر مسائل کی طرف توجہ دے گی جس میں غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ اور ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حصول شامل ہیں۔ ایران کسی طور غریب ملک نہیں ، ہمارے پاس مختلف قسم کے قدرتی وسائل ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ خدانخواستہ ایران کی خطے کے ممالک کے ساتھ جنگ چھڑجائے مگر ایرانی نظام کے خاتمے کے لیے ہمیں عوام کا براہ راست ساتھ دینا ہوگا۔

خطے کو بحرانوں سے بچانے کا راستہ مشترکہ عمل ہے
ولایت فقیہ کے نظام کے بغیر مستقبل میں ایران کے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر مختلف نوعیت کے اور ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوں گے۔ بہرکیف خطے کے لیے آئندہ 30 سے 40 سال عملی طور پر مشکل ہوں گے۔ مراکش سے لے کر پاکستان تک ہمیں پانی کے بحران کا بھی سامنا ہوگا اور یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر 21 ویں صدی میں جنگ ہوئی تو وہ تیل نہیں بلکہ پانی کی وجہ سے ہوگی۔ اس کے لیے ہمیں ابھی سے منصوبہ بندی کرنا چاہیے اور یقینا اس سلسلے میں جدید ٹکنالوجی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان تمام امور پر غور کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم نے دور اندیشی پر مبنی فیصلہ نہ کیا تو گویا ہم اس معاملے کو تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہونے دیں گے۔
میرے نزدیک ایرانی نظام خطے میں بحران کا مرکزی سبب ہے۔ اس کے زوال سے خطے کی حالیہ 90 فی صد مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ خطے میں ہمارے دوست ایرانی عوام کو آزاد کرانے کے لیے اپنی مدد پیش کریں گے۔