Pages

بنو امیہ اور بنو ہاشم کے مابین ازدواجی رشتے


Image result for Seventh century Arab Women

بین القبائل شادی كا رواج عربوں میں ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور ان میں اكثر وبیشتر كفائت یعنی سماجی برابری كا خیال بھی ركھا جاتاتھا۔ انساب عرب كی كتابوں میں خاص كراور سیر وتواریخ میں عام طور پر عربوں كے مابین قبائلی ازدواجی تعلقات كا ذكر بڑی كثرت سے ملتاہے اگر ان بین قبائلی ازدواجی روابط كا تحقیقی تجزیہ كیا جائے تو عرب معاشرت كا ایك سنہری پہلو سامنے آجائے گا۔ اسی سلسلہ كی اہم كڑی ہمارا موجوده مطالعہ ہے۔جس میں قریش مكہ دو عظیم ترین خاندانوں بنوہاشم اور بنو امیہ كے درمیان ازدواجی تعلقات كا مفصل تحقیقی تجزیہ پیش كیا جارہاہے۔ یہ مطالعہ اس وجہ سے بڑی اہمیت كا حامل ہوگیا ہے كہ ان دونوں خاندانوں كے درمیان خاندانی یا قبائلی رقابت كی کہانی شہرت عام ہے۔ جس كے تاریخی پس منظر كے بارے میں پہلے لكھا جا چكاہے۔ اس مفروضہ خاندانی دشمنی كی دھند میں یہ حقیقت چھپ گئی ہے كہ یہ دونوں ایك دوسرے كے عم زاد خاندان تھے۔ لہٰذا ان دونوں میں ازدواجی روابط كا قائم ہونا غیر منطقی یا باعث حیرت نہیں ہونا چاہیے كیونكہ عرب سماج میں’’بنت ِعم‘‘ كو جو رومانی درجہ حاصل ہے وه كسی اور كو نہیں ملا۔
بہر حال! ہمارے موجوده مزعومات اور دل پسند رجحانات كے خلاف ان دونوں قریشی خاندانوں میں ازدواجی تعلقات تاریخ اسلام كے ہر دور میں قائم ہوئے آئنده صفحات میں ان كی كم وبیش تین سو سالہ تاریخ كا ایك تنقیدی جائزه ملے گا۔ بنو هاشم اور بنو امیہ كے درمیان ازدواجی روابط كا آغاز عہد جاہلیت میں تقریباً چھٹی صدی عیسوی كے وسط سے ہوا اور عہد عباسی كے عہد زریں تك یعنی نویں صدی عیسوی كے وسط تك برابر اس كی مثالیں ملتی رہیں۔ موجوده مطالعہ میں اس طرح اسلامی معاشرتی تاریخ كے پانچ ادوار عہد جاهلیت ، عہد نبوی ، خلافت راشده، بنی امیہ اور دولت بنی عباس میں ان دونوں خاندانوں كے درمیان قائم ہونے والے ازدواجی روابط كی تاریخی تحقیق ہے جو بہت اہم دلچسپ اور فكر انگیز ہے۔
عہدِ جاهلیت:
هاشم بن عبد مناف (تقریبا ۱۰۲۔۱۴۷قبل هجری مطابق ۸۴۰۔۵۲۴ عیسوی) اور بنوامیہ كے جد امجد عبد شمس (تقریباً۱۰۵۔۱۵۵ھ مطابق ۴۷۶۔ ۵۶۷ عیسوی ) كے فرزندوں اور دختروں میں كوئی ازدواجی تعلق نہیں ہوا تھا (زبیری كتاب نسب قریش، مرتبہ لیفی بروفنال ، مصر ۱۹۵۳ءص۱۵،۱۷،۹۷) البتہ بعد كی پیڑھی میں اس كا پہلا ثبوت ملتاہے۔
عبد المطلب كی بڑی صاحبزادی ام حكیم بیضاء كا عقد اموی خاندان كے ایك ممتاز فرد كرزبن ربیعہ سے ہوا تھا (زبیری ، ص۱۸) عبد المطلب كی دوسری بیٹی سیده صفیہ كا پہلا عقد حرب بن امیہ كے بیٹے حارث سے ہوا تھا۔(ابن سعد الطبقات الكبری بیروت ۱۹۵۸ء ہشتم ص ۴۵) عبد المطلب كی تیسری بیٹی امیمہ كا عقد اموی خاندان كے ایك حلیف جحش بن رئاب اسدی سے ہوا تھا۔ (زبیری ص۹۱)یہاں یہ امر ملحوظ ہے کہ عرب كے قبائلی سماج میں حلیف اسی خاندان كا ركن شمار ہوتا تھا۔ عبد المطلب كے ایك صاحبزادے ابو لہب كا عقد حرب بن امیہ كی بیٹی ام جمیل سے ہوا تھا۔( زبیری ص ۸۹) نبی كریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام سے قبل اپنی صاحبزادی سیده زینب كا عقد ابو العاص اموی سے كیا۔ (ابن سعد ہشتم ۲۶۔۳۰)
عہد ِنبویﷺ :
نبی كریم صلی اللہ علیہ و سلم كی دوسری بیٹی سیده رقیہ كا دوسرا عقد سیدنا عثمان بن عفان اموی كے ساتھ ہوا ( زبیری ص ۲۲) سیده رقیہ كے انتقال كے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم كی ایك اور بیٹی سیده ام كلثوم بھی سیدنا عثمان بن عفان كے حبالہ نكاح میں آئیں۔(ابن سعد ص۳۸) خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم كی ایك شادی ابو سفیان بن حرب اموی كی صاحبزادی سیده ام حبیبہ سے ہوئی۔ (طبری دوم ۱۵۳۔۱۵۴) بنوهاشم كے ایك اور فرد حارث بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب نے ابو سفیان كی دوسری دختر ہند سے عقد كیا تھا۔( احمد بن یحیی بلا ذری،انساب الاشراف ، مرتبہ محمد حمید اللہ قاهره ۱۹۵۹ء اول ۴۴۰) سیدنا علی رضی اللہ عنہ كے بڑے بھائی عقیل بن ابی طالب هاشمی كا عقد ولید بن عتبہ بن ربیعہ كی بیٹی فاطمہ سے ہوا تھا۔ ( واقدی، كتاب المغازی ، مارسدن جونس ، آكسفورڈ ۱۹۶۶ء ص ۹۱۸)۔
سیدنا زید بن حارثہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم كا نكاح خاندان بنو امیہ كی ایك معزز خاتون ام كلثوم بنت عتبہ بن ابی معیط اموی سے ہوا۔ (ابن سعد ہشتم ص ۲۳۰) عہد نبوی میں هاشمی اور اموی خاندانوں كے درمیان ازدواجی روابط كا مزید ذكر ہماری متداول ودستیاب كتب تاریخ وسیر وانساب میں اب تك نہیں مل سكا۔ لیكن اس سے یہ مطلب نكالنا قطعی غلط ہوگا کہ مذكوره بالا رشتے هی تھے جو ان دونوں قریشی خاندانوں كے درمیان قائم ہوئے تھے اس لیے کہ نہ جانے ایسے كتنے هی رشتے ہوں گے جو دونوں میں استوار ہوئے ہوں گے لیكن ان كا ہم كو علم نہیں ہوسكا۔
عہدِ خلافت راشده :
اس عہد میں ان دونوں خاندانوں كے درمیان ازدواجی تعلقات سب سے كم قائم ہوتے نظر آئے ہیں۔ پورے تیس سالہ عرصه میں اگرچه دو چار ازدواجی رشتوں كا پتہ چلتاہے لیكن عددی اعتبار سے كم ہونے كے باوجود یہ سماجی اور تاریخی اعتبار سے بڑی اہمیت كے حامل ہیں یہ عجیب وغریب دلچسپ حقیقت ہے کہ یہ تمام رشتے سیدنا علی رضی اللہ عنہ كے خاندان كے افراد سے ہوئے تھے۔
سیدنا عقیل بن ابی طالب كا ایك عقد ان كی پهلی بیوی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ كی ہم نام پھوپھی فاطمہ بنت عتبہ سے ہوا تھا۔( ابن سعد چهارم ص ۲۳)۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو العاص بن ربیع اموی كی ایك صاحبزادی امامہ (جو سیده زینت بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم كے بطن سے تھیں) سے شادی كرلی تھی۔ (زبیری ص۲۲)۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ كی ایك شادی سیدنا ابو سفیان اموی كی بیٹی میمونہ كی صاحبزادی آمنہ یا لیلیٰ بنت ابی مرة ثقفی سے ہوئی تھی۔ (زبیر ی ۱۵۷ اور ۱۲۶)
عہدِ اموی :
بڑی دلچسپ اور فكر انگیز تاریخی حقیقت ہے کہ اس عہد میں (جو کہ ان دونوں خاندانوں كے بعض اہم افراد كے درمیان سخت سیاسی آویزش كا زمانہ تھا) اتنی كثرت اور تیزی سے ان دونوں خاندانوں كے درمیان ازدواجی رشتے استوار ہوئے کہ نہ اس سے پهلے كبھی ہوئے اور نہ اس كے بعد۔ یہ بات اسی جگہ واضح ہوجاتی ہے کہ سیاسی سطح پر بنو هاشم اور بنو امیہ كے كچھ افراد میں سیاسی كشمكش ضرور تھی مگر یہ كوئی خاندانی رقابت وكشمكش كا معاملہ نہ تھا۔
اس عہد میں كیونکہ یہ دونوں خاندان كا فی پھیل گئے تھے اور بجائے خود قبیلے بن گئے تھے اس لیے مناسب معلوم ہوتاہے کہ بنو هاشم كے الگ الگ خاندانوں سے بنو امیہ كے ازدواجی روابط كا ذكر كیاجائے۔
حارثی خانواده :
مغیرہ بن نو فل بن حارث نے سیدنا علی كے انتقال كے بعد ان كی ایك اهلیہ امامہ بنت ابی العاص اموی سے نكاح كیا۔ ( بلا ذری اول ص۴۰۰)
عبد الرحمان بن عباس بن ربیعہ بن حارث نے زیاد بن ابی سفیان اموی كی بیٹی جویریہ سے شادی كی۔ (بلاذری چهارم ب ص۷۵) اسی حارثی خانواده كی ایك دختر ام كلثوم بنت محمد بن ربیعہ بن حارث بنو امیہ كے یحیی بن حكم بن ابی العاس سے منسوب ہوئی تھیں۔ (زبیری ص۱۷۱)
سیدنا علی رضي اللہ عنہ كا خانواده (سیدنا علی كی اولاد رضي اللہ عنہم):
سیدنا علی كی ایك صاحبزادی رملہ بنت علی كی دوسری شادی معاویہ بن مروان بن حكم بن عاص اموی سے ہوئی۔ (زبیری ص ۴۵) سیدنا علی كی دوسری صاحبزادی خدیجہ كی دوسری شادی بنو امیہ كے خاندان بنو حبیب بن عبد شمس كے ایك اہم فرد ابو السنابل عبد الرحمان بن عبد اللہ سے ہوئی تھی۔ (ابن حزم ، جمہرة انساب العرب مرتبہ لیفی بروفنال قاهره ۱۹۴۸ء ص ۶۸)
غالبا بنات علی میں سب سے اہم رشتہ سیدنا علی كی ایك گمنام صاحبزادی كا ہوا تھا جو مشہور اموی خلیفه عبد الملك بن مروان سے منسوب ہوئی تھیں۔ (طبری ششم ص ۴۲)
حسنی خانواده :
سیدنا حسن بن علی كی پوتی ام القاسم بنت حسن بن علی كا نكاح سیدنا عثمان كے پوتے مروان بن ابان سے ہوا تھا۔ (زبیری ص ۵۳) سیدنا حسن كی ایك اور پوتی زینب بنت حسن بن حسن كا نكاح مشہور اموی خلیفه ولید بن عبد الملك سے ہوا تھا۔( ابن سعد پنجم ص۳۱۹) انہی زینب بنت حسن هاشمی نے بعد میں ولید كے چچا معاویہ بن مروان سے شادی كرلی تھی۔ ( جمہره ۱۰۰۔۸۰) سیدنا حسن كے ایك پوتے ابراهیم بن عبد اللہ بن حسن كا عقد سیدنا عثمان كی سگی پوتی رقیہ صغریٰ بنت محمد دیباج الاصغر بن عبد اللہ بن عمر بن عثمان بن عفان سے ہوا تھا۔ (بلاذری پنجم ص۱۱۱) سیدنا حسن كی ایك اور پوتی نفیسه بنت زید بن حسن كی شادی ان كے والد محترم زید هاشمی نے مشہور اموی خلیفه ولید بن عبد الملك بن مروان سے اس كے عہد خلافت كے دوران كی تھی۔ (زبیری ص۳۲)
سیدنا حسن كی ایك پڑ پوتی فاطمہ بنت محمد بن حسن بن حسن كی شادی عبد الملك بن مروان كےایك غیر معروف بیٹے ابوبكر سے ہوئی تھی۔ (زبیری، ص۵۳) سیدنا حسن كی پوتی خدیجہ بنت حسین بن حسن كا عقد اسماعیل بن عبد الملك بن حارث بن حكم بن ابی العاص سے ہوا تھا۔ (جمہره ص ۱۰۰) سیدنا حسن كی ایك اور پوتی حمادة بنت حسن بن حسن كا عقد انہی اسماعیل سے ہوا تھا۔ (جمہره ص ۱۰۰) سیدنا حسن كی ایك اور پڑ پوتی ام كلثوم بنت حسین بن حسن بن علی كا عقد بعد میں انہی اسماعیل سے ہوا تھا۔ (زبیری ص ۱۷۱)
اس طرح تاریخ كے آئینے میں ہم دیكھتے ہیں کہ خاندان حسنی نے بنو امیہ كے مختلف خانوادوں سے ازدواجی روابط قائم كئے تھے اور یہ روابط یك طرفه نہیں بلکہ دو طرفه تھے۔ یعنی حسنی دختران گرامی اموی فرزندوں سے منسوب تھیں اور اموی صاحبزادیاں حسنی سادات كے ازدواج میں تھیں اگرچه دونوں كے فیصد، تناسب اور توازن میں فرق تھا۔
حسینی خانواده :
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ كے صاحبزادوں میں سے كسی كی كوئی بھی شادی بنو امیہ میں نہیں ہوئی البتہ دختران حسین میں سے كوئی نہ كوئی شادی اموی خاندان میں ضرور ہوئی۔ اسے اتفاق کہیے ایك دلچسپ تاریخی حقیقت کہ حسینی خانواده كی پهلی پیڑھی كے بعض افراد نے امویوں سے رشتہ ازدواج قائم كرلیا تھا۔ جبکہ حسنی خانواده كے بنو امیہ سے تعلقات ازدواجی دوسری پیڑھی سے قائم ہونا شروع ہوئے تھے۔ اسلامی تاریخ كے سیاسی پس منظر میں خود سیدنا حسین رضی اللہ عنہ كی دختروں كا اس طرح اپنے والد محترم كے سیاسی حریفوں كے خاندان كے افراد سے ایسے نازك سماجی رشتے قائم كرنا بجائے خود اس بات كی دلیل ہے کہ سیدنا عثمان شهید رضی اللہ عنہ كے بعد كی آویزش اور كربلا كا المیہ عظیم دونوں خاندانوں كی قبائلی رقابت یا جماعتی عصبیت كا المناك نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ افراد كا سیاسی اختلاف تھا جو ان كے اپنے زمانے كے بعض ناخوشگوارتاریخی واقعات كا زائیده تھا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ كی بڑی صاحبزادی سكینہ نے یكے بعد دیگر چھ مردوں سے شادی كی تھی ان چھ میں سے ایك اصبغ بن عبد العزیز بن مروان اموی تھے( زبیری ص ۵۹) اصبغ اموی كے انتقال كے كچھ دنوں بعد سكینہ كی شادی سیدنا عثمان كے پوتے زید بن عمرو سے ہوئی تھی۔ (زبیری ص ۵۹) سیدنا حسین كی دوسری صاحبزادی فاطمہ بنت حسین كی شادی سیدنا عثمان كے پوتے عبد اللہ بن عمرو سے ہوئی تھی۔ (۵۱،۵۲،۵۹)
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ كے ایك پڑ پوتے حسن بن حسین بن علی زین العابدین نے سعید بن عاص اموی كی پڑپوتی خلیده بنت مروان بن عتبہ سے شادی كی تھی۔ (زبری ص ۷۴) ایك اور پڑپوتے اسحاق بن عبد اللہ بن علی زین العابدین نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ كی پڑپوتی عائشہ بنت عمر بن عاصم سے عقد كیا تھا۔ (زبیری ص۶۰)
علوي خانوادے:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ كا خاندان سیدنا حسین كے علاوه ان كے تین اور فرزندان گرامی سے بھی چلا تھا جو ماں كی طرف سے خاندان هاشمی سے تعلق نہ ركھتے تھے۔ اس لیے وه سب علوی کہلائے۔اگرچه سیدنا علی رضی اللہ عنہ كے ان صاحبزادوں كو سیدنا حسین كی طرح وه مقام حاصل نہیں ہے جو خاندان رسول كو حاصل ہے۔ تاہم ان كا اصلاً حسبانسباهاشمی ہونے كی بدولت ایك مقام ہے۔
مؤرخین اور ماهرین انساب نے حسنی اور حسینی خانوادوں كے مقابلے میں علوی خاندانوں پر كم توجہ دی ہے اس لیے ان كے بارے میں كم معلومات مل سكیں تاہم جو كچھ مل سكا پیش كیا جارهاہے۔
سیدنا علی كے صاحبزادے محمد بن حنفیہ كی پوتی لبابہ بن عبد اللہ نے بنو امیہ كے مشہور سعیدی خاندان كے ایك فرد سعید بن عبد اللہ بن عمر ابن سعید بن عاص بن امیہ سے شادی كی تھی۔ (زبیری ص ۷۶) سیدنا علی رضی اللہ عنہ كے ایك اور صاحبزادے عباس بن الكلابیہ كی ایك پوتی نفیسه بنت عبید اللہ بن عباس نے اموی خلیفه یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ كے ایك پوتے عبد اللہ بن خالد سے شادی كی تھی۔ (زبیری ص ۷۹)
یہ رشتہ حادثہ كربلا كے پس منظر میں تاریخی لحاظ سے بہت اہمیت ركھتاہے۔ كیونکہ یہ وہی عباس بن علی تھے۔ جو اپنے علاتی بھائی سیدناحسین بن علی هاشمی رضی اللہ عنہما كے ساتھ کارزار كربلا میں شریك غمگساری تھے۔ ان كے ساتھ ان كے تین سگے بھائی عثمان ،جعفر اور عبد اللہ (سیدنا علی كے كلابی بیوی سے فرزند) بھی شریك معرکہ جانثاری تھے۔
اس پس منظر میں كیا یہ حیرت انگیز اور اپنی جگہ اہم بات نہیں کہ انہی عباس علوی كے فرزند عبید اللہ علوی نے جو اپنے باپ كے وارث اپنے دو چچا محمد بن الحنفیہ اور عمر بن التغلبیہ كی حیات میں بن گئے تھے۔ (زبیر ص ۴۳) اپنی دختر كی شادي اس اموي خليفه كے پوتے سے كردی تھی جس كے عہد میں ان كے باپ اور تین چچا قتل كردیئے گئے تھے۔ مؤرخین اور ماهرین انساب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ كے پانچویں فرزند عمر بن التغلبیہ كے كئی فرزندوں اور صاحبزادیوں كا ذكر ضرور كیا ہے۔ (زبیری ص ۸۰ جمہره ص ۶۰)تاہم ان میں سے كسی كی بھی بنی امیہ میں شادی كا حوالہ نہیں دیا ہے۔
اس مجموعی تجزیے سے معلوم ہوتاہے کہ ان پانچ فرزندوں میں سے چار كے گھرانے میں بنو امیہ كے مختلف خاندانوں نے ازدواجی روابط قائم كیے ہیں۔ جن میں عثمانی ، سفیانی اور مروانی خانوادے بھی شامل تھے۔ جس كے حسنی، حسینی اور علوی خانوادوں سے ازدواجی روابط بوجودخاص بہت اہمیت ہیں۔
جعفری خانواده :
سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ كی ایك پوتی ام محمد بنت عبد اللہ نے سب سے بدنام خلیفه یزید بن معاویہ سے شادی كی تھی۔ (زبیری ص ۸۲) سیدنا جعفر كی ایك اور پوتی ام كلثوم بنت عبد اللہ نے عبد الملك اموی اور ولید بن عبد الملك كے مشہور وبدنام والی حجاج بن یوسف سے نكاح كیا تھا۔ ( بلا ذری پنجم ص ۱۲۰) انہی ام كلثوم نے بعد میں ابان بن عثمان سے نكاح كیا تھا۔ (بلاذری پنجم ص۱۳) سیدنا جعفر كی تیسری پوتی ام ابیہا بنت عبد اللہ نے عبد الملك بن مروان سے اس كے عہد خلافت میں شادی كی تھی۔ ( ابن قتیبہ ، المعارف ص ۲۰۷) سیدنا جعفر كی چوتھی پوتی رملہ بنت محمد نے پهلی شادی سلیمان بن هشام بن عبد الملك اموی سے كی تھی۔ (كتاب المحبر ص ۴۴۹) انہیں رملہ بنت محمد كی دوسری شادی سفیانی گھرانے كے ایك فراد ابو القاسم بن والید بن عتبہ بن ابی سفیان اموی سے ہوئی تھی۔ ( كتاب المحبر ص ۴۴۰)
جعفری خانواده كی ایك اور دختر جو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ كی سگڑ پوتی تھیں۔ ربیحه بنت محمد بن علی بن عبد اللہ كی پهلی شادی یزید بن ولید بن یزید بن عبد الملك بن مروان سے ہوئی تھی۔ ( كتاب المحبرص ۴۴۰) انہی ربیحه كی دوسری شادی بكابن عبد الملك بن مروان اموی سے ہوئی تھی۔( كتاب المحبر ص ۴۴۰) جعفری خانوادے كی ان سات شادیوں كی ایك خاص تاریخی اہمیت اس لیے ہے کہ واقعہ كربلا كو گزرے ابھی كچھ خاص مدت نہ ہوئی تھی کہ یہ شادیاں منعقد ہوئیں۔
عباسی خانواده :
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ كی پوتی لبابہ بنت عبید اللہ كی ایك شادی سیدنا ابو سفیان كے ایك پوتے ولید بن عتبہ سے ہوئی جو یزید كے عم زاد بھائی اور اس كے عہد میں مکہ اور مدینہ میں گورنر تھے۔ (زبیری ص ۳۲)
دوسری شادی هاشمی خانوادوں كی مانند عباسی خانوادہ كی ایك دختر كا واقعہ كربلا كے فوراً بعد یزید اموی كے عم زاد اور اس كے ایك گورنر سے شادی كرنا جبکہ ان كے پهلے شوهر (عباسی علوی) اور ان كے ایك بیٹے واقعہ كربلا میں سیدنا حسین كی جانب سے لڑتے ہوئے شهید ہوچكے تھے كافی اہم تاریخی حقیقت ہے انہی لبابہ كی بہن میمونہ نے ابو السنابل عبد الرحمان اموی سے شادی كی تھی۔ (زبیری ص ۳۲) مشہور صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كی ایك پوتی ریطه بنت عبید اللہ كی شادی مشہور اموی خلیفه عبد الملك بن مروان كے بیٹے عبد اللہ اموی سے ہوئی تھی۔ (زبیری ص ۳۰) محمد بن ابراهیم بن علی بن عبد اللہ بن عباس هاشمی نے سیدنا عثمان كی ایك پڑ پوتی رقیہ صغریٰ بنت محمد الدیباج بن عمرو سے شادی كی تھی۔(زبیری ص ۱۱۷)
یہ ہے عہد اموی كے دوران بنو هاشم اور بنو امیہ كے درمیان ازدواجی روابط كی دلچسپ ، اہم اور مفصل تاریخ۔ اتنے وسیع تعلقات كے بارے میں بلا خوف تردید کہاجاسكتاہے کہ وه نہ تو سیاسی، سماجی اور معاشی دباؤ كے تحت قائم ہوئے تھے نہ بے انصافی، ظلم یا جور كے ڈنڈے كے زور سے ......
چند معاملات میں تو سیاسی مصالح ، وقتی ضرورت یا كسی نوع كی سیاست كارفرما ہوسكتی ہے لیكن اتنے كثیر اور گوناگوں ازدواجی روابط كی اساس صرف ایك ہوسكتی تھی اور تھی وه اساس تھی ’’ دونوں قریشی خاندانوں كے درمیان باہمی مفاہمت ،آپس میں سماجی لحاظ سے ہم مرتبہ اور كفو ہونے كا شعور اور خون كے رشتہ سے پیدا ہونے والی مہر ومحبت‘‘۔ یہ درخت اس قدر طاقتور تھا اور اس كی جڑیں زمین میں اتنی گہری پیوست تھیں کہ دولت بنی امیہ كے اواخر اور آغاز دولت بنی عباس میں بنو هاشم اور بنو امیہ كے سیاسی رقابت كی زبردست آندھی میں وه اپنی جگہ كھڑا هی نہیں رها بلکہ برگ وبار بھی لاتا رها۔
عہدِ عباسی:
یہ عجیب تاریخی حقیقت ہے کہ عباسی انقلاب كے جلو میں آنے والی حشر سامانیوں، نفرتوں اور كدورتوں كے نتیجہ میں اموی خون كے دھارے بہنے ابھی پوری طرح بند نہیں ہوئے تھے کہ هاشمی اور اموی خاندانوں كی فطری محبت والفت كے سوتے ابلنے شروع ہوگئے۔ دوسرے عباسی خلیفه ابو جعفر عبد اللہ المنصور نے اپنی خلافت كے دوران كسی وقت خاندان بنو امیہ سے عہد عباسی كی پهلی شادی بنفس نفیس۔كی بیوی كا نام تھا عالیہ بنت عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن خالد بن اسید اموی (بلاذری چهارم ب ص ۱۶۹)۔ منصور كی ایك اور اموی خاتون سے شادی كا ذكر ابن حزم نے كیا ہے لیكن ان كا نام ذكر نہیں كیا۔(جمہره ص ۱۹) اسی اموی خاتون كی ایك بہن سے منصور نے اپنے بیٹے جعفر كا عقد كیا تھا۔ (جمره ص ۱۹) طبری كے ایك بیان سے معلوم ہوتاہے کہ جعفر كی ایك دختر عالیہ كی والده بھی اموی تھیں (طبری ہشتم ۱۰۲) غالباً یہ كوئی اور اموی خاتون رهی ہوں گی۔ اس لیے ماهرین انساب ان خواتین كے ساتھ اولادوں كا بھی ذكر كرتے ہیں اور یہ نام وهاں نہیں ملتا ..... یعنی منصور نے اپنے دوران خلافت چار شادیاں بنو امیہ میں كی تھیں اور یہ ایك بڑی تاریخی حقیقت ہے کہ ابھی نہایت پر آشوب دورکوگزرے كچھ زیاده زمانہ نہ ہوا تھا۔
منصور كے فرزند اور عباسی خانواده كے تیسرے خلیفه محمد المہدی نے سیدنا عثمان كے خانواده كی ایك دختر رقیہ بنت عمر و بن خالد بن عبد اللہ نے عمر و بن عثمان اموی سے ۶۶۰ھ میں شادی كی تھی (طبری ہشتم ص ۱۳) انہیں رقیہ سے بعد میں علی بن حسین بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب نے عقد كرلیا تھا۔ ( طبری ہشتم ص ۲۱۹) مشہور عالمی خلیفه هارون رشید نے ایك عثمانی اموی خاتون عائشہ بنت عبد اللہ سے شادی كی۔( زبیری ص ۱۱۰) هارون رشید كی وفات كے بعد ان كے بھائی منصور بن مہدی نے اسی عائشہ بنت عبد اللہ سے شادی كر لی تھی۔ (زبیری ص ۱۱۹)
ابن حزم كا بیان ہے کہ ان كے بعد منصور بن مہدی نے ان كی پھوپھی سے شادی كرلی تھی۔(جمہره ص۷۷) ممكن ہے کہ عہد عباسی میں ان دونوں خاندانوں كے افراد نے آپس میں مزید شادیاں كی ہوں لیكن ہمیں اس سلسلہ میں مزید معلومات نہیں ہوسكی ہیں۔ خیال یہ ہوتاہے کہ اس عہد میں خاص كر عہد متوكل كے بعد سے مؤرخین كی ساری توجہ اندرونی سازشوں ‘ ریشه دوانیوں اور سیاسی افراتفری پررهی کہ یہی ان كی دلچسپی كا محور تھا اور اس وجہ سے دیگر پهلو چھپ گئے۔
آخر میں ان دونوں خاندانوں كے ازدواجی روابط كا ایك مجموعی جائزه لینا ضروری ہے اس سے مختلف ادوار كے سیاسی وسماجی پهلوؤں كا تجزیہ كرنے كا موقع ملے گا۔ تاریخی ترتیب كے مطابق ان ازدواجی روابط كی ابتداء هاشم كے بیٹے عبد المطلب كے هاتھوں ہوئی۔ جب انہوں نے اپنی بیٹی كی شادی حرب كے ایك بیٹے سے كی، پھر عہد جاهلیت میں بنو هاشم نے تین تین نسبتیں بنو امیہ میں كیں(اور اگر ان كی ایك صاحبزادی كے بنوامیہ كے حلیف سے عقد ہونے كو شامل كر لیا جائے تو یہ تعدادچار ہوجاتی ہے۔ یہی چاررشتے عہد جاهلیت میں ہوئے تھے جن میں تین هاشمی دختریں بنو امیہ میں گئی تھیں اور ایك اموی دختر بنو هاشم میں آئی تھی یعنی اس وقت تك بالكل مساوی سطح پر قرابت قائم نہیں ہوئی تھی۔ عہد نبوی میں رشتوں كی تعداد بڑھ كر چھ ہوگئی جن میں دونوں خاندانوں كی تین تین دختریں ایك دوسرے كے یہاں منسوب ہوئیں اور اگر حضرت زید (مولائے رسول ) كی اموی بیوی سیده ام كلثوم كو شامل كرلیا جائے تو اموی دختروں كی تعداد چار ہوجاتی ہے۔
عہد خلافت راشده میں سب سے كم رشتے ہوئے یعنی لیكن اگر بنظر انصاف دیكھاجائے تو یہ رشتے اپنی اہمیت كے لحاظ سے كسی طرح كم نہ تھے۔ جو دو براه راست رشتے ہوئے تھے۔ ان میںایك سیدنا علی رضی اللہ عنہ كا سیده امامہ كے ساتھ اور دوسرا سیدنا علی رضی اللہ عنہ كے بڑے بھائی سیدنا عقیل كا فاطمہ بن عتبہ كے ساتھ اور یہ دونوں رشتے بہت اہم تھے۔ تیسرا رشتہ اگرچه براه راست بنو امیہ سے نہ تھا۔ لیكن اس لیے اہمت كا حامل تھا کہ اس كی رو سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بنو امیہ كے دامادلگتے تھے۔ اس زمانے كے تمام رشتوں كا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان كے عزیزوںسے متعلق ہونا اگر اتفاق ہے تو بڑا هی اہم اور تاریخ ساز اتفاق ہے۔ جس سے اس نظریہ كی جڑ كٹتی ہے کہ اس عہد میں بنو امیہ اور بنو هاشم خلافت كے مسئلے پر دو متصادم گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ اموی دور خلافت میں سب سے زیاده ازدواجی روابط ہوئے اس دور كے آغاز هی میں ان كی ابتداء ہوگئی تھی۔ اپنے مخصوص تاریخی پس منظر میں اس عہد میں سیدنا علی كی تین دختروں كا بنو امیہ سے روابط استوار كرنا بڑی اہمیت كا حامل ہے۔ اسی طرح حسنی اور حسینی خانوادوں كا بنو امیہ كے یہاں سے ازدواجی روابط كا دیگر هاشمی خانوادوں كے مقابلے میں زیاده قائم كرنا بڑی اہم تاریخ ساز حقیقت ہے۔ اس لیے کہ اس سے كچھ هی پهلے سیدنا معاویہ سے بنو هاشم كے بڑے سنگین قسم كے اختلاف چل چكے تھے۔ پھر بیچ میں یزید بن معاویہ سے بھی ایسے هی اختلافات ہوئے جن میں سیدنا حسین كی شهادت بھی ہوگئی تھی۔
بہر كیف ! ان صبر آزما اور جاں گسل اعداد وشمار كی مفصل بحث كا لب لباب یہ ہے کہ بنو هاشم اور بنو امیہ میں ازدواجی تعلقات هر دور میں قائم ہوتے رہے۔چاہے ان كا تناسب هر خاندان كے اعتبار سے كچھ بھی كیوں نہ رها ہو ان دونوں عم زاد خاندانوں میں الفت ومحبت كے رشتے ہمیشه استوار ہوتے رہے۔ رهی دونوں كی سیاسی آویزش تو انگریزی كا مشہور مقولہ یادركھنا چاهیے کہ ’’حكومت وحكمرانی رشتہ داری وقرابت نہیں جانتی۔‘‘
اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمدکما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید
مضمون نگار :ڈاكٹر یٰسین مظہر صدیقی

Why do some Catholics Christians self-flagellate? بعض کیتھولک عیسائی کیوں خونی ماتم اور سینہ کوبی کرتے ہیں ؟

The late Pope John Paul II would whip himself, according to a nun who helped to look after him. So how common is this practice in the Catholic faith?
"We would hear the sound of the blows," says Sister Tobiana Sobodka, who was in the next room to Pope John Paul II at his summer residence in Castel Gandolfo, near Rome.
گوگل ترجمہ:
مرحوم پوپ جان پال II خود کو پیٹتا تھا ،ایک نن کے مطابق جو اس کی دیکھ بھال کرنے میں مدد کرتی تھی کہ کیتھولک ایمان میں یہ عمل  اپنے آپ کو ازیت دینا یا کوڑون سے پیٹنا کتنا عام ہے؟
روم شہر کے قریب کاسٹل گاندولو میں اپنے موسم گرما میں رہائش پذیر پوپ جان پال II کے اگلے کمرے میں تھا جو بہن ٹوبانا سووبدوکا کہتے ہیں، "ہم نے پیٹنےکی آوازیں سنیں"
جسمانی طور پر گناہ کے لئے افسوس ظاہر کرنے کے لئے ایک جسمانی تناسب کے طور پر، جسم پرجلد پر مارنا یا  چوٹ لگانا ہے، زیادہ تر اکثرخون نکلتا ہے.

کیتھولک مؤرخ پروفیسر مائیکل والش کہتے ہیں کہ کیتھولک وزارت کے بعض حصوں میں یہ 1960 کی دہائی تک وسیع پیمانے پر عمل تھا لیکن آج غیر معمولی ہے.
انہوں نے کہا کہ بحیرہ روم کے ممالک میں لین کے مقدس ہفتہ کے دوران عارضی مقاصد کے دوران علامتی مقاصد کے لئے علامتی طور پر عمل کیا جاتا ہے، وہ ایک یاد دہانی کے طور پر کہ یسوع مسیح مصیبت سے پہلے پیٹا گیا تھا.
لیکن فلپائن جیسے کچھ ممالک میں، یسوع مسیح کے مصیبت کی یہ دوبارہ منسوب جذبہ کے کھیل کو بلایا جاتا ہے - زیادہ انتہائی شکل لے سکتا ہے اور خون کو روک سکتا ہے.

ابتدائی عیسائیوں کو یہ خیال تھا کہ جسم خراب تھا اور اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت تھی یہ کافی آسان طریقہ ہے، اب ہم اس سے زیادہ سمجھتے ہیں کہ ایسی طرز عمل صحت مند نہیں ہیں. "

Christ was scourged before the Crucifixion, Christians believe
Her evidence was given to the Vatican body which is considering whether to declare the Pope - who died five years ago - a saint.
Flagellation is the beating or whipping of the skin, most often on the back, and often drawing blood, as a bodily penance to show remorse for sin.
It was a widespread practice in some parts of the Catholic ministry up to the 1960s but is uncommon today, says Professor Michael Walsh, a Catholic historian.
Flagellation is acted out for symbolic purposes during penitential processions during Lent's Holy Week in Mediterranean countries, he says, as a reminder that Jesus Christ was whipped before the Crucifixion.
But in some countries like the Philippines, this re-enactment of the suffering of Jesus Christ - called the Passion play - can take a more extreme form and can draw blood.

THE ANSWER
Self-flagellation is only practised by a very small minority of Catholics
It is an expression of remorse for sins
It is also part of the Passion play in Holy Week
For others self-flagellation is a more private expression of faith.

It is thought to have come to prominence in Western Europe in medieval times around 600 to 800 AD as an extreme version of bodily penance, says Professor Lewis Ayres, a Catholic theologian at Durham University.
Early Christians believed that the notion of bodily penance allowed control of the body and emotions in order to focus more fully on worshipping God.
The practice continued in what Mr Ayres calls "the more conservative Catholic orders" well into the 20th Century and is still probably practised by a "tiny minority" today.

Pope John Paul II could be made a saint in 2010
Opus Dei, a branch of the Catholic Church which has a reputation for secrecy and featured in the Dan Brown bestseller The Da Vinci Code, is one of those groups unusual in doing this today, according to Mr Walsh.
Andrew Soane of Opus Dei says that what it calls "corporal mortification" goes back to the early Christians but it fell out of favour in the 1950s.
"It may happen that this change is reversed as people reconnect with their bodies and take control via moderate fasting and some corporal mortification, finding it a very healthy practice, which can overcome such unhealthy developments as drug use, sexual addictions, eating disorders and other body-hating approaches."
The Opus Dei website says some members self-flagellate for about one or two minutes a week, using a woven cotton string that causes some discomfort but does not draw blood.
Tradition of suffering
The revelation that Pope John Paul II, who died in 2005, possibly engaged in flagellation does not necessarily surprise Catholic scholars.
"Pope John Paul II was a firm believer in the New Testament tradition of suffering, a consistent theological historical position that a good life is simply preparation for death and life everlasting to follow," according to Mr Ayres.
"Part of a good life is remorse and remorse can be shown through physical suffering."

Mr Walsh says Pope John Paul II grew up in an era where bodily punishment was seen as pious, and the possibility he may have engaged in it will aid the campaign for his beatification.
The Vatican body which decides these matters, the Congregation for the Causes of Saints, would regard this as a sign of his religious commitment, says Mr Walsh.
Whether the practice is more widespread in Asia today than Europe is harder for scholars to agree a position on.
Mr Ayres thinks it may be simply that "different forms of Catholic expression and piety take on different forms across the world".
"Certain cultures preserve older customs in a cultural context - and flagellation is no longer part of the cultural context of the vast majority of Catholics in the West," he says.
As to why flagellation seems to have disappeared, Mr Walsh is in no doubt.
"Early Christians thought the body was evil and needed to be controlled. Quite simply, we now have a greater understanding that such practices are not healthy."
http://news.bbc.co.uk/2/hi/uk_news/magazine/8375174.stm

Mexico: Self-flagellation during Good Friday procession 
Problem with youtube, click link: http://goo.gl/Yfi9n
Shia Self Flagellation


Prophet Muhammad [peace be upon him] said: 
  • "He is not one of us, he who imitates others. Do not imitate either the Jews or the Christians." [Reported by ImamsTermithy & Abu-Dawd]
  • "If one imitates another nation he will be from them." [Reported by Imam Abu-Dawd]
  • http://islam1.org/khutub/Imitation_of_None-Muslims.htm
Imam Khomeini issued a verdict about the forbiddance of blood matam and Karbala plays [Taziah] making their permissibility conditional on them not harming Islam. After this Ayatollah Shahid Sayyid Muhammad Baqir Sadr and Ayatollah Shahid Murtaza Mutahari, as well as a group of scholars with foresight, supported this ruling and condemned blood matam. Shahid Ayatollah Mutahari mentioned this discussion in his book Howza va Ruhaniat: `Blood matam in its present form has not rational or religious backing. It is a clear instance of deviation. At least, in the present day it causes Shiaism to be questioned. Programs that do not have any relation to the goals of Imam Husayn (as) are razors, blades, and locks. Striking the head with a blade is the same. This is a mistake. Some people take blades and strike their heads making blood flow – for what? This action is not mourning.
Shahid Sayyid Abdul-Karim Hashimi-Nejad wrote about the bad effects of blood matam on the Shia faith: Ayatollah Makarem Shirazi said: `It is necessary for our dear mourners to refrain from committing actions which would cause the religion to look bad or cause an injury to their body.` [www.makaremshirazi.org] as a strong weapon by the enemies from within and without the country.`Shahid Ayatollah Murtada Mutahari: `Blood matam in its present form does not have a rational or religious proof. It is a clear instance of deviation. At least, in the present day it causes Shiaism to be questioned. Programs that do not have any relation to the goals of Imam Husayn (as) are razors, blades, and locks. Striking the head with a blade is the same. This is a mistake. Some people take blades and strike their heads making blood flow – for what? This action is not mourning.` Howzah va Ruhaniyat, v.2, p.173 
Source: http://www.ic-el.com/en/show_news.asp?idnum=38&state=article

Also read: Mourning Matam: Self-Flagellation
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد:
352ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ 10 محرم کو حضرت امام حسین رضی اللہ کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کردی جائیں، بیع و شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اوراعلانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کوپھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخوداورخاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال 353ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکےچنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کردیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہےہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔ ( تاریخ اسلام اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:2، ص 566، طبع کراچی)
مزید 》》》
https://rejectionists.blogspot.com/2017/09/shia-practices-history.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کے فتوی پر عمل کرنے پر علماء کی تلقین
ابنا فارسی نے پیش لفظ یوں(یہ اسکا ترجمہ ہے) لکھا تھا: 
عزاداری اور ماتم کے مراسم میں قمہ زنی کرنا ، تالوں اور زنجیروں سے جکڑنا، سر اور سینے کو خون آلود کرنا ، زیارت میں سینہ خیز چلنا اور اس قسم کے طریقوں پر مبنی عزاداری کرنا بے شک اسلام اور بالخصوص اپنے مذہب کی اہانت کا سبب بن جاتے ہیں خاص کر موجودہ دور میں جس میں مسلمانوں کے کردار اور رفتار کا باریک بینی کے ساتھ تحقیق کیا جاتا ہے اور اس پر اسلام کے بارے میں قضاوت کی جاتی ہے ۔ اسلئے مقام معظم رھبری دامت برکاتہ نے امت اسلامی کو ارشاد کرتے ہوئے اس قسم کے مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ ایسا کام مذھب کی توہین ہے اسے ترک کیا جانا چاہئے اور کئ بار قمہ زنی ترک کرنے اور حسینی مجلس میں خرافات کو ترک کرنے کی تاکید کرتے رہے اور سال ۱۳۸۸ ہجری شمسی(مطابق۲۰۰۹م)مبلغوں کے ملاقات کے دوران آپ نے اس موضوع پر ایک بار پھر تاکید فرمائی ہے ۔ اب چونکہ تاسوعا اور عاشورا نزدیک ہے جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے معظم فقہا کی نظر کا بھی دورہ کرتے ہیں ۔ حوزہ علمیہ قم کے چند فاضل طالبعلموں نے مقام معظم رھبری کے بیانات کے سلسلے میں خط کے ذریعہ بعض علما اور جامعہ مدرسین کے ارکان سے استفتا کیا ہوا تھا ، انہوں نے اپنی نظرات کو بشرح ذیل اعلان کیا ۔ آج یاد دہانی کے لئے اور ہر قسم کے خرافات سے پرہیز کرنے کے لئے اور دشمن کے ہاتھوں بہانہ نہ دینے کے غرض سے اسکا گرداں کرتے ہیں۔

حضرت آیت اﷲسیستانی کا فتوی: 
حضرت آیت اﷲ العظمی سیستانی مدظلہ العالی کی خدمت میں امام خامنہ ای کی طرف سے عزاداری کے حوالے سے صادر کئے گئے مذکورہ احکامات کے دائرہ کار سے متعلق سوال کیا اور وہاں سے جواب آیا کہ <<حضرت آیت اللہ سیستانی کے مطابق معاشرے کے نظم کے حوالے سے فقیہ عادل مقبول کا حکم تمام مؤمنین کے ساتھ ساتھ باقی مجتہدین پر بھی نافذ العمل ہے >>۔  مزید9 》》https://goo.gl/VxLtkM
http://m.taghribnews.com/vdcipway.t1ap327sct.html

Iranian king grave tawaf like Hajj

ایرانی باد شاہ کے مزار کے گرد خانہ کعبہ کی طرح طواف


ایران میں اسلام کے نام نہاد نام لیواؤں نے اپنے بادشاہوں اور مزعومہ بزرگ ہستیوں کو [نعوذ باللہ] خدا کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال ایران میں خمینی سلسلے کے بانی بادشاہ ’قورش‘ سے منسوب مزار سے لی جا سکتی ہے جہاں ہر سال لاکھوں ایرانی جمع ہو کر دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ مزار کا ایسے طواف کرتے ہیں جیسے مسلمان بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی بادشاہ ’قورش‘ کا ’جنم دن‘ 29 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کے موقع پر ایران بھر سے لاکھوں لوگ بادشاہ کے مزار پر کئی روز پہلے ہی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ انتیس اکتوبر کو مزار پر طواف کا اہتمام کیا جاتا ہے اور لاکھوں زائرین آنجہانی بادشاہ کے مزار کا طواف کرتے ہیں۔

ایران کی طرف سے ’قورش‘ بادشاہ کا دنیا عالمی سطح پر منائے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر ایران سے باہر دنیا کا ایسا کوئی طبقہ یا ادارہ ’یوم قورش‘ کیا منائے گا اس کے نام تک سے واقف نہیں ہے۔

ایران میں سرکاری سطح پر اس دن کو منانے کے لیے ایرانیوں کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس روز ایرانی نہ صرف بادشاہ کی تاریخ پیدائش مناتے ہیں بلکہ عرب وعجم کے درمیان نفرت کے مظاہر کا بھی ارتکاب کیا جاتا ہے۔ فارسی زبان میں نعروں پر مبنی بینرز اور کتبے لہرائے جاتے ہیں جن پر عربوں کے خلاف نفرت آمیز نعرے درج ہوتے ہیں۔


اس بار قورش بادشاہ کے مزار پر جمع ہونے والے زائرین کے ہاتھوں میں جو بینرز دیکھے گئے ان میں’کہتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر دنیا کی ہر مصیبت عربوں کے ہاتھ میں ہے‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے بھی موجود ہیں۔ اس کےعلاوہ ’ہم آرین، ہمارے اور عربوں کے معبود الگ الگ ہیں‘ کے نعرے بھی بہ کثرت دیکھنے کو ملتے ہیں۔

خلافت راشدہ کے دور میں ایران 651ء میں فتح ہوا اور ایران کے آخری بادشاہ یزد گرد کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ایرانی اہل فارس آج تک اس شکست کو عربوں کے ہاتھوں شکست قرار دیتے ہوئے اہل عرب سے نفرت کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں۔

ایران دائرہ اسلام میں داخل

اہل ایران بالخصوص زرتشت اور آتش پرست طبقوں نے طوعا وکرھا اسلام تو قبول کر لیا مگر ان کے دلوں سے عرب اقوام کے خلاف پائی جانے والی نفرت اور بغض اپنی جگہ بدستور نہ صرف موجود رہے بلکہ خون انتقام بڑھتی ہی چلی گئی۔ ایران میں بعد از اسلام بڑے بڑے نامی گرامی علماء، فلاسفر اور عربی و فارسی کے ادیب پیدا ہوئے مگر ان کی اکثریت غیر فارسی اقوام سے تھی۔ اسلام کی آمد کے بعد ایران میں تمام طبقات کے لیے علم کے بند دروازے کھلے۔ ظہور اسلام سے قبل ایران بھی طبقاتی تقسیم کا شکار تھا اور صرف تین طبقوں حکمران [شہزادگان]، زرتشت مذہبی عناصر [موبدان] اور فوج [اسواران] کو ساسانی حکومت کی طرف سے علم حاصل کرنے کی اجازت تھی۔

ان کے سوا دیگر دو طبقوں پیشہ وروں [پیشہ واران] اور کسانوں [برزیگران] جو ملک کی اکثریتی آبادی تو تھے مگر انہیں تعلیم کے حصول کا کوئی حق نہیں تھا۔

ایران میں صدیوں تک اہل سنت مسلک کی اکثریت رہی تا آنکہ صفوی سلطنت کے قیام کے بعد ایرانیوں پر تلوار کے زور پر شیعہ مذہب مسلط کیا گیا۔
تفصیل لنک:
 وہاں سے اہل تشیع عرب ممالک میں بھی تیزی سے پھیلانے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ اگرچہ شیعہ مسلک کے پہلے مراکز عرب ممالک میں تھے مگر کسی عرب ملک نے طاقت کے ذریعے اس مسلک کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔


ایرانی مزارات

ایران میں صفوی سلطنت کےقیام کے بعد ملک میں مزاروں کی تعمیر کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ نہ صرف مزار بننے لگے بلکہ مزاروں پر زائرین کی آمد کی آڑ میں اسلام کی مقدس تعلیمات کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ ایران میں سنہ 1979ء میں شہنشاہی سلطنت کا خاتمہ آیت اللہ علی خمینی نے کیا مگر مزاروں کی پوجا پاٹ کا سلسلہ نہ صرف جاری رہا بلکہ اس میں تیزی آتی گئی۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایران میں 1500 مزارات موجود ہیں جہاں پر لوگ عبادت کی آڑ میں اسلامی تعلیمات کی پامالی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

پچھلے تین عشروں کے دوران مزارات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور سرکاری طور پر رجسٹرڈ مزارات کی تعداد 10 ہزار پانچ سو تک جا پہنچی جب کہ غیر رجسٹرڈ مزاروں کی تعداد آٹھ ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ عراق کو شیعہ مذہب کا مرکز قرار دیا جاتا ہے مگر مزاروں کے اعتبار سے ایران اور عراق کے درمیان کوئی مماثلت نہیں کیونکہ عراق میں ایران کی نسبت مزاروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔


یوم قورش اور جعل سازی

ایرانی رجیم کی معاصر تاریخ کا سب سے بھیانک چہرہ عرب ممالک بالخصوص عراق، شام، لبنان اوریمن میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ یہ مداخلت ایران کے ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ اہل تشیع مسلک کی توسیع کی سازشوں کے گرد گھومتی ہے۔

ایرانی اپنے بادشاہوں کے بارے میں وہ تمام جعل سازیاں جو اپنے ملک میں کرتے ہیں عرب ممالک میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قورش بادشاہ کے حوالے سے29 اکتوبر کو ایک دن منایا جاتا ہے۔ ایران اسے ’قورش‘ کا عالمی دن قرار دیتا ہے۔ مگر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ سمیت کسی بھی بین الاقوامی فورم پر قورش کا دن منانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ایرانی مصنف ناصر بوربیراری اپنے 12 جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’خاموشی کی 12 صدیاں‘ میں قورش کے قتل کے بارے میں تفصیل بیان کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قورش کو 529ء کو ’ملکہ تھمریش‘‘ نے قتل کیا۔ یہ ملکہ ازبکستان اور تاجکستان کے درمیان پھیلی ’’السکائی‘‘ نامی قوم کی سربراہ تھی اور وسطی ایشیا کے خطے کی طاقت ور حکمران سمجھی جاتی تھی۔ ہیروڈوٹ نے اس قوم کو ’ماساجیت‘ کا نام دیا ہے۔

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Peace
Peace Forum Network
Visited by Millions
http://Peace-Forum.blogspot.com
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *...
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

شیعی رسومات کی تاریخ: ایجاد و آغاز


"Be not Shia" -Quran 30:32

شیعہ مذھب بتدریج مرحلہ وار طریقه سے ڈیولپ ہوتا ہوا موجودہ کئی شکلوں میں موجود ہے- اس پر مختلف ادوار اور علاقوں کے اثرات شامل ہوتے رہے ہیں- ایران ، عراق ، انڈیا میں رسومات میں واضح فرق نظر اتا ہے-


لعنت کا آغاز:
351ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) نے جامع مسجد بغداد کے دروازے پر نعوذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد یہ  عبارت لکھوا دی۔
(لعن اللہ معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی اباذرومن خرج العباس عن الشوری)

عید غدیر کی ایجاد:
معزالدولہ نے 18ذوالحجہ 351ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیااور اس عید کا نام عید خم غدیر رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی 18 ذوالحجہ 35ھ کو حضرت عثمانؓ غنی چونکہ شہیدہوئےتھےلہٰذااس روز شیعوں کےلیے خم غدیر کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو 351ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحٰی سے زیادہ بلند ہے۔
ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد:
352ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ 10 محرم کو حضرت امام حسین رضی اللہ کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کردی جائیں، بیع و شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اوراعلانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کوپھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخوداورخاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال 353ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکےچنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کردیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہےہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔ ( تاریخ اسلام اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:2، ص 566، طبع کراچی)
شیعیت کا فتنہ:
بنی بویہ نہایت متعصب شیعہ تھے، چند دنوں تک وہ خاموش رہے پھر ان کے تعصب کا ظہور ہونے لگا۔ دولت عباسیہ کے بہت سے ورزاء اور متوسل عجمی اور شیعہ تھے لیکن ان میں سے کسی نے علانیہ شیعیت کی ترویج واشاعت کی جرأت نہ کی تھی۔ معز الدولہ نے خلفاء کی قوت ختم کرنے کے ساتھ ہی بغداد میں شیعیت کی تبلیغ شروع کردی اور 351ھ میں جامع اعظم کے پھاٹک پر یہ تبرا لکھوایا۔
 معاویہ بن ابی سفیان، غاصبین فدک، امام حسن کو روضہ نبوی ﷺ میں دفن کرنے سے روکنے والوں ، حضرت ابو ذر کو جلاوطن کرنے والوں ، عباس رضی اللہ کو شوری سے خارج کرنے والوں پر لعنت ہو۔ (تاریخ ابن اثیر، ج: 8، ص: 179)
خلیفہ میں اس بدعت کو روکنے کی طاقت نہ تھی، کسی سنی نے رات کو یہ عبارت مٹا دی، معزالدولہ نے پھر لکھوانے کاارادہ کیا لیکن اس کے وزیر مہلبی نے مشورہ دیا کہ صرف معاویہ کے نام کی تصریح کی جائے اور ان کے نام کے بعد والظالمین لآل محمد یعنی آل محمدﷺ پر ظلم کرنے والوں کا فقرہ بڑھا دیا جائے۔ معزالدولہ نے یہ مشورہ قبول کرلیا۔
غالباً تبرا کی اس منافقانہ شکل کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے۔
معزالدولہ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ بغداد میں شیعوں کے تمام مراسم جاری کردیے عید غدیر کے دن عام عید اور جشن مسرت منانے کا حکم دیا۔ محرم کے لیے حکم جاری کیا کہ عاشورے کے دن تمام دکانیں اور کاروبار بند رکھے جائیں، کل مسلمان خاص قسم کی ٹوپیاں پہن کر نوحہ و ماتم کریں۔
عورتیں چہرے پر بھبھوت مل پریشان مووگریبان چاک سینہ کوبی کرتی ہوئی شہر میں ماتمی جلوس نکالیں، سینوں پر یہ احکام بہت شاق گزرے لیکن شیعوں کی قوت اور حکومت کے کے سامنےبے بس تھے اس لیے ان احکام کو منسوخ تو نہ کرا سکے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ محرم 353ھ میں شیعوں اور سنیوں میں سخت فساد ہوا۔ اور بغداد میں بڑی بدامنی پھیل گئی۔ (ابن اثیر،ج:8،ص:184۔ تاریخ اسلام ، شاہ معین الدین احمد ندوی، اعظم گڑھ، ج:4، ص:12، 13)

اہل سنت کے غور وفکر کے لیے چند باتیں:
 ماہ محرم کی ان بدعات و رسومات غیر شرعیہ کے علاوہ واقعۂ کربلاسے متعلق بھی اکثر اہل سنت کا زاویہ ٔ فکر صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش خدمت ہیں، امید ہے کہ اہل سنت حلقے اس پر پوری سنجیدگی، متانت اور علم وبصیرت کی روشنی میں غور فرمائیں گے۔
کیا یہ معرکہ ، حق و باطل کا تھا یا عام معمول کے مطابق ایک حادثہ؟اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت کےخطباءاوروعاظ فلسفہ شہادت حسین کو بالعموم اس طرح بیان کرتے ہیں جو خالصتاً شیعی انداز فکر اور رافضی آئیڈیالوجی  کامظہرہوتاہےاوراس کے متعلق یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام میں حق و باطل کا سب سے بڑامعرکہ تھا۔ یہ واعظین خوش بیان یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس دور خیر القرون میں جب کہ صحابہ ٔ کرام کی بھی ایک معتدبہ جماعت موجود تھی اور ان کے فیض یافتگان تابعین تو بکثرت تھے اس معرکے میں حضرت حسینؓ( رضی اللہ) ہی اکیلے کیوں صف آراء ہوتے؟ معرکہ ہوتا حق و باطل اور کفر واسلام کا اور صحابہ و تابعین اس سے نہ صرف یہ کہ الگ رہتے بلکہ حضرت حسینؓ( رضی اللہ) کو بھی اس سےروکتے،کیاایساممکن تھا؟ شیعی آئیڈیالوجی تو یہی ہے کہ وہ (معاذ اللہ) صحابۂ کرام رضی اللہ کے کفر و ارتداد اور منافقت کے قائل ہیں اور وہ یہی کہیں گے کہ ہاں اس معرکہ ٔ کفر و اسلام میں ایک طرفحضرت حسینؓ( رضی اللہ)  تھے اور دوسری طرف صحابہ سمیت یزید اوردیگر ان کے تمام حمایتی ، صحابہ و تابعین اس جنگ میں خاموش تماشائی بنے رہے اور حضرت حسینؓ( رضی اللہ)  نے اسلام کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔
لیکن کیا اہل سنت اس نقطہ ٔ نظر کو تسلیم کرلیں گے؟
کیا صحابہ وتابعین کی اس بے غیرتی و بے حمیتی کی وہ تصدیق کریں گے جو شیعی انداز فکر کا منطقی نتیجہ ہے؟
کیا صحابہ رضی اللہ نعوذ باللہ بے غیرت تھے؟ ان میں دینی حمیت اور دین کو بچانے کا جذبہ نہیں تھا؟

یقیناً اہل سنت صحابہ کرامؓ کے متعلق اس قسم کا عقیدہ نہیں رکھتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اہل سنت شہادت حضرت حسینؓ( رضی اللہ) کا جو فلسفہ بیان کرتے ہیں وہ اسی تال سر سے ترتیب پاتا ہے جو شیعیت کا مخصوص راگ ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ سانحۂ کربلاکو معرکہ حق و باطل باور کرانے سے صحابہ کرامؓ رضی اللہ کی عظمت کردار اور ان کی دینی حمیت مجروح ہوتی ہے اور شیعوں کا مقصد بھی یہی ہے لیکن یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ واقعہ ایسا ہے یا نہیں؟ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ حق و باطل کا تصادم نہیں تھا، یہ کفر واسلام کا معرکہ نہیں تھا، یہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس راہ میں حضرت حسینؓ( رضی اللہ) اکیلے نہ ہوتے،ان صحابہ کرامؓ رضی اللہ کا تعاون بھی انہیں حاصل ہوتا جن کی پوری عمریں اعلائے کلمۃ اللہ میں گزریں جو ہمہ وقت باطل کےلیے شمشیر برہنہ اور کفر وارتداد کےلیے خدائی للکار تھے۔ یہ تصادم دراصل ایک سیاسی نوعیت کا تھا اس نکتےکوسمجھنےکےلیےحسب ذیل پہلو قابل غور ہیں۔
¦        واقعات کربلا سے متعلقہ سب ہی تاریخوں میں ہے کہ حضرت حسینؓ( رضی اللہ) جب کوفے کی طرف کوچ کرنےکےلیےتیارہوگئے تو ان کے رشتہ داروں اور ہمدردوں نے انہیں روکنے کی پوری کوشش کیاور اس اقدام کے خطرناک نتائج سے ان کو آگاہ کیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء،حضرت ابو واقد لیثی، جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت حسینؓ( رضی اللہ)  کے بھائی محمد بن الحنفیہ رضی اللہ نمایاں ہیں۔ آپ نے ان کے جواب میں نہ عزم
سفر ملتوی فرمایا نہ اپنے موقف کی کوئی دلیل پیش کی،ورنہ ممکن ہے کہ وہ بھی اس موقف میں ان کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ ہوجاتے۔ دراصل حضرت حسینؓ( رضی اللہ)  کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اہل کوفہ ان کو مسلسل کوفہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں ،یقیناً وہاں جانا ہی مفید رہے گا۔
 یہ بھی تمام تاریخوں میں آتا ہے کہ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ آپ کو خبر پہنچی کہ کوفے میں آپ کےچچیرےبھائی مسلم بن عقیل شہید کردئیے گئے جن کو آپ نے کوفے کے حالات معلوم کرنے کےلیے ہی بھیجا تھا۔ اس المناک خبر سے آپ کا اہل کوفہ پر سے اعتماد متزلزل ہوگیا اور واپسی کا عزم ظاہر کیا، لیکن حضرت مسلم کے بھائیوں نے یہ کہہ کرواپس ہونے سے انکار کردیا کہ ہم تو اپنے بھائی مسلم کا بدلہ لیں گے یا خود بھی مر جائیں گے اس پر حضرت حسینؓ نےفرمایا:تمہارے بغیر میں بھی جی کر کیا کروں گا؟
(فھم ان یرجع وکان معہ اخوۃ مسلم بن عقیل فقالواواللہ لا نرجع حتی نصیب بثارنا او نقتل) (تاریخ الطبری: 292/4، مطبعۃ الاستقامۃ، قاہرۃ: 1939ء)
 چنانچہ حضرت حسینؓ نے واپسی کا ارادہ کرلیا، لیکن آپ کے ساتھ مسلم بن عقیل کے جو بھائی تھے، انہوں نے کہا کہ ہم تو اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ہم انتقام نہ لے لیں یا پھر خود بھی قتل ہوجائیں۔
اور یوں اس قافلے کا سفر کوفے کی طرف جاری رہا۔

 پھر اس پر بھی تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت حسینؓ( رضی اللہ) جب مقام کربلا پر پہنچے تو گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعدکو مجبور کرکے آپ کے مقابلے کےلیے بھیجا۔ عمر بن سعد نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے گفتگو کی تومتعددتاریخی روائتوں کے مطابق حضرت حسینؓ( رضی اللہ)  نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی۔
(اختر منی احدیٰ ثلاث اما ان الحق بثغر من الثغور واما ان ارجع الی المدینۃ واما ان اضع فی ید یزید بن معاویۃ فقبل ذلک عمر منہ) (الاصابۃ:  71/2الطبعۃ 1995ء، دارالکتب العلمیۃ)
یعنی تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ میں یا تو کسی اسلامی سرحد پر چلا جاتا ہوں یا واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتا ہوں یا پھر میں (براہ راست جاکر) یزید بن معاویہ کی ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہوں(یعنی ان سے بیعت کرلیتا ہوں) عمر بن سعد نے ان کی یہ تجویز قبول کرلی۔
ابن سعد نے خود منظور کرلینے کے بعد یہ تجویز ابن زیاد (گورنر کوفہ ) کو لکھ کر بھیجی مگر اس نے اس تجویزکوماننےسےانکارکردیااور اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے وہ (یزید کے لیے)میرے ہاتھ پر بیعت کریں۔
(فکتب الیہ عبید اللہ (ابن زیاد) لا اقبل منہ حتی یضع یدہ فی یدی) (الاصابۃ: 71/2، الطبری: 293/4)
حضرت حسینؓ( رضی اللہ) اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور ان کی طبع خوددار نے یہ گوارا نہیں ، چنانچہ اس شرط کو مسترد کردیا جس پر لڑائی چھڑ گئی اور آپ کی مظلومانہ شہادت کا یہ حادثہ ٔ فاجعہ پیش آگیا۔
(فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ فامتنع الحسین فقاتلوہ۔۔۔ ثم کان آخر ذلک ان قتل ؓ وارضاہ)
اس روایت کے مذکورہ الفاظ جس میں حضرت حسینؓ نے بیعت یزید پر رضا مندی کا اظہار فرمایا الاصابہ کے علاوہ *تہذیب التہذیب، 328/2، 353 *تاریخ طبری، 293/4 *تہذیب تاریخ ابن عساکر، 325/4، 337*البدایۃ والنہایۃ،170/8۔175 *کامل ابن اثیر،283/3 اور دیگر کئی کتابوں میں بھی موجود ہیں ۔ حتی کہ شیعی کتابوں میں بھی ہیں۔ ان کے دوسرے الفاظ بھی ہیں تاہم نیتجے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
ان تاریخی شواہد سے معلوم ہوا کہ اگر یہ حق و باطل کا معرکہ ہوتا توکوفے کے قریب پہنچ کر جب آپ کو مسلم بن عقیل کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تھی۔ آپ واپسی کا عزم ظاہر نہ فرماتے۔ ظاہر بات ہے کہ راہ حق میں کسی کی شہادت سے احقاق حق اورابطال باطل کا فریضہ ساقط نہیں ہوجاتا۔
پھر ا ن شرائط مصالحت سے جو حضرت حسینؓ نے عمر بن سعد کے سامنے رکھیں، یہ بات بالکل نمایاں ہوجاتی ہے ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات تھے بھی تو آپ ان سے دست بردار ہوگئے تھے ، بلکہ یزید کی حکومت تک کو تسلیم کرلینے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔
ایک یہ بات اس سے واضح ہوئی کہ سیدنا حضرت حسینؓ( رضی اللہ) ، امیر یزید کو فاسق و فاجر یا حکومت کا نااہل نہیں سمجھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی حالت میں بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ ہوتے جیسا کہ وہ تیار ہوگئے تھے، بلکہ یزید کے پاس جانےکےمطالبے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان سے حسن سلوک ہی کی توقع تھی۔ ظالم وسفاک بادشاہ کے جانے کی آرزو (آخری چارہ ٔ کارکے طور پر بھی) کوئی نہیں کرتا۔
اس تفصیل سے اس حادثے کے ذمہ دار بھی عریاں ہوجاتے ہیں اور وہ ہے ابن زیاد کی فوج، جس میں سب وہی کوفی تھے جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر بلایا تھا، انہی کوفیوں نے عمر بن سعد کی سعیٔ مصالحت کو بھی ناکام بنادیا جس سے کربلا کا یہ المناک سانحۂ شہادت پیش آیا۔ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا 
حضرت عثمانؓ اور عمر فاروقؓ رضی اللہ کی شہادت:جب واقعہ یہ ہے کہ یہ معرکہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے، حق وباطل کا معرکہ نہیں ہے ، تو بہتر ہے کہ ایام محرم میں اس موضوع ہی سےاحتراز کیا جائے کہ ان دنوں میں اس سانحے کو اپنے بیان و خطابت کا موضوع بنانا بھی شیعیت کو فروغ دینا ہےکیونکہ تاریخ اسلام میں اس سے بھی زیادہ اہم شہادتوں کو نظر انداز کرکے سانحۂ کربلاکواجاگرکرنایہ بھی رفض و تشیع ہی کا انداز ہے۔حضرت عثمانؓ غنی رضی اللہ کی شہادت کچھ کم جگر سوز اور دل دوز ہے جو 18 ذو الحجہ کو ہوئی؟ حضر ت عمر فاروقؓ کی شہادت ِ عظمیٰ کیا معمولی سانحہ ہے جو یکم محرم کو پیش آیا؟ اسی طرح اور بڑی بڑی شہادتیں ہیں لیکن ان سب کو نظر انداز کرکے صرف شہادت حسین کو اپنی زبان و قلم کا موضوع بنانا کسی طرح صحیح نہیں، اور جو شخص ایساکرتا ہے وہ بالواسطہ اور شعوری یا غیر شعوری طور پر شیعی انداز فکر کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔
امام اور علیہ السلام:اسی طرح اہل سنت کی اکثریت حضرت حسینؓ( رضی اللہ) کو بلا سوچےسمجھے اما م حسین علیہ السلام بولتی ہے حالانکہ سیدنا ححضرت حسینؓ( رضی اللہ) کے ساتھ امام کا لفظ بولنا اور اسی طرح ؓ کے بجائے علیہ السلام کہنا بھی شیعیت ہے۔ ہم تمام صحابہ ٔ کرام رضی اللہ کے ساتھ عزت و احترام کے لیے حضرت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر ، حضرت عثمان، حضرت علیؓ وغیرہ۔ ہم کبھی امام ابو بکر صدیق، امام عمر نہیں بولتے۔ اسی طرح ہم صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی کے بعد ؓ لکھتے اور بولتے ہیں۔ اور کبھی ابوبکر صدیق علیہ السلام یا حضر ت عمر علیہ السلام نہیں بولتے، لیکن حضرت حسینؓ کے ساتھ ؓ کے بجائے علیہ السلام بولتے ہیں۔ کبھی اس پر بھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہے؟ دراصل یہ شیعیت کا وہ اثر ہے جو غیر شعوری طور پر ہمارے اندر داخل ہوگیا ہے اس لیےیاد رکھیے کہ چونکہ شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ امامت کا بھی ہے اور امام ان کے نزدیک انبیاء کی طرح من جانب اللہ نامزداورمعصوم ہوتا ہے۔ حضرت حسینؓ بھی ان کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں، اس لیے ان کے لیے امام کا لفظ بولتے ہیں اور اسی طرح ان کے لیے علیہ السلام لکھتے اور بولتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ ایک صحابی ٔ رسول ہیں امام معصوم نہیں، نہ ہم شیعوں کی امامت معصومہ کے قائل ہی ہیں۔ اس لیے ہمیں انہیں دیگر صحابہ ٔ کرام کی طرح حضرت حسینؓ ؓ لکھنا اور بولنا چاہیے۔ امام حسین علیہ السلام نہیں۔ کیونکہ یہ شیعوں کے معلوم عقائد اور مخصوص تکنیک کے غماز ہیں۔

یزید پر سب و شتم کا مسئلہ:
اسی طرح ایک مسئلہ یزید پر سب و شتم کا ہے جسے بدقسمتی سے رواج عام حاصل ہوگیاہےاوربڑےبڑے علامہ فہامہ بھی یزید کا نام برے الفاظ سے لیتے ہیں ، بلکہ اس پر لعنت کرنے میں بھی کوئی حرج نہین سمجھتے اور اس کو حب حسین اور حب اہل بیت کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی اہل سنت کے مزاج اور مسلک سے ناواقفیت کانتیجہ ہے محققین علمائےاہل سنت نے یزید پر سب و شتم کرنے سے بھی روکا ہے اور اسی ضمن میں اس امر کی صراحت بھی کی ہےکہ یزید کا قتلحضرت حسینؓ( رضی اللہ) میں نہ کوئی ہاتھ ہے نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی رضا مندی ہی شامل تھی۔ ہم یہاں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  کے اقوال کے بجائے امام غزالی کی تصریحات نقل کرتے ہیں جن سے عام اہل سنت بھی عقیدت رکھتےہیں۔ علاوہ ازیں امام ابن تیمیہ کا موقف کتاب کےآخر میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔

امام غزالی فرماتے ہیں:
(ما صح قتلہ للحسین ؓ ولا امرہ ولا رضاہ بذٰلک ومھما لم یصح ذٰلک لم یجز ان یظن ذٰلک فان اسآءۃالظن ایضا بالمسلم حرام قال اللہ تعالیٰ: }يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ {۔۔۔فھذا الامر لا یعلم حقیقہ اصلا واذا لم یعرف وجب احسان الظن بکل مسلم یمکن احسان الظن بہ) (وفیات الاعیان: 450/2، طبع جدید)
یعنی حضرت حسینؓ( رضی اللہ) کو یزید کا قتل کرنا یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قل پر راضی ہونا، تینوں باتیں درست نہیں اورجب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، بنا بریں ہر مسلمان سے حسن ظن رکھنے کے وجوب کا اطلاق یزیدسےحسن ظن رکھنے پر بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح اپنی معروف کتاب احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
 (فان قیل ھل یجوز لعن یزید بکونہ قاتل الحسین او آمراً بہ قلنا ھٰذا لم یثبت اصلاً ولا یجوز ان یقال انہ قتلہ او امر بہ مالم یثبت)(131/3)
 یعنی اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنی جائز ہے کیونکہ وہ (\حضرت حسینؓ( رضی اللہ) کا ) قاتل ہے یا قتل کاحکم دینے والا ہے ؟
تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ باتیں قطعاً ثابت نہیں ہیں اور جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں اس کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا۔
پھر مذکورۃ الصدر مقام پر اپنے فتوے کو آپ نے ان الفاظ پر ختم کیا ہے:
(واما الترحم علیہ فجائز بل مستحب بل ہو داخل فی قولنا فی کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات فانہ کان مؤمنا۔ واللہ اعلم) (وفیات الاعیان: 450/3، طبع جدید)
یعنی یزید کے لیے رحمت کی د عا کرنا (رحمۃ اللہ علیہ کہنا) نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور وہ اس دعا میں داخل ہے جو ہم کہاکرتےہیں ۔ (یا اللہ! مومن مردوں او ر مومن عورتوں سب کو بخش دے) اس لیے کہ یزید مومن تھا! واللہ اعلم

مولانا احمد رضا خاں:
مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی،یزیدکے بارے میں یہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد اسے کافر جانتے ہیں او رامام غزالی وغیرہ مسلمان کہتےہیں، اپنامسلک یہ بیان کرتے ہیں کہ:
 اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔۔۔ (احکام شریعت،ص:88،حصہ دوم)

فسق و فجور کے افسانے؟
رہی بات یزید کے فسق وفجور کے افسانوں کی، تو یہ بھی یکسر غلط ہے جس کی تردید کے لیے خود حضرت حسینؓ کے برادر اکبر محمد بن الحنفیہ کا یہ بیان ہی کافی ہے جو انہوں نے اس کے متعلق اسی قسم کے افسانے سن کردیا تھا۔
(ما رایت منہ ما تذکرون وقد حضرتہ واقمت عندہ فرایتہ مواظباً علی الصلوٰۃ متحریا للخیر یسال عن الفقہ ملازماً للسنۃ) (البدایۃ والنہایۃ: 236/8، دارالدیان للتراث، الطبعۃ 1988ء)
یعنی تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو میں نے ان میں سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نےانہیں پکا نمازی ، خیر کا متلاشی، مسائل شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پایا ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ، ج:8، ص:233)

غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کے لیے
بشارت نبوی:علاوہ ازیں کم از کم ہم اہل سنت کو اس حدیث کے مطابق یزید کو برا بھلا کہنے سے باز رہنا چاہیے جس میں رسول اللہﷺ نے غزوۂ قسطنطنیہ میں شرکت کرنے والوں کے متعلق مغفرت کی بشارت دی ہے اور یزید اس جنگ کا کمانڈر تھا۔ یہ بخاری کی صحیح حدیث ہے اور آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے، کسی کاہن یا نجومی کی پیشین گوئی نہیں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کردیں۔ اگر ایساہوتو پھر نبی کے فرمان اور کاہن کی پیشین گوئی میں فرق باقی نہ رہے گا۔ کیا ہم اس حدیث کی مضحکہ کہ خیزتاویلیں کرکے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ حدیث مع ترجمہ درج ذیل ہے:
(أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ) (صحیح البخاری ، الجہاد والسیر، باب ما قیل فی قتال الروم، ح: 2924)
 میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جہاد کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے۔
مؤلف : حافظ صلاح الدین یوسف
https://tehreemtariq.wordpress.com/2013/11/14/
...............................................................................
خلاصہ کلام :
کربلااسلامی تاریخ کا ایک قابل افسوس سانحہ ہے،  جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اس  سانحہ سے نصف صدی قبل جب حج الوداع کے موقع پر المائدہ کی آیات ٣ ،  نازل ہوئی جس میں دین کے کامل (perfect) ہونے کا اعلان کر دیا گیا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدہ ،آیات ٣)
اس آیت میں بتایا گیا کہ جس دین کا داعی بنا کر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا تھا آج وہ ظاہری اور باطنی، صوری اور معنوی ہر لحاظ سے پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ اس دین کے غلبہ اور فتح مندی کا جو وعدہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے کیا گیا تھا وہ پورا کر دیا گیا۔ نیز وہ عقائد جن پر انسان کی  نجات کا انحصار ہے وہ مکمل طور پر سکھادئیے گئے۔ شریعت وقانون کے وہ بنیادی قواعد تفصیلا یا اصولا بتا دئیے گئے جو ہر زمانہ اور تمام حالات میں مسلمانوں کے لئے روشنی کا مینار ثابت ہوں گے۔ ایسے اصولوں کی تعلیم بھی دے دی جن کی مدد سے تم ہر نئی مشکل کا حل اور ہر جدید مسئلہ کا جواب معلوم کر سکو گے۔
x
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل(perfect) کر دیا ہے اور اپنے نبی اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔ حج اکبر والے دن جبکہ یہ آیت اتری تو حضرت عمر رونے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب دریافت فرمایا تو جواب دیا کہ ہم دین کی تعمیل میں کچھ زیادہ ہی تھے ، اب وہ کامل ہو گیا اور دستور یہ ہے کہ کمال کے بعد نقصان شروع ہو جاتا ہے ، آپ نے فرمایا سچ ہے ، اسی معنی کی شہادت اس ثابت شدہ حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ اسلام غربت اور انجان پن سے شروع ہوا اور عنقریب پھر غریب انجان ہو جائیگا ، پس غرباء کیلئے خوشخبری ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تم جو اس آیت ( ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) 5۔ المائدہ:3) کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے ''حضرت عمر نے فرمایا واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی ، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے ، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے ، تمام سیرت والے اس بات پر متفق ہیں کہ حجتہ الوادع والے سال عرفے کا دن جمعہ کو تھا-(ابن کثیر)
سانحہ کربلا سے دین اسلام میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوسکتی، حکمران یزید(بن معاویہ،رضی الله)کے سیاسی و فوجی اقدامات تاریخ کا حصہ ہیں جن پر صدیوں سے تنقید اور تبصرے ہو رہے ہیں- مگرکچھ لوگوں نے اس سانحہ کو  امت مسلمه میں تفرقہ کی بنیاد رکھنے کے لئے استعمال کیا جو ایک افسوسناک عمل ہےجس کی قرآن اجازت نہیں دیتا:
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)
"جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ ( آل عمران،3 :103)
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)
الله کا حکم بلکل واضح ہے، اللہ کے دئیے گئے نام میں تبدیلی ، کمی یا اضافہ کا کوئی جواز یا تاویل قابل قبول نہیں ہو سکتی:
هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)
اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ -
تفرقہ بازی کو ختم کرنے کے لئیے:
1.پہلا قدم یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے مطابق صرف مسلمان کہلانا شروع کر دیں-
2.تمام نظریات اور اطوارجو دین اسلام میں آیت : " الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ(المائدہ ،آیات ٣) کے بعد شامل کیئے گئے وہ دین اسلام کا جزو نہیں، ان کو ترک کر دیں-
3.مسلمان ایک دوسرے کومہذب اور پر امن طریقه سے "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کی دعوت دیں مگراس کی آڑمیں زبردستی اپنا نقطہ نظر دوسروں پر ٹھونسنے سے احتراز کریں- یاد رکھیں الله منصف اعلی ہے جو اختلافی معاملات کا فیصلہ  قیامت کے دن کرے گا-  شدت پسندی اور دہشت گردی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں-
پھر ہم دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور دین اسلام جو الله کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسانی کے لئے تا قیامت لائے اس پر عمل پیرا ہیں- الله ہماری مدد فرمائے-
http://salaamforum.blogspot.com/2017/09/Karbala-Yazeed.html
………………………………..
نوٹ :
روایت واقعہ کربلا  کی تاریخی حقیقت :
واقعہ کربلا کو بیان کرنے والے اکثر رواۃ جھوٹے’مجہول ’غیرمعتبر’غالى اور کٹر فرقہ پسند ہیں’ انہوں نے مبالغہ آرائیوں اور داستانوں سے بھرے ہوئے واقعات بیان کئے اور بہت سی روایتیں خود گھڑی ہیں اور مؤرخین نے انکو بلا تحقیق اور بلا کسی نقد وتبصرہ نقل کیا – یہی وجہ ہے کہ واقعات کربلا کی اصل حقیقت سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ نا واقف رہ گیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید(بن معاویہ، رضی اللہ) کے سلسلے میں طرح طرح کی غلط فہمیوں کا شکارہوگیا- واقعات کربلا کے بیان میں تاریخ کی کتابوں میں اتنا تضاد ہے کہ ان میں واقعہ کی صحیح نوعیت کی پہچان بڑا مشکل امرہے اور کونسی روایت صحیح ہے اور کونسی غلط ہے اسکی تمییز کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں رہا ہے-
تاریخ طبری:
تاریخ طبری کو بہت سے محقق ریفر کرتے ہیں- علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ)، کی تفسیر طبری کے علاوہ تاریخ طبری بہت زیادہ مشہور و معروف ہے- اسی نام کا دوسرا شخص "ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری" رافضی تھا،اس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں،ان میں سے ایک ”کتاب الرواة عن أہل البیت“ بھی ہے،حافظ سلیمانی رحمہ اللہ کے کلام ”کان یضع للروافض“ کا مصداق بھی یہی شخص ہے- چوں کہ دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے؛ اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں،پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے،سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور شیعہ ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے۔ خود شیعہ مصنّفین اور اصحابِ رجال میں سے بحرالعلوم طباطبائی،ابن الندیم، علی بن داوٴد حلّی، ابو جعفر طوسی،ابو العباس نجاشی اور سیّد خوئی وغیرہ نے ابن جریر بن رستم طبری کا اہلِ تشیع میں سے ہونے کی تصریح کی ہے- اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر شیعی کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے؛ چناں چہ ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ بن علی قفازی نے ”أصول مذھب الشیعة الإمامیة الإثني عشریة عرض و نقد“ میں لکھا ہے :”روافض نے اس تشابہ کو غنیمت جان کر ابن جریر سنی کی طرف بعض ان کتابوں کی نسبت کی ہے جس سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے،جیسا کہ ابن الندیم نے الفہرست،ص:۳۳۵ میں ”کتاب المسترشد في الإمامة“ کی نسبت ابن جریر سنی کی طرف کی ہے؛ حالاں کہ وہ ابن جریر شیعی کی ہے،دیکھیے: طبقات أعلام الشیعة في المائة الرابعة،ص:۲۵۲،ابن شہر آشوب،معالم العلماء، ص:۱۰۶،آج بھی روافض بعض ان اخبار کی نسبت امام طبری کی طرف کرتے ہیں جن سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے؛حالاں کہ وہ اس سے بری ہیں،دیکھیے: الأمیني النجفي، الغدیر: ۱/۲۱۴-۲۱۶۔
علامہ ابن جریر بن یزید طبری بہت بڑے اور بلند مرتبہ کے عالم تھے، خاص کر قرونِ ثلاثہ کی تاریخ کے حوالہ سے ان کا نام اور کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں ،قدیم و جدید تمام موٴرخین نے ان سے استفادہ کیا. ان ساری خصوصیات کے باوجود تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے ،جب کہ عدالتِ صحابہٴ کرام پرموجود قطعی نصوص قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے پیش نظر منصف مزاج اہل علم امام طبری اور خاص کر ان کی تاریخ میں مروی اس طرح کی روایات پر کلام کرنے پہ مجبور ہوئے ہیں، روایات پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ طبری میں بڑے بڑے دروغ گو ، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ جن میں مشہور دروغ گو راوی محمد بن سائب کلبی کی بارہ (۱۲) روایات،حشام بن محمد کلبی کی پچپن (۵۵) روایات ،ابو مخنف لوط بن یحی ٰ کی چھ سو بارہ (۶۱۲)روایات شامل ہیں ۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیے : مدرسة الکذابین فی روایة التاریخ الإسلامي و تدوینیہ، ص:۴۵۔۴۷،دار البلاغ الجزائر)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طبری نے ان جھوٹے اور بدنام زمانہ لوگوں کی واضح جھوٹی روایات کو اپنی کتاب میں کیوں جگہ دی جن سے بعد میں فتنوں کا دروازہ کھلا اور اصحاب رسول کے خلاف زبان درازی کا لوگوں کا موقع ملا ؟ اس سوال کا جواب ہم خود طبری کی زبان سے ہی پیش کرتے ہیں۔ کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
“میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ ہم نے یہ سب اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات ہمیں جس طرح پہنچی ہے ہم اسی طرح آگے نقل کردی ہے”۔ (مقدمہ تاریخ طبری)
ابن جریر(سنی) کے ثقہ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ "تاریخ طبری" کی تمام روایات صحیح ہیں، بلکہ ابن جریر سے لے کر اوپر تک ساری سند کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ تاریخ طبری کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا نوے (۹۰) فیصد حصہ موضوع و باطل ہے جس کی وجہ مجروح راوی ہیں، جن سے طبری نے روایات لے کر اپنی کتاب میں درج کررکھی ہیں۔
اس معاملہ کو اس سے بھی زیادہ سنگین اس بات نے کردیا کہ طبری کے بعد آنے والے اکثر موٴرخین نے قرونِ ثلاثہ کے بارے میں ان سے بہ کثرت روایات نقل کی ہیں ، جیسا کہ ابن جوزی نے اپنی کتاب ”المنتظم“‘ میں، ابن الاثیر نے ”الکامل“ میں اور ابن کثیر نے ”البدایہ“ میں بغیر سند کے نقل کیا ہے، اور ان حضرات کا اس طرح بغیر سند کے روایات نقل کرنے سے ثقہ اور دروغ گو راویوں کی روایات خلط ملط ہوگئیں ہیں، بسا اوقات تاریخ طبری کی طرف مراجعت کے بغیر ان روایات میں تمیز مستحیل ہوجاتی ہے۔
کیا صرف سند کے ساتھ رطب و یابس، غث و سمین اور ثقہ و غیر معتبر ہر طرح کی روایات کا نقل محض کسی بھی ثقہ مصنف کے لیے معقول عذر بن سکتا ہے؟ کیا اس بنیاد پر ثقہ مصنف کی نقل کردہ ہر روایت کو قبول کیا جاسکتا ہے. ؟
واقعہ کربلا کے راوی ابومحنف اور ہشام بن محمد سائب بھی ہیں۔ لیکن وہ قابل اعتبار نہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ منہاج السنہ میں لکھتے ہیں :
((ابومحنف وھشام بن محمد بن سائب وامثالھما من المعروفین بالکذب عند اھل العلم))
(مفتاح السنہ ص : 13 ج : 1 ، میزان الاعتدال ذہبی ص : 550 ج : 3 )
ابومحنف اور ہشام اور ان جیسے راوی اہل علم کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ ابومحنف اپنی کتاب ” مقتل حسین رضی اللہ عنہ ‘ میں ایسی عجیب و غریب روایات بیان کرتے ہیں جن کو عقل بھی تسلیم نہیں کرتی۔
مثلاً لکھتے ہیں
:” کہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو ان کا گھوڑا ہنہنانے لگا وہ میدان کربلا میں مقتولین کی لاشوں کے پاس سے گزرتا ہوا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس آ کر ٹھہر گیا۔ اس نے اپنی پیشانی خون میں ڈبو دی۔ وہ اگلے پاؤں سے زمین پر ٹپکنے لگا اور اس قدر زور سے ہنہنانے لگا کہ اس کی ہنہناہٹ سے میدان کربلا گونج اٹھا۔ ابن سعد کی نظر جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر پڑی تو اس نے کہا خدا کی مار ہو تم پر اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ ، یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمدہ گھوڑوں میں سے ہے۔ لشکریوں نے اس کا تعاقب کیا ، جب گھوڑے نے دیکھا کہ لوگ اسے پکڑنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے پاؤں زمین پر ٹپکنے لگا اور اپنی مدافعت کرنے لگا حتیٰ کہ اس نے بہت سے آدمیوں کو ہلاک کر دیا اور کئی شاہسواروں کو گھوڑوں سے گرا دیا۔ مگر لشکری اس پر قابو نہ پا سکے۔ “ (مقتل الحسین رضی اللہ عنہ ص : 94 )
دوسری جگہ لکھتا ہے کہ؛ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جس روز شہید ہوئے آسمان سے خون کی بارش ہوئی۔ (مقتل الحسین رضی اللہ عنہ ص : 119 )
مذکورہ بالا نمونہ سے پتہ چلتا ہے کہ ابومحنف راوی اپنی طرف سے باتیں بنا لیتا ہے۔ لہٰذا قابل اعتبار راوی نہیں ہے- اسی طرح کے راویوں کی روایت کی بنیاد پراگر ایک نیا مذہبی بیانیہ ترتیب دیا جائےتو اس کی کیا حثیت ہو گی ، کوئی بھی اندازہ کر سکتا ہے!
……………………………………………..

خونی ماتم کے حوالے سے امام خامنہ ای کے فتوی پر عمل کرنے پر علماء کی تلقین: https://goo.gl/VxLtkM