Pages

Iranian king grave tawaf like Hajj

ایرانی باد شاہ کے مزار کے گرد خانہ کعبہ کی طرح طواف


ایران میں اسلام کے نام نہاد نام لیواؤں نے اپنے بادشاہوں اور مزعومہ بزرگ ہستیوں کو [نعوذ باللہ] خدا کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال ایران میں خمینی سلسلے کے بانی بادشاہ ’قورش‘ سے منسوب مزار سے لی جا سکتی ہے جہاں ہر سال لاکھوں ایرانی جمع ہو کر دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ مزار کا ایسے طواف کرتے ہیں جیسے مسلمان بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی بادشاہ ’قورش‘ کا ’جنم دن‘ 29 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کے موقع پر ایران بھر سے لاکھوں لوگ بادشاہ کے مزار پر کئی روز پہلے ہی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ انتیس اکتوبر کو مزار پر طواف کا اہتمام کیا جاتا ہے اور لاکھوں زائرین آنجہانی بادشاہ کے مزار کا طواف کرتے ہیں۔

ایران کی طرف سے ’قورش‘ بادشاہ کا دنیا عالمی سطح پر منائے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر ایران سے باہر دنیا کا ایسا کوئی طبقہ یا ادارہ ’یوم قورش‘ کیا منائے گا اس کے نام تک سے واقف نہیں ہے۔

ایران میں سرکاری سطح پر اس دن کو منانے کے لیے ایرانیوں کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس روز ایرانی نہ صرف بادشاہ کی تاریخ پیدائش مناتے ہیں بلکہ عرب وعجم کے درمیان نفرت کے مظاہر کا بھی ارتکاب کیا جاتا ہے۔ فارسی زبان میں نعروں پر مبنی بینرز اور کتبے لہرائے جاتے ہیں جن پر عربوں کے خلاف نفرت آمیز نعرے درج ہوتے ہیں۔


اس بار قورش بادشاہ کے مزار پر جمع ہونے والے زائرین کے ہاتھوں میں جو بینرز دیکھے گئے ان میں’کہتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر دنیا کی ہر مصیبت عربوں کے ہاتھ میں ہے‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے بھی موجود ہیں۔ اس کےعلاوہ ’ہم آرین، ہمارے اور عربوں کے معبود الگ الگ ہیں‘ کے نعرے بھی بہ کثرت دیکھنے کو ملتے ہیں۔

خلافت راشدہ کے دور میں ایران 651ء میں فتح ہوا اور ایران کے آخری بادشاہ یزد گرد کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ایرانی اہل فارس آج تک اس شکست کو عربوں کے ہاتھوں شکست قرار دیتے ہوئے اہل عرب سے نفرت کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں۔

ایران دائرہ اسلام میں داخل

اہل ایران بالخصوص زرتشت اور آتش پرست طبقوں نے طوعا وکرھا اسلام تو قبول کر لیا مگر ان کے دلوں سے عرب اقوام کے خلاف پائی جانے والی نفرت اور بغض اپنی جگہ بدستور نہ صرف موجود رہے بلکہ خون انتقام بڑھتی ہی چلی گئی۔ ایران میں بعد از اسلام بڑے بڑے نامی گرامی علماء، فلاسفر اور عربی و فارسی کے ادیب پیدا ہوئے مگر ان کی اکثریت غیر فارسی اقوام سے تھی۔ اسلام کی آمد کے بعد ایران میں تمام طبقات کے لیے علم کے بند دروازے کھلے۔ ظہور اسلام سے قبل ایران بھی طبقاتی تقسیم کا شکار تھا اور صرف تین طبقوں حکمران [شہزادگان]، زرتشت مذہبی عناصر [موبدان] اور فوج [اسواران] کو ساسانی حکومت کی طرف سے علم حاصل کرنے کی اجازت تھی۔

ان کے سوا دیگر دو طبقوں پیشہ وروں [پیشہ واران] اور کسانوں [برزیگران] جو ملک کی اکثریتی آبادی تو تھے مگر انہیں تعلیم کے حصول کا کوئی حق نہیں تھا۔

ایران میں صدیوں تک اہل سنت مسلک کی اکثریت رہی تا آنکہ صفوی سلطنت کے قیام کے بعد ایرانیوں پر تلوار کے زور پر شیعہ مذہب مسلط کیا گیا۔
تفصیل لنک:
 وہاں سے اہل تشیع عرب ممالک میں بھی تیزی سے پھیلانے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ اگرچہ شیعہ مسلک کے پہلے مراکز عرب ممالک میں تھے مگر کسی عرب ملک نے طاقت کے ذریعے اس مسلک کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔


ایرانی مزارات

ایران میں صفوی سلطنت کےقیام کے بعد ملک میں مزاروں کی تعمیر کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ نہ صرف مزار بننے لگے بلکہ مزاروں پر زائرین کی آمد کی آڑ میں اسلام کی مقدس تعلیمات کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ ایران میں سنہ 1979ء میں شہنشاہی سلطنت کا خاتمہ آیت اللہ علی خمینی نے کیا مگر مزاروں کی پوجا پاٹ کا سلسلہ نہ صرف جاری رہا بلکہ اس میں تیزی آتی گئی۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایران میں 1500 مزارات موجود ہیں جہاں پر لوگ عبادت کی آڑ میں اسلامی تعلیمات کی پامالی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

پچھلے تین عشروں کے دوران مزارات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور سرکاری طور پر رجسٹرڈ مزارات کی تعداد 10 ہزار پانچ سو تک جا پہنچی جب کہ غیر رجسٹرڈ مزاروں کی تعداد آٹھ ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ عراق کو شیعہ مذہب کا مرکز قرار دیا جاتا ہے مگر مزاروں کے اعتبار سے ایران اور عراق کے درمیان کوئی مماثلت نہیں کیونکہ عراق میں ایران کی نسبت مزاروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔


یوم قورش اور جعل سازی

ایرانی رجیم کی معاصر تاریخ کا سب سے بھیانک چہرہ عرب ممالک بالخصوص عراق، شام، لبنان اوریمن میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ یہ مداخلت ایران کے ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ اہل تشیع مسلک کی توسیع کی سازشوں کے گرد گھومتی ہے۔

ایرانی اپنے بادشاہوں کے بارے میں وہ تمام جعل سازیاں جو اپنے ملک میں کرتے ہیں عرب ممالک میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قورش بادشاہ کے حوالے سے29 اکتوبر کو ایک دن منایا جاتا ہے۔ ایران اسے ’قورش‘ کا عالمی دن قرار دیتا ہے۔ مگر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ سمیت کسی بھی بین الاقوامی فورم پر قورش کا دن منانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ایرانی مصنف ناصر بوربیراری اپنے 12 جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’خاموشی کی 12 صدیاں‘ میں قورش کے قتل کے بارے میں تفصیل بیان کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قورش کو 529ء کو ’ملکہ تھمریش‘‘ نے قتل کیا۔ یہ ملکہ ازبکستان اور تاجکستان کے درمیان پھیلی ’’السکائی‘‘ نامی قوم کی سربراہ تھی اور وسطی ایشیا کے خطے کی طاقت ور حکمران سمجھی جاتی تھی۔ ہیروڈوٹ نے اس قوم کو ’ماساجیت‘ کا نام دیا ہے۔

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Peace
Peace Forum Network
Visited by Millions
http://Peace-Forum.blogspot.com
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *...
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *