Featured Post

Wilayat-e-Faqih ولایت فقه (شیعہ عالمی خلافت ) کا ایرانی نظریہ

Wilayat-e-Faqih doctrine, a fifth column strategy, has propagated sectarianism in the Muslim world The Arab world came into th...

Friday, September 1, 2017

Khatm-e-Nabuwat-qadyani ختم نبوت - تحقیقی جائزہ



مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی 100 سے بھی زیادہ آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے:

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo (الاحزاب40)
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالٰیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔

قرآن حکیم میں سو سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ لہٰذا اب قیامت تک کسی قوم، ملک یا زمانہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور نبی یا رسول کی کوئی ضرورت باقی نہیں اور مشیت الٰہی نے نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلسلۂ نبوت اور رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ. (ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الرويا، 4 : 163، باب : ذهبت النبوة، رقم : 2272)

ترجمہ : اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔

اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. (ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219)

ترجمہ: میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اگر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتب کے احکام منسوخ کرنے والی اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام و قوانین میں جامع و مانع ہے۔ قرآن کریم تکمیل دین کااعلان کرتا ہے۔ گویا انسانیت اپنی معراج کو پہنچ چکی ہے اور قرآن کریم انتہائی عروج پر پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کسی دوسری کتاب کی ضرورت ہے ، نہ کسی نئے نبی کی حاجت۔ چنانچہ امت محمدیہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انسانیت کے سفر حیات میں وہ منزل آ پہنچی ہے کہ جب اس کا ذہن بالغ ہو گیا ہے اور اسے وہ مکمل ترین ضابطۂ حیات دے دیا گیا، جس کے بعد اب اسے نہ کسی قانون کی احتیاج باقی رہی نہ کسی نئے پیغامبر کی تلاش۔

قرآن و سنت کی روشنی میں ختم نبوت کا انکار محال ہے۔ اور یہ ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خود عہد رسالت میں مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعوی کیا اور حضور کی نبوت کی تصدیق بھی کی تواس کے جھوٹا ہونے میں ذرا بھی تامل نہ کیا گیا۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں صحابہ کرام نے جنگ کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس کے بعد بھی جب اور جہاں کسی نے نبوت کا دعوی کیا، امت مسلمہ نے متفقہ طور پر اسے جھوٹا قرار دیا اوراس کا قلع قمع کرنے میں ہر ممکن کوشش کی۔ 1973ء کے آئین میں پاکستان میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے والے کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
https://ur.m.wikipedia.org/wiki/ختم_نبوت
28 ارکان کے دستخطوں پر پیش کیا۔قائدایوان ذوالفقارعلی بھٹونے سانحہ ربوہ پرغورکرنے اور قادیانی مسئلے پر سفاشات مرتب کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی کوخصوصی کمیٹی قرار دیا۔ سرکاری طور پر بل وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کیا۔قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پرغوروفکرکرنے کے لیے دو ماہ میں 28 اجلاس اور 96 نشستیں کیں۔ 5اگست 1974ء میں ایوان کی پہلی کارروائی ہوئی جس کی صدارت چیئرمین سینٹ صاحبزادہ فاروق علی خان نے کی۔6 سے 10 اور 20 سے 23 اگست کو قادیانیوں پر جرح ہوئی اور 27اگست کولاہوری گروپ پرجرح ہوئی۔لاہوری اور قادیانی گروپ نے اپنے اپنے محضر نامے پیش کیے اور جھوٹے ثابت ہوئ۔یہاں تک کہ پاکستان کے قومی اسمبلی میں یہ بل 7 ستمبر 1974ء کو4بج کر35منٹ پرمنظورہوا اور پوری قوم کے اتحاواتفاق سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاگیا۔
ذوالفقارعلی بھٹونے قائد ایوان کی حیثیت سے 27منٹ تک وضاحتی تقریرکی اور بتایاکہ قادیانی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے بھی انکاری ہیں اور پاکستان کے بھی دشمن۔ یوں 7ستمبرکوایک تاریخی فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہوا۔اس فیصلے پر ملک بھر میں خوشی ومسرت کی لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں نے اس فیصلے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے کی بارہا کوشش کی، جس پر علماء نے احتجاج کیااور صدر ضیاء الحق سے مطالبہ کیا، جس پر انہوں نے 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکے قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ مرزا طاہر برطانیہ فرارہوگیا یعنی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کاخمیرتھا ، مگرختم نبوت کے پروانوں اور دیوانوں نے اِن کا پیچھا کہیں بھی نہیں چھوڑا۔
سوال #1 : قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے، پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی اسلامی ملک نے ان کو غیر مسلم نہیں قرار دیا - لہٰذا ان کو غیر مسلم قرار دینے کا کسی کو حق نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کریں۔ کوئی ایسی آیت قرآن بتائیں جس سے ختم نبوت کا انکار کسی کو خارج اسلام کر دے؟ جواب: بظاھر بات معقول لگتی ہے، مگر جب قرآن اور اسلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے- میرے علم کے مطابق دنیا میں کسی مسلم ملک یا مستند علماء میں سے کسی نے حکومت پاکستان کے قادیانی کو غیر مسلم قرار دینے کو غلط نہیں کھا- مختصر جوابات درج ذیل ہیں، تفصیلا جواب نیچے مفصل" تحقیقی جائزہ" پڑھنے سے مل جائیں گے :
1.ختم نبوت کوئی لوکل مسلہ نہیں اس پر چودہ سو سال سے قرآن و سنت کی روشنی میں صحابہ اور علماء کا مکمل اجماع ہے کہ اپ کے بعد کوئی نبی رسول نہیں ہے، جو ایسا دعوی کرے وہ اور اس کو ماننے والے کافراسلام سے خارج ہیں-
2.قادیانی فتنہ بر صغیر ہندو پاک کی پیداوار ہے، لہٰذا اس کا حل بھی ادھر ہی نکالنا ہے- باقی دنیا کو اس فتنہ کی بنیادی وجوہات اوٹ تفصیل کا اتنا علم نہیں ہو سکتا- ان کی کتب ، مٹیریل کثریت اردو میں ہیں جن کا مکمل رکارڈ یھاں موجود ہے جس سے قادیانی انکار نہیں کر سکتے- کسی دور دراز ملک میں قادیانی مبلغین جو پراپگنڈا کریں گے اور قرآن و حدیث کی تحریف شدہ آیات پیش کرکہ ان کو دھوکہ دے سکتے ہیں- اگر مصر، نائجیریا، انڈونیشیا یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار پیدا ہوں تو وہ ممالک ہی ان کا سدباب کریں گے ہم کو شاید اس بات کا علم بھی نہ ہو سکے-

3.قرآن و سنت کا علم تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے مگر چند صدی قبل جو اسلامی تحقیق انڈیا پاکستان میں ہوئی اور جو علماء یھاں پیدا ہوۓ اس کی مثال مشکل ہے- یہ بھی ایک وجہ ہے کہ قادیانیت کے فتنہ کا رد بھی مدلل طریقه سے یہیں ہوا اور ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا-
4.اس دور میں دنیا میں اکثریت دہریہ atheists اور مسیحی مذھب والے ہیں، جو اسلام کو نہیں مانتے، ہم کو ان کی پرواہ نہیں، دعوه اسلام کی کوشش کرتے ہیں، الله کا فرمان ہے:
".. جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا(قرآن 17:15) 5.مسلمان تمام انبیاء اور تمام الہامی کتب پر ایمان رکھتے ہیں- قرآن کے مطابق قرآن کی آیت کا انکار کرنے والا کفر ، ظلم کرتا ہے اور عذاب کا مستحق ہے۔ الله قرآن میں اپ صلعم کو ختم النبیین ، آخری نبی قرار دیتا ہے، جو اس آیت کا انکار کرتا یا تحریف کر کہ کوئی نیا مطلب نکلتا ہے وہ قرآن کا کفر کرتا ہے اور مسلمان نہیں ہو سکتا-
قرآن کی آیت کا انکارکفر ہے، صرف چند آیات پیش ہیں: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo (الاحزاب، 40) ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ( النساء-136 ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا ( النساء-136 ) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ( التغابن-10) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے- وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ (المائدہ-10) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔ "پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔"(قرآن ، سورت الانعام، آیت نمبر 157)
....................................
سوال #2:
بہت سے مسلمانوں کے ذہن میں ایک سوال کانٹا بنا ہوا ہے کہ قادیانیوں اوردیگر غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟
ایسی کونسی بات ہے جس کی وجہ سے قادیانیوں کو دوسرے غیر مسلموں سے زیادہ برا قرار دیا جاتا ہے؟
مسلمانوں کو دوسرے غیر مسلموں سے میل ملاپ اور ضروری تعلقات اور کاروبار کی بقدر ضرورت اجازت ہے مگر قادیانیوں کے ساتھ ایسی کوئی اجازت نہیں ہے؟
سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ:
قادیانیوں میں اور دوسرے کافروں ( غیر مسلموں) میں کیا فرق ہے؟
پہلے کفر کو سمجھ لیں ، یوں تو کفر کی بہت سی قسمیں ہیں مگر کفر کی تین اقسام بالکل ظاہر ہیں۔
(1) مطلق کافر:
وہ ہے جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو یا اعلانیہ کفر کا مرتکب ہو۔ اس قسم کے کافر کو مطلق (کھلا) کافر کہتے ہیں۔ اس میں یہودی، عیسائی ، ہندووغیرہ سب داخل ہیں۔ مشرکین مکہ بھی اسی قسم میں داخل تھے اور مطلق کافر تھے۔
(2) منافق:
دوسری قسم والے کو منافق کہتے ہیں جو زبان سے ''لا الہ الا اللہ'' کہتا ہے مگر دل کے اندر کفر چھپاتا ہے۔
(3) زندیق:
ان منافقوں سے بڑھ کرہے اور اس تیسری قسم والوں کا جرم ہے کہ وہ کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ خالص کفر لیکن یہ اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں ''زندیق'' کہا جاتا ہے ۔ قادیانیوں کا تعلق اسی قسم سے ہے ۔
اب اسی بات کو عام زبان میں سمجھتے ہیں-
قادیانی زندیق ہیں، مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لے ۔اور زندیق وہ ہوتا ہے جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے ، لہذا یہ لوگ اسلام کے باغی ہیں،اور جس طرح کسی ملک کاباغی کسی رو رعایت کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ ان لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں وہ بھی قابل گرفت ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح چونکہ قادیانی بھی زندیق ہیں تو اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی رو رعایت اور میل ملاپ کے مستحق نہیں۔ دوسرے کافر اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اور مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں، جبکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد پر ملمع سازی کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں-
مثال سے یہ بات سمجھئے:
سب کومسئلہ معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے۔ شراب کا پینا، اس کا بنانا، اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں ۔اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے یہ بھی مجرم ہے، اور ایک دوسرا آدمی ہے جو شراب فروخت کرتا ہے اور مزید ستم یہ کرتا ہے کہ شراب پر زمزم کا لیبل چپکاتا ہے یعنی شراب بیچتا ہے اس کو زم زم کہہ کر، مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کافرق ہے۔
ایک حرام کو بیچتا ہے۔ اس حرام کے نام سے ، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے اور دوسرا اسی حرام کو بیچتا ہے۔ حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہوسکتا ہے ۔ٹھیک یہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوئوں ، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔ کفر ہر حال میں اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے تمام کافر اپنے کفرپر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کافر ہونے میں بھی کوئی شک نہیں، اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں ۔مگرقادیانی کافر ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جی!
ہم تو ''جماعت احمدیہ'' ہیں۔
ہم تو مسلمان ہیں
لندن میں اپنی بستی کا نام رکھا ہے''اسلام آباد'' اور کہتے ہیں کہ جی ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔
جی! ہمارے تو شرائط بیعت میں لکھا ہوا ہے کہ میں صدق دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔
لہٰذا مرزائی زندیق ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر پراسلام کو ڈھالتے ہیں :
1. ساری دنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
2.دوسو سے زیادہ احادیث ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عنوانات سے، مختلف طریقوں سے ختم نبوت کا مسئلہ سمجھایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی
3.لیکن قادیانی مرزائی تحریف کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر سے نبی بناکریں گے۔اس کے بعد مرزا قادیانی کو نبی بناتے ہیں ۔
4.ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے اور کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مرزا مراد لیتے ہیں۔
5. چنانچہ مرزا بشیر احمد(مرزا قادیانی کا بیٹا ) لکھتا ہے۔''مسیح موعود(مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کیلئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسو ل اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔'' (کلمہ الفصل صفحہ158)
6.گویا''لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' کے معنی ان کے نزدیک ہیں ''لا الہ الا اللہ مرزارسول اللہ'' (نعوذ باللہ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے
7.۔پھر اس پر یہ کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے-
8. چنانچہ مرزا بشیر احمد(مرزا قادیانی کا بیٹا )لکھتا ہے۔''ہرایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کونہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا ہے اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومانتا ہے پر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافربلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمہ الفصل صفحہ110)
9.یہ ہے زندقہ ،کہ نام اسلام کا لیتے ہیں، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآن کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں اور اپنے بہت سے کفریہ عقائد کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں
10.ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو  شراب بیچتے ہیں مگر زمزم کا لیبل چپکا کر
11.اگر یہ لوگ اپنے دین و مذہب کو اسلام کا نام نہ دیتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے کہ ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو ہمیں ان کے بارے میں اس قدر متفکر ہونے کی ضرورت نہ ہوتی۔ (ایران میں بہائی مذھب)
12.قادیانیوں کو یہ حق آخر کس نے دیا ہے کہ وہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول سمجھیں اور پھر اسلام کا دعویٰ بھی کریں؟
13.محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو منسوخ کر کے اس کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریںپھر اس کا کلمہ جاری کرائیں۔
14.مسلمانوں کو کافر کہیں ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی(قرآن کریم) کے بجائے مرزا کی وحی(تذکرہ) کو واجب الاتباع اور مدارنجات قرار دیں اورپھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اورغیر احمدی(یعنی مسلمان) کافر ہیں۔

اب ہمارے ذمہ ہے مرتد اور زندیق کے بارے میں اسلام کا مطالعہ کریں- قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،  جو حکومت کا کام ہے اس کو حکومت پر چھوڑیں۔ ہم انفرادی طور پر اس پر قادر نہیں نہ اس کی اجازت ہے۔ ہم کو اپنے ایمان کو بچانا ہے اور مسلمانوں کو تبلیغ کرنا ہے کہ ان کو پہچانیں اور ایمان کی حفاظت کریں-

سوال #3:
قادیانی گھر میں پیدا بچے برے ہو کر مرتد تو نہیں کیونکہ وہ تو مسلمان ہی نہیں تھے ؟
جواب :
قادیانی یا تو مرتد ہوں گے ،یا زندیق،  جو اسلام ترک کرکے قادیانی ہوئے وہ مرتدہیں اورجو قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے اور اپنے مذھب کو اسلام کہنے پر مصر ہیں اور ساتھ ہی قادیانی عقائد کو بھی گلے سے لگائے ہوئے ہیں ۔وہ زندیق ہیں اور اسلام میں “مرتد و زندیق” کے احکام عام کافروں سے الگ ہیں۔ لہٰذا یہ دلیلیں دینا کہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی آزادی دی جائے ، انھیں بھی مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ۔یہ درست نہیں ہے ،کیونکہ دنیا میں جعل سازی کی اجازت کوئی بھی قانون نہیں دیتا ۔ مثال کے طور پر کوکا کولا کمپنی کو پتہ چلے کہ کوئی اس کے نام سے جعلی مشروب بنا رہا ہے اور لیبل تو کوکا کولا ہے لیکن اندر جو چیز ہے، وہ اصلی نہیں تو قانون ایسی جعل ساز فیکٹری کو بند کرنے کا پابندہے ۔اگر دنیا میں کسی کمپنی کے ٹریڈ مارک کی اتنی اہمیت ہے تو کیا دین اس سے بھی گیا گزرا ہے کہ کوئی بھی اپنے کفریہ
عقائد کو “اصلی اسلام” بنا کر پیش کرے اور اسے کھلی اجازت دے دی جائے ؟
سوال #4
اہل کتاب سے تعلقات جائز ہیں ان کا ہلال کھانا اور ان کی نیک عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے، تو پھر قادیانوں سے اتنی سختی کیون، جو مسلمانوں کی طرح عبادت کرتے قبلہ کی طرف نماز بھی پڑھتے ہیں؟
جواب : مفصل جواب اوپر ہے ، مختصر جواب :

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ختم نبوت - تحقیقی جائزہ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
انڈکس



فتنہ مرزیت کا خاتمہ : شیر نواب خان قصوری (1935): https://goo.gl/xgVb6c

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Peace
Peace Forum Network
Visited by Millions
http://Peace-Forum.blogspot.com
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *...
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *