Featured Post

Wilayat-e-Faqih ولایت فقه (شیعہ عالمی خلافت ) کا ایرانی نظریہ

Wilayat-e-Faqih doctrine, a fifth column strategy, has propagated sectarianism in the Muslim world The Arab world came into th...

Friday, September 23, 2016

Looking at face of Ali is worship حضرت علی رضی اللہ کا چہرہ دیکھنا عبادت، مولی علی کہنا

عبد اللہ ابن مسعو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "علی (رضی اللہ عنہ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔" (تاریخ دمشق الکبیر)
 متعدد صحیح احادیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بے شمار مناقب و فضائل بیان ہوئے ہیں۔مگر کوئی مسلمان ان کو یا کسی کو بھی،  کسی صورت میں اللہ کا یا رسول اللہ کا شریک قرار نہیں دے سکتا، قرآن واضح ہے:
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ ( قرآن ، الفاتحہ 1:4)
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں.
مسلمان دن میں یہ آیت کم از کم 17 مرتبہ فرض نماز رکعت میں پڑھتا ہے۔
عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ (١)پوجا اور پرستش (۲)اطاعت اور فرمانبرداری (۳)بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں ،مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں ۔بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے ۔ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بار بار تاکید کی ہے:

اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کار ساز ہے( سورہ انعام آیت 102)

 بے شک وشبہ وہ لوگ کافر ہوئےجنہوں نے یہ کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے حالانکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تم سب کا رب ہے یقین جانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر اللہ تعالٰی نے جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔( سورہ مائدہ آیت72)

بےشک میں تیرا اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر ۔(سورہ طہ آیت 14)

اللہ تعالٰی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مندرجہ ذیل حکم دیا :
کہہ دیجئے اے لوگو اگر تمہیں میرے دین میں کوئی شک وشبہ ہے تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کوچھوڑ کر عبادت کرتے ہو لیکن ہاں میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں فوت کرتا ہے اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان دار مومنوں میں سے ہو جاؤں۔( سورہ یونس آیت 104)
میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔( سورہ ذاریات آیت 56)

 درج ذیل حدیث قرآن:  اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ ( قرآن ، الفاتحہ 1:4) کے مخالف ہے۔ قرآن کے انکار کا کیا مطلب ہے ، سب مسلمان جانتے ہیں۔ مزید حدیث ضعیف ہے۔ ۔ السلسلۃ الضعیفہ میں درج ہے۔ 

النظر فی المصحف عبادۃ و نظر الولد الی الوالدین عبادۃ و النظر الی علی بن ابی طالب عبادۃ)
''قرآن کو دیکھنا عبادت ہے،اولاد کا والدین کو دیکھنا عبادت ہے اور حضر ت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔'(موضوع:السلسلۃ الضعیفۃ(356)
عبد اللہ ابن مسعو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "علی (رضی اللہ عنہ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔" (تاریخ دمشق الکبیر)
موضوع : یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے،اور اس کے تمام طرق شدید ضعیف ہیں،اہل علم کی ایک جماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث کذب اور موضوع ہے۔ یہ باطل نظریات کے حامل لوگوں کی وضع کردہ ہے۔
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ الموضوعات ‘‘ میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔"اس کے جمیع طرق غیر صحیح ہیں" (الموضوعات:2/126) 
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ایک سے زائد مقامات پر موضوع اور باطل قرار دیا ہے۔ (ميزان الاعتدال:3/236)
 امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوع روایات میں ذکر کیا ہے۔ (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة:ص/359) 
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔: "یہ حدیث موضوع ہے ،کثرت طرق کے باوجود نفس اس کی صحت پر مطمئن نہیں ہوتا،کیونکہ اس کو روایت کرنے والے اکثر رواۃ کذاب ، وضاع متروک اور مجہول ہیں،جن کے لئے احادیث کی چوری کرنا اور ان کی اسناد کو خلط ملط کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اسی لئے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس پر وضع کا حکم لگایا ہے۔"(السلسلة الضعيفة:4702)
اللہ ہم کو شرک سے بچائے
واللہ اعلم 
قرآن میں فرمایا:
 (لوگو!) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ  ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے (30:31-32)

 اے ایمان والوں! اپنی فکر کرو، جب تم راه راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراه رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وه تم سب کو بتلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے 
(105سورة المائدة) 


حضرت علی ابن ابی طالب (رضى الله عنها) نیں فرمایا :
" میرے  بارے میں گمان کرنے والوں کی دو اقسام برباد ہو جائیں گے ،
جو لوگ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور محبت کی شدت ان کو سیدھے راستے سے سے دور لے جاتی ہے، اور  وہ لوگ جو مجھ سے بہت زیادہ نفرت کرتے ہیں اور نفرت کی شدت ان کو سیدھے راستے سے دور لے جاتی ہے .
میرے حوالے سے سب سے  اچھے  وہ لوگ ہیں جو درمیان کا راستہ اختیار کریں 
لہٰذا ان لوگوں کے ساتھ ہو جائیں اور مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے ساتھ ہوجاؤ
  کیونکہ الله کے حفاظت اتحاد میں ہے .
 تم لوگ تفرقے سے بچو.جو  گروپ سے الگ تھلگ ہوتا ہے وہ شیطان کا آسان شکار ہوتا ہے. جیسے جو بھیڑ گلے سے علیحدہ ہوتی  ہے بھیڑے کے لے آسان شکار ہوتی ہے .
 ہوشیار!  جو بھی اس راستے  [فرقہ واریت کے] پر بلاتا ہے چاہے وہ میرے نام کے گروپ سے ہو اس کو xxx کرو. 
[ خطبہ نمبر 126  "نہج البلاغہ" حضرت علی ابن ابی طالب (رضى الله عنها)
 کے خطبات اور اقوال کی مستند   کتاب ترجمہ و مفہوم]  
نوٹ : خبردار : قتل کا اختیار  قانون کے مطابق اسلامی حکومت کے قاضی اور عدلیہ کو ہے . فساد فی الارض ممنوع ہے .
 سوال یہ ہے کہ کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ علی مولا ہے اور مولا علی ہے؟ کیا یہ صحیح حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا میں مولا اس کا علی مولا ؟اگر یہ حدیث صحیح ہے تو پھر اکثریت مسلمان علی مولا کیوں نہیں کہتے ہیں ؟
جواب ملاحظہ لنک:
دروز فرقہ کے بارے میں معلومات درکار ہیں‘ براہ کرم اس فرقے کے عقائد ونظریات اور اقدامات پر روشنی ڈالیں۔

اسلامی فکر کی تشکیل (شیعہ تاریخ) کے داخلی محرکات

Tuesday, September 20, 2016

Why do some Catholics Christians self-flagellate? خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کا فتوی

The late Pope John Paul II would whip himself, according to a nun who helped to look after him. So how common is this practice in the Catholic faith?
"We would hear the sound of the blows," says Sister Tobiana Sobodka, who was in the next room to Pope John Paul II at his summer residence in Castel Gandolfo, near Rome.

Christ was scourged before the Crucifixion, Christians believe
Her evidence was given to the Vatican body which is considering whether to declare the Pope - who died five years ago - a saint.
Flagellation is the beating or whipping of the skin, most often on the back, and often drawing blood, as a bodily penance to show remorse for sin.
It was a widespread practice in some parts of the Catholic ministry up to the 1960s but is uncommon today, says Professor Michael Walsh, a Catholic historian.
Flagellation is acted out for symbolic purposes during penitential processions during Lent's Holy Week in Mediterranean countries, he says, as a reminder that Jesus Christ was whipped before the Crucifixion.
But in some countries like the Philippines, this re-enactment of the suffering of Jesus Christ - called the Passion play - can take a more extreme form and can draw blood.

THE ANSWER
Self-flagellation is only practised by a very small minority of Catholics
It is an expression of remorse for sins
It is also part of the Passion play in Holy Week
For others self-flagellation is a more private expression of faith.

It is thought to have come to prominence in Western Europe in medieval times around 600 to 800 AD as an extreme version of bodily penance, says Professor Lewis Ayres, a Catholic theologian at Durham University.
Early Christians believed that the notion of bodily penance allowed control of the body and emotions in order to focus more fully on worshipping God.
The practice continued in what Mr Ayres calls "the more conservative Catholic orders" well into the 20th Century and is still probably practised by a "tiny minority" today.

Pope John Paul II could be made a saint in 2010
Opus Dei, a branch of the Catholic Church which has a reputation for secrecy and featured in the Dan Brown bestseller The Da Vinci Code, is one of those groups unusual in doing this today, according to Mr Walsh.
Andrew Soane of Opus Dei says that what it calls "corporal mortification" goes back to the early Christians but it fell out of favour in the 1950s.
"It may happen that this change is reversed as people reconnect with their bodies and take control via moderate fasting and some corporal mortification, finding it a very healthy practice, which can overcome such unhealthy developments as drug use, sexual addictions, eating disorders and other body-hating approaches."
The Opus Dei website says some members self-flagellate for about one or two minutes a week, using a woven cotton string that causes some discomfort but does not draw blood.
Tradition of suffering
The revelation that Pope John Paul II, who died in 2005, possibly engaged in flagellation does not necessarily surprise Catholic scholars.
"Pope John Paul II was a firm believer in the New Testament tradition of suffering, a consistent theological historical position that a good life is simply preparation for death and life everlasting to follow," according to Mr Ayres.
"Part of a good life is remorse and remorse can be shown through physical suffering."

Mr Walsh says Pope John Paul II grew up in an era where bodily punishment was seen as pious, and the possibility he may have engaged in it will aid the campaign for his beatification.
The Vatican body which decides these matters, the Congregation for the Causes of Saints, would regard this as a sign of his religious commitment, says Mr Walsh.
Whether the practice is more widespread in Asia today than Europe is harder for scholars to agree a position on.
Mr Ayres thinks it may be simply that "different forms of Catholic expression and piety take on different forms across the world".
"Certain cultures preserve older customs in a cultural context - and flagellation is no longer part of the cultural context of the vast majority of Catholics in the West," he says.
As to why flagellation seems to have disappeared, Mr Walsh is in no doubt.
"Early Christians thought the body was evil and needed to be controlled. Quite simply, we now have a greater understanding that such practices are not healthy."
http://news.bbc.co.uk/2/hi/uk_news/magazine/8375174.stm


Mexico: Self-flagellation during Good Friday procession 
Problem with youtube, click link: http://goo.gl/Yfi9n
Shia Self Flagellation


Prophet Muhammad [peace be upon him] said: 
  • "He is not one of us, he who imitates others. Do not imitate either the Jews or the Christians." [Reported by ImamsTermithy & Abu-Dawd]
  • "If one imitates another nation he will be from them." [Reported by Imam Abu-Dawd]
  • http://islam1.org/khutub/Imitation_of_None-Muslims.htm
Imam Khomeini issued a verdict about the forbiddance of blood matam and Karbala plays [Taziah] making their permissibility conditional on them not harming Islam. After this Ayatollah Shahid Sayyid Muhammad Baqir Sadr and Ayatollah Shahid Murtaza Mutahari, as well as a group of scholars with foresight, supported this ruling and condemned blood matam. Shahid Ayatollah Mutahari mentioned this discussion in his book Howza va Ruhaniat: `Blood matam in its present form has not rational or religious backing. It is a clear instance of deviation. At least, in the present day it causes Shiaism to be questioned. Programs that do not have any relation to the goals of Imam Husayn (as) are razors, blades, and locks. Striking the head with a blade is the same. This is a mistake. Some people take blades and strike their heads making blood flow – for what? This action is not mourning.
Shahid Sayyid Abdul-Karim Hashimi-Nejad wrote about the bad effects of blood matam on the Shia faith: Ayatollah Makarem Shirazi said: `It is necessary for our dear mourners to refrain from committing actions which would cause the religion to look bad or cause an injury to their body.` [www.makaremshirazi.org] as a strong weapon by the enemies from within and without the country.`Shahid Ayatollah Murtada Mutahari: `Blood matam in its present form does not have a rational or religious proof. It is a clear instance of deviation. At least, in the present day it causes Shiaism to be questioned. Programs that do not have any relation to the goals of Imam Husayn (as) are razors, blades, and locks. Striking the head with a blade is the same. This is a mistake. Some people take blades and strike their heads making blood flow – for what? This action is not mourning.` Howzah va Ruhaniyat, v.2, p.173 
Source: http://www.ic-el.com/en/show_news.asp?idnum=38&state=article

Also read: Mourning Matam: Self-Flagellation
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کے فتوی پر عمل کرنے پر علماء کی تلقین
ابنا فارسی نے پیش لفظ یوں(یہ اسکا ترجمہ ہے) لکھا تھا: 
عزاداری اور ماتم کے مراسم میں قمہ زنی کرنا ، تالوں اور زنجیروں سے جکڑنا، سر اور سینے کو خون آلود کرنا ، زیارت میں سینہ خیز چلنا اور اس قسم کے طریقوں پر مبنی عزاداری کرنا بے شک اسلام اور بالخصوص اپنے مذہب کی اہانت کا سبب بن جاتے ہیں خاص کر موجودہ دور میں جس میں مسلمانوں کے کردار اور رفتار کا باریک بینی کے ساتھ تحقیق کیا جاتا ہے اور اس پر اسلام کے بارے میں قضاوت کی جاتی ہے ۔ اسلئے مقام معظم رھبری دامت برکاتہ نے امت اسلامی کو ارشاد کرتے ہوئے اس قسم کے مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ ایسا کام مذھب کی توہین ہے اسے ترک کیا جانا چاہئے اور کئ بار قمہ زنی ترک کرنے اور حسینی مجلس میں خرافات کو ترک کرنے کی تاکید کرتے رہے اور سال ۱۳۸۸ ہجری شمسی(مطابق۲۰۰۹م)مبلغوں کے ملاقات کے دوران آپ نے اس موضوع پر ایک بار پھر تاکید فرمائی ہے ۔ اب چونکہ تاسوعا اور عاشورا نزدیک ہے جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے معظم فقہا کی نظر کا بھی دورہ کرتے ہیں ۔ حوزہ علمیہ قم کے چند فاضل طالبعلموں نے مقام معظم رھبری کے بیانات کے سلسلے میں خط کے ذریعہ بعض علما اور جامعہ مدرسین کے ارکان سے استفتا کیا ہوا تھا ، انہوں نے اپنی نظرات کو بشرح ذیل اعلان کیا ۔ آج یاد دہانی کے لئے اور ہر قسم کے خرافات سے پرہیز کرنے کے لئے اور دشمن کے ہاتھوں بہانہ نہ دینے کے غرض سے اسکا گرداں کرتے ہیں۔

حضرت آیت اﷲسیستانی کا فتوی: 
حضرت آیت اﷲ العظمی سیستانی مدظلہ العالی کی خدمت میں امام خامنہ ای کی طرف سے عزاداری کے حوالے سے صادر کئے گئے مذکورہ احکامات کے دائرہ کار سے متعلق سوال کیا اور وہاں سے جواب آیا کہ <<حضرت آیت اللہ سیستانی کے مطابق معاشرے کے نظم کے حوالے سے فقیہ عادل مقبول کا حکم تمام مؤمنین کے ساتھ ساتھ باقی مجتہدین پر بھی نافذ العمل ہے >>۔  مزید 》》https://goo.gl/VxLtkM
http://m.taghribnews.com/vdcipway.t1ap327sct.html

Monday, September 19, 2016

خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کا فتوی Fatwa against bloody mourning

خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کے فتوی پر عمل کرنے پر علماء کی تلقین:
عزاداری اور ماتم کے مراسم میں قمہ زنی کرنا ، تالوں اور زنجیروں سے جکڑنا، سر اور سینے کو خون آلود کرنا ، زیارت میں سینہ خیز چلنا اور اس قسم کے طریقوں پر مبنی عزاداری کرنا بے شک اسلام اور بالخصوص اپنے مذہب کی اہانت کا سبب بن جاتے ہیں خاص کر موجودہ دور میں جس میں مسلمانوں کے کردار اور رفتار کا باریک بینی کے ساتھ تحقیق کیا جاتا ہے اور اس پر اسلام کے بارے میں قضاوت کی جاتی ہے ۔ اسلئے مقام معظم رھبری دامت برکاتہ نے امت اسلامی کو ارشاد کرتے ہوئے اس قسم کے مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ ایسا کام مذھب کی توہین ہے اسے ترک کیا جانا چاہئے اور کئ بار قمہ زنی ترک کرنے اور حسینی مجلس میں خرافات کو ترک کرنے کی تاکید کرتے رہے اور سال ۱۳۸۸ ہجری شمسی(مطابق۲۰۰۹م)مبلغوں کے ملاقات کے دوران آپ نے اس موضوع پر ایک بار پھر تاکید فرمائی ہے ۔ اب چونکہ تاسوعا اور عاشورا نزدیک ہے جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے معظم فقہا کی نظر کا بھی دورہ کرتے ہیں ۔ حوزہ علمیہ قم کے چند فاضل طالبعلموں نے مقام معظم رھبری کے بیانات کے سلسلے میں خط کے ذریعہ بعض علما اور جامعہ مدرسین کے ارکان سے استفتا کیا ہوا تھا ، انہوں نے اپنی نظرات کو بشرح ذیل اعلان کیا ۔ آج یاد دہانی کے لئے اور ہر قسم کے خرافات سے پرہیز کرنے کے لئے اور دشمن کے ہاتھوں بہانہ نہ دینے کے غرض سے اسکا گرداں کرتے ہیں۔
حضرت آیت اﷲسیستانی کا فتوی:
حضرت آیت اﷲ العظمی سیستانی مدظلہ العالی کی خدمت میں امام خامنہ ای کی طرف سے عزاداری کے حوالے سے صادر کئے گئے مذکورہ احکامات کے دائرہ کار سے متعلق سوال کیا اور وہاں سے جواب آیا کہ <<حضرت آیت اللہ سیستانی کے مطابق معاشرے کے نظم کے حوالے سے فقیہ عادل مقبول کا حکم تمام مؤمنین کے ساتھ ساتھ باقی مجتہدین پر بھی نافذ العمل ہے >>۔

معظم لہ کا جواب موصول ہونے کے بعد بعض لوگوں نے کہا کہ اس میں تقلید کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور کہنے والے خود کو حضرت آیت اﷲ العظمی سید علی سیستانی مدظلہ العالی کے مقلد ظاہر کرتے تھے ۔ اور میں نے اس بارے میں ان کے دفتر کے ساتھ مکاتبہ کیا اور وہاں سے تحریری جواب موصول ہوا کہ <<تکلیف شرعی صرف مجتہد بیان کر سکتا ہے اور جو خود مجتہد نہ ہو اس کا فتوی دینا حرام ہے اور اسکے کہے پر عمل کرنا بھی حرام ہے>> ۔

آيت اللہ سید جعفر کریمی
حضرت سید الشہداء علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کے نام کی عزاداری قائم کرنا اللہ کی بارگاہ میں اعظم قربات میں سے ہے ، لیکن مذکورہ کاموں کا عزاداری کے نام پر عزاداری کے عنوان سے کسی قسم کا اشارہ اور تائيد نہ ائمہ معصومین علیہم السلام اور نہ انکے حواری اور اصحاب سے پہنچی ہے اور ماضی کے فقہاء عظام امامیہ کے درمیاں اس کا کوئی سابقہ نہیں ملتا اور دور حاضر میں ایسا کرنا مذہب کی اہانت ہے ۔ عوام کی نظروں میں فرقہ ناجیہ اثنا عشریہ کو خرافاتی فرقہ ہونے کی تہمت دی جاتی ہے ۔ کسی بھی حال میں اس کام کا کوئی شرعی جواز نہیں بنتا۔ اس کے علاوہ مقام معظم رھبری حضرت آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العای کی فقیہانہ نظر کو دیکھتے ہوئے جو انہوں نے اس سلسلے میں ارشاد فرمائی ہے عزاداری کے نام پر ایسا کرنا شرعا حرام ہے اور اس سلسلے میں ولی امر مسلمین کے حکم کی مخالفت کرنا امام زماں علیہ السلام کے کی مخالفت کرنا ہے ۔
سید جعفر کریمی ۔ ۷ محرم الحرام ۱۴۱۵

آیت اللہ ابراھیم امینی
اس کے باوجود کہ مذکورہ امور کی شرعی حیثیت ثابت نہیں ہے اور موجودہ حالات میں اس سےشیعہ مذھب کی توہین ہوتی ہے ۔ امام حسین (ع) کے عزاداروں پر ایسے کاموں سےدوری اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ مقام معظم رھبری دامت برکاتہ نے ایسا کر نےسے منع کیا ہے ان کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔
ابراھیم امینی ۔ ۲۷/۳/۷۳ مطابق ۱۹۹۴

حضرت آیت اللہ سید محمد ابطحی
عزاداری سید مظلومان کو قائم کرنا افضل طاعات میں سے ہے اور جن کاموں سے مذھب کی اہانت ہوتی ہے اس سے دوری کرنی چاہئے اور جو کچھ ولی فقیہ نے حکم دیا ہے اس کی پیروی کرنا واجب ہے ۔
سید محمد ابطحی

آيت اللہ سید محسن خرازی
فوق الذکر کاموں میں ولی فقیہ اور اسلامی حاکم کی پیروی کرنا ضروری اور واجب ہے۔
سید محسن خرازی۔ ۷ محرم الحرام ۱۴۱۵

آیت اللہ سید مھدی الحسینی الروحانی ۔ علی احمدی
چونکہ شیعوں اور اھل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے اعمال توجہ کا مرکز رہتا ہے اور مذکورہ امور مذہب کی اہانت کا سبب بنتے ہیں ، اس سے بلکل دوری کرنی چاہئے اس کے علاوہ ولی امر مسلمین نے ایسا کام کرنے سے منع فرمایا ہے اور انکی اطاعت کرنا واجب ہے ۔
محمدی الحسینی الروحانی ۔ علی ۔ ۷محرم ۱۴۱۵

آیت اللہ محمد یزدی
کسی بھی شک و تردید کے بغیر سوال میں مذکورات اور اس قبیل کے امور بدعت کا حصہ اور مذھب کی اہانت ہے اور ولی امر مسلمین کے حکم کی اطاعت کرنا سبھوں پر لازم ہے اور مخالفت کرنا معصیت اور گناہ اور خلاف ورزی کرنے ولا سزا کا مستحق ہو گا ۔
محمد یزدی ۔ ۷ محرم الحرام ۱۴۱۵۔ ۲۷/۳/۱۳۷۳ ۔ مطابق ۱۹۹۴

آیت اللہ حسن تہرانی
موجودہ حالات میں مذکورہ امور شیعہ مذہب کی اہانت کا سبب ہے جایز نہیں ہے ، اس کے علاوہ مقام معظم رھبری کے حکم کی اطاعت کرنا لازم الامتثال ہے ۔
حسن تہرانی ۔ ۷ محرم الحرام۱۴۱۵

آیت اللہ محسن حرم پناہی
ولی فقیہ کے احکام کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔
محسن حرم پناہی ۔ ۷ محرم الحرام ۱۴۱۵

آیت اللہ محمد مومن
ولی فقیہ کے احکام کی اطاعت کرنا واجب ہے۔
محمد مومن ۔۲۷/۳/۷۳۔ مطابق ۱۹۹۴

آیت اللہ احمد آذری قمی
جو کچھ معظم لہ (امام خامنہ ای) نے مذہب کی اہانت کیلئے تشخیص دیا ہے اور سوال میں اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ولی فقیہ کے حکم کے عنوان سے حرام ہے اور مقام معظم رھبری کے حکم کی مخالفت کرنا گناہ کبیرہ اور مقدس اسلامی حکومت کی کمزوری کا سبب ہے اور اس سلسلے میں کی گئ کسی قسم کی نذر کو ادا کرنا واجب نہیں بلکہ حرام ہے ۔
احمد آذری قمی ۔ ۲۷/۳/۷۳۔ مطابق ۱۹۹۴

آیت اللہ علی مشکینی
بعد التسلیم و التحیہ ، مذکورہ امور بذات خود اسلامی شریعت میں مورد اشکال ہیں اور جبکہ ان میں سے تو بعض ذاتی طور حرام ہیں مسلمانوں کو چاہئے ایسے کاموں کو حضرت حسین علیہ الصلاۃ والسلام کی عزاداری میں جو کہ ایک عبادت ہےمیں شامل کرنے سے بلکل اجتناب کریں ، اس کے علاوہ آنحضرت کی عزاداری سیاسی عبادی کام ہے اس لئے چاہئے ایسے کاموں کو شامل کرنے سے پرہیز کریں جن سے اس کا سیاسی پہلو مخدوش ہو کر رہ جاتا ہے یا تو اور اسلام میں اہانت اور خرافات کا عنوان دیتا ہے دوری کرنی چاہئے ان میں سے جن کاموں کو انجام دینے سے مقام معظم ولایت امر مسلمین نے منع کیا ہے انہیں ترک کرنا چاہئے کیونکہ آپ کا حکم واجب الاتباع ہے خداوند ایران کے عقیدتمند ہوشیار اور سیاست فہم قوم کو الہی احکام کی تبعیت کرنے کی توفیق اور حضرت بقیۃ اللہ کی پسند کی عزاداری کرنا عنایت فرمائے ۔
علی مشکینی ۔ ۸ محرم الحرام ۱۴۱۵

آیت اللہ سید حسن طاھری
سرور و سالار شہیدان حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری قائم کرنا،اعظم قربات الی اللہ میں سے ہے اورمذہب کی بڑی علامتوں اور مکتب اھل بیت کی بقا کی بنیاد میں سے ہےلیکن موجودہ حالات میں عالمی استکبار کا اسلام خاص کر مذھب تشیع کے خلاف تبلیغات کو دیکھتے ہوئے فوق الذکر امور سے مذہب کی اہانت ہوتی ہے اور ایسا کرنے سے دوری کرنی چاہئے ۔ اس کے علاوہ ولی فقیہ اور رھبر معظم جن مسائل کے بارے میں حکم فرماتے ہیں انکی اطاعت کرنا واجب ہے اور مذکورہ کاموں کے بارے میں آپ (امام خامنہ ای) نے منع کیا ہے اس لئے ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
سید حسن طاہری ۔ ۷ محرم الحرام ۱۴۱۵

آیت اللہ رضا استادی
مقام معظم رھبری دامت برکاتہ کے بیانات کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت ابی عبداللہ الحسین علیہ السلام کے چاہنے والوں کو عزاداری میں ایسا طریقہ اپنانا چاہئے جن سے شعائراللہ کی تعظیم کی جائے اور ایسے کاموں کو کہ جنہیں آپ (امام خامنہ ای)نے مذھب کی اہانت بتایا ہے بلکل دوری کرنی چاہئے ۔ امید ہے کہ ہم سبھی حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے لطف و عنایت میں رہیں ۔
رضا استادی ۔ ۸ محرم ۱۴۱۵

آیت اللہ حسین مظاہر
چونکہ مقام معظم رھبری نے فرمایا ہے کہ عزاداری میں تالوں کا باندھنا ، قمہ زنی کرنا وغیرہ نہیں ہونا چاہئے ،انکے حکم کی پیروی کرنا سبھی پر واجب ہے ۔
حوزہ علمیہ قم۔ حسین مظاہری ۔ ۶محرم الحرام ۱۴۱۵

آیت اللہ راستی کاشانی
حضرت ابی عبداللہ الحسین سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری قائم کرنا افضل قربات الی اللہ تعالی میں سے ہے اور اسلام کے تجدید حیات اور ایمان کا سبب ہے مومنین کے لئے ضروری ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ عظمت کے ساتھ قائم کیا جائے اور ہر اس کام سے دوری کرنا چاہئے جس سے اسلام کی اہانت اور اسلام دشمن عنصر کے لئے بہانہ ہو اور آج چونکہ اسلام کے حاکمیت کا دور ہے اور انقلاب اسلام کے عظیم الشان رھبر ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ العالی نے قمہ زنی اور بدن پر تالے چڑھانے وغیرہ سے منع فرمایا ہے اور رھبر کی پیروی کرنا سبھی مومنین پر واجب ہے۔ ایسے کاموں سے دوری کریں اور رھبر کی پیروی کرتے ہوئے متحد رہ کر اسلام دشمن عناصر کو اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہچانے سے نا امید کریں ۔ خداوند متعال اھل بیت علیہم السلام کے سبھی عزاداروں کومقام ولایت کے سایے میں قرار دے ۔
حسین راستی کاشانی

آیت اللہ محمد فاضل
ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد اسلام اور تشیع کے نسبت دنیا بھر میں بڑھتے رجحان اور اسلامی ایران کا عالم اسلام کا ام القرای کی پہچان بن جانے اور ایرانیوں کے اعمال اور رفتار کو مثالی کردار اور اسلامی نمونہ کے طور پر دیکھنے کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ سالار شہیدان حضرت ابی عبداللہ الحسین علیہ السلام کی ماتمداری اور عزاداری میں ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے آنحضرت کے مقاصد کے نسبت زیادہ کشش اور محبت پیدا ہو جائے ، یہ بات واضح ہے کہ ان شرایط میں قمہ زنی کرنا نہ صرف ایسا کوئی مقصد پورا نہیں کرتا بلکہ غیر قابل قبول ہونے کے سبب اور کسی قسم کی دلیل نہ ہونے کے سبب اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مکتب امام حسین علیہ السلام کے شیعہ حضرات ایسا کرنے سے دوری اختیار کریں ، اور اگر اس سلسلے میں کسی قسم کی نذر رکھی ہو وہ صحیح اور قابل عمل نہیں ہے ۔
محمد فاضل ۔۴ محرم الحرام ۱۴۱۵

آيت اللہ عباس محفوظی
حسین بن علی علیہ السلام کی عزاداری قائم کرنا افضل طاعات میں سے ہے ، جس کام سے اہانت ہو اس سے دوری کرنا چاہئے اور ولی امر مسلمین کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔
محمد عباس محفوظی

آیت اللہ جوادی آملی
جو کام اسلام کی اہانت اور عزاداری کے بے احترامی کا سبب ہے ( وہ کام )جایز نہیں ہے ، امید ہے کہ قمہ زنی اور ایسے کام کرنے سے دوری کی جائے ۔ جواد آملی ۔ ۴ محرم الحرام ۱۴۱۵
مترجم:عبدالحسین کشمیری
http://m.taghribnews.com/vdcipway.t1ap327sct.html

اگر خون کا ماتم نادرست ہے تو کیا پاکستان میں اتنے لوگ گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں؟
محترم. جیسا کہ لکھا ہے کہ خون کا ماتم درست نہیں تو پاکستان میں تو یہ ہر جگہ ہوتا ہے. کیا یہاں کے لوگ گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو ایران جس کو ہماری روحانی پیشوائی حاصل ہے اس بارے میں کوئی فتوہ یا ہدایت کیوں نہیں دے دیتا ؟ مزید یہ کے یہاں سوالوں کا جواب کون دیتا ہے ؟ میری مراد ہے کہ کیا کسی فقہی کی سند سے جواب دیا جاتا ہے؟ اگر ہاں تو مہربانی کر کے ان کا حوالہ اور ادارے کا نام بھی درج کیا جائے . شکریہ
ابنا: علیکم السلامایران کے روحانی پیشوا دنیائے تشیع کے مرجع تقلید اور ولی فقیہ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے تقریبا ۱۵ سال پہلے یہ فتویٰ دیا تھا کہ یہ عمل جائز نہیں ہے۔ ہماری تمام شیعہ برادری کو اس عمل سے پرہیز کرنا چاہیے، آپ کے بعد دیگر تمام مراجع نے بھی اس سلسلے میں فتاویٰ دیے اور اس عمل کو نادرست قرار دیا۔ایران کے شیعہ مومنین نے اس فتوے پر عمل پیرا ہو کر اس کام سے پرہیز کیا۔
 آج آپ دیکھتے ہیں کہ ایران کے کسی خطے میں یہ فعل انجام نہیں پاتا ہے دیگر ممالک کے شیعوں کو رہبر معظم کے اس فتوے پر عمل کرنا چاہیے اب اگر پاکستان میں لوگ جانتے ہوئے یا ان جانے میں یہ فعل انجام دیتے ہیں تو اس میں ایرانی پیشوائوں کا کیا قصور ہے؟

سید علی حسینی خامنہ ای

قمہ زنی اور عزاداری کی بعض اشکال کی صریح مخالفت اور اہل سنت کے مقدسات کی توہین کی تحریم ان کے مشہور اور مؤثر فتاوی میں سے ہیں. ثقافتی یلغار اوراسلامی بیداری ان کی خاص تخلیقی اصطلاحات، ایسے مفاہیم ہیں جو ان کے خطابات اور پیغامات کے توسط سے سیاسی ادب کا حصہ بن چکی ہیں.