Pages

Iran-Sinni to Shia ایران سنی اکثریتی ملک سے کٹر شیعہ ملک کیسے بنا؟


شاید آپ میں سے بہت سے افراد کے لئے یہ بات تحیر خیز ہو کہ سنہ 651 عیسوی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں ایران کی فتح مکمل ہونے سے لے کر سنہ 1510 تک تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا۔ شیعہ موجود تھے مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اور پھر 1487 میں شاہ اسماعیل صفوی پیدا ہو گیا۔ 

The conversion of Iran from Sunnism to Shiism took place roughly over the 16th through 18th centuries and made Iran the spiritual bastion of Shia Islam against  of Sunni Islam. It made Iran the repository[peacock term] of Persian cultural traditions and self-awareness of Iranianhood, acting as a bridge to modern Iran. It also ensured the dominance of the Twelver sect within Shiism over the Zaydiyyah and Ismaili sects – each of whom had previously experienced their own eras of dominance within Shiism. Through their actions, the Safavids reunified Iran as an independent state in 1501 and established Twelver Shiism as the official religion of their empire, marking one of the most important turning points in the history of Islam. As a direct result, the population of the territory of present-day Iran and neighbouring Azerbaijan were converted to Shia Islam at the same time in history. Both nations still have large Shia majorities, and the Shia percentage of Azerbaijan's population is second only to that in Iran. 
17 جولائی 1487 کو اردبیل کے صوفی شیخ حیدر اور جارجیا کے شاہی خاندان کی نسل سے تعلق رکھنے والی مارتھا کے ہاں صفوی صوفی سلسلے کے آخری پیر اور صوفی شاہی سلسلے کے پہلے بادشاہ شاہ اسماعیل صفوی کی پیدائش ہوئی۔ آق قویونلو سلطنت کے صوبیدار شروانشاہ فرخ یاسر کے ساتھ 1488 میں جنگ میں شیخ حیدر صفوی مارے گئے اور 1494 میں آق قویونلو نے اردبیل پر قبضہ کر لیا جس میں شیخ حیدر کے سب سے بڑے بیٹے علی مرتضی صفوی قتل ہوئے اور سات سالہ اسماعیل کو گیلان کی طرف فرار ہونا پڑا جہاں انہوں نے اپنے وقت کے علما سے تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں اناطولیہ، آذربائیجان اور کردستان کے شیعہ ترکمان قزلباش قبائیلیوں کی ایک زبردست فوج کے ساتھ اسماعیل صفوی کی واپسی ہوئی اور 1500 میں ان کی ایران میں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ 1510 میں مکمل ہوا۔
اسماعیل صفوی کی فتوحات میں وسطی ایشیا کے داغستان کی سرحد تک کا علاقہ، تبریز، کردستان، عراق عجم اور فارس کے علاقے، ارض روم، ماژندران، خوزستان، بغداد، آرمینیا، خراسان شامل تھے۔ اس کی ایک اہم فتح وہ تھی جب اس نے مرو میں بخارا کے طاقت ور حکمران شیبانی خان کی 28 ہزار کی فوج پر 17 ہزار فوجیوں سے حملہ کیا اور شیبانی خان کو قتل کر دیا۔ یہ اتنی اہم فتح تھی کہ اسماعیل صفوی نے شیبانی خان کی کھوپڑی کا جواہر سے آراستہ پیالہ بنوایا اور اسے پینے پلانے کے شغل میں لایا۔ بعد میں اسماعیل صفوی نے اس پیالے کو مغل بادشاہ بابر کو تحفے کے طور پر ارسال کیا جو کہ شیبانی خان کے ہاتھوں شکست کھا چکا تھا اور اس کا جانی دشمن تھا۔ اس تحفے کا برصغیر کو بھی ایک بہت بڑا فائدہ ہوا جس کا ذکر آگے آئے گا۔
اسماعیل صفوی ایک متعصب شیعہ حکمران تھا۔ بغداد پر قبضے کے بعد نہ صرف یہ کہ اس نے عباسی خلفا کے مقبرے ڈھا دیے، بلکہ عظیم صوفی بزرگ حضرت عبدالقادر جیلانی کا مقبرہ بھی اس سے محفوظ نہ رہ پایا۔ شاہ اسماعیل صفوی شیعہ مسلک کے نام پر مذہبی جنگ لڑتا تھا۔ اس نے بہ جبر اپنی سلطنت پر شیعہ مسلک نافذ کر دیا۔ اس وقت تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا، مگر شاہ اسماعیل صفوی نے سنیوں کو شدید جبر و تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دو آپشن دیں، یا تو شیعہ ہو جاؤ یا پھر فوت ہو جاؤ۔ ایرانی عقلمند قوم ہیں، انہوں نے زندہ رہنے کو ترجیح دی۔
اس وقت ایران کے شمال مغرب میں طاقت ور عثمانی سلطنت کا سلطان بایزید دوئم بڑھاپے کی وجہ سے سلطنت پر گرفت کھو رہا تھا۔ اس کے ولی عہد شہزادہ احمد نے بغاوت کر دی۔ اس زمانے میں روایت تھی کہ بادشاہ تخت حاصل کرتے ہی اپنے تمام بھائیوں کو مروا دیتا تھا۔ اپنی جان خطرے میں دیکھ کر چھوٹے شہزادے سلیم نے بھی بغاوت کر دی جسے سلطان بایزید نے شکست دی اور وہ فرار ہو کر کریمیا چلا گیا۔
عثمانی سلطنت کے ایران سے ملحقہ علاقوں میں شیعہ آبادی موجود تھی۔ انہی دنوں عثمانی سلطنت کو خلفشار میں دیکھ کر شاہ اسماعیل صفوی نے وہاں بغاوت کے شعلے بھڑکائے اور عثمانی سلطنت میں ایک بڑی بغاوت ہو گئی۔ ترک سلطان بایزید کا وزیر علی پاشا بھی ان شیعہ قزلباش باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس بغاوت پر بایزید دوئم نے بمشکل قابو پایا۔ سنہ 1512 میں عثمانی شہزادہ سلیم کریمیا سے واپس پلٹا اور ترک فوج کے طاقتور جانثاری دستوں کی مدد سے اپنے باپ بایزید کو تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔
اس وقت تک شاہ اسماعیل صفوی کی ہیبت ہر طرف طاری ہو چکی تھی۔ وہ ایک ناقابل شکست جرنیل اور جابر حکمران کے طور پر نام بنا چکا تھا۔ عثمانی سلطنت میں شیعہ آبادی پر بھی اس کا بہت زیادہ اثر تھا۔ حتی کہ ترکوں کے اہم ترین فوجی دستے جانثاریوں کی اکثریت بھی شیعہ صوفی مسلک سے تعلق رکھتی تھی۔ شاہ سلیم اول، جو کہ تاریخ میں سلیم یاؤز، یعنی ہیبتناک یا سخت کے نام سے مشہور ہوا، اپنی سلطنت کو بچانے کے لئے سب سے پہلے شاہ اسماعیل صفوی کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے پر مجبور ہو گیا۔
تخت سنبھالنے کے محض دو برس بعد 23 اگست 1514 کو سلطان سلیم یاؤز اپنا لشکر لے کر شاہ اسماعیل صفوی سے فیصلہ کرنے آیا۔ چالدران کے مقام پر دونوں عظیم سلطنتوں کی فوجوں کا سامنا ہوا۔ سلطان سلیم کی فوج کی تعداد کا اندازہ ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ لگایا جاتا ہے۔ شاہ اسماعیل صفوی کی فوج کی تعداد چالیس ہزار سے اسی ہزار تک بتائی جاتی ہے جس میں دنیا کے مانے ہوئے گھڑسوار دستے موجود تھے۔ لیکن سلطان سلیم کے پاس ایک ایسا ہتھیار تھا جو کہ شاہ اسماعیل صفوی نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ ایک سو توپوں اور بندوقوں کے ساتھ مسلح جانثاریوں کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ایک منظم اور تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ ایک غیر منظم فوج اور ناقابل شکست بادشاہ سے تھا۔
ایرانی بادشاہ ناقابل شکست نہ رہا۔ شاہ اسماعیل صفوی کو بدترین شکست ہوئی اور وہ زخمی ہو کر میدان جنگ سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔ اس کی دو بیویاں اور تمام حرم بھی سلطان سلیم یاؤز کے قبضے میں چلا گیا۔ شاہ اسماعیل صفوی کا اعتماد ایسا ٹوٹا کہ اس نے سلطنت اور فوج کے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دیا اور خود کو شراب کے پیالے میں غرق کر لیا۔ ادھر عثمانی سلطنت سے شیعہ قبائل کی بغاوتوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔
اس جنگ سے فارغ ہو کر سلطان سلیم یاؤز نے مصر کی مملوک سلطنت پر حملہ کیا اور اسے شکست دے دی۔ اس وقت بغداد پر شاہ اسماعیل صفوی کے قبضے کے بعد آخری عباسی خلیفہ المتوکل الثالث قاہرہ میں مقیم تھا۔ اس نے خود کو شمشیر بدست سلطان سلیم یاؤز کے سامنے پایا تو بلاجبر و اکراہ خلافت سے دستبردار ہو کر خلافت سلطان سلیم یاؤز کو سونپ دی اور یوں سلطان سلیم یاؤز پہلا عثمانی خلیفہ بنا۔ عراق اور حجاز مقدس پر قبضے کے بعد اس کا خلافت کا دعوی مزید مستحکم ہو گیا۔ مگر بدقسمتی سے عظیم جرنیل اور حکمران سلطان سلیم یاؤز کو صرف آٹھ سال حکومت کرنے کا موقع ملا اور وہ بیماری کے ہاتھوں جان ہار بیٹھا۔
شاہ اسماعیل صفوی نے چالدران کی شکست کے بعد خود کو مکمل طور پر شراب میں ڈبو دیا۔ اس نے چالدران کی جنگ کے دس سال بعد 23 مئی 1524 کو محض چھتیس سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا طہماسپ صفوی تخت نشین ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر چالدران کی جنگ میں عثمانیوں کو شکست ہو جاتی تو شاہ اسماعیل صفوی ایک فاتح کے طور پر امیر تیمور سے بھی بڑا نام ہوتا اور نہ صرف یہ کہ ایران بلکہ پورا مشرق وسطی آج شیعہ مسلک کا پیروکار ہوتا۔
سلطان سلیم یاؤز کے جانشین سلطان سلیمان ذی شان اور دیگر سلاطین عثمانیہ، شاہ طہماسپ صفوی، عباس صفوی اور دیگر ایرانی بادشاہوں کو چالدران جیسی شکست دینے میں ناکام رہے۔ جنگوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ دونوں سلطنتوں میں پہلا بڑا معاہدہ امن 1555 میں سلطان سلیمان ذی شان اور شاہ طہماسپ صفوی میں معاہدہ آسماسیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی رو سے جارجیا اور آرمینیا کو عباسیوں اور صفویوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر لیا گیا، کردستان بھی تقسیم ہوا، بغداد اور بیشتر عراق عثمانیوں کی ملکیت قرار پایا اور یوں انہیں خلیج فارس تک رسائی ملی، ایرانیوں کو اپنا شاہ اسماعیل صفوی کے دور کا دارالحکومت تبریز اپنے پاس رکھنے کی اجازت ملی، اس کے علاوہ وسطی ایشیا کے داغستان اور آذربائیجان وغیرہ صفوی سلطنت کا حصہ قرار پائے۔ سنہ 1639 میں ہونے والے قصر شیریں کے معاہدے نے آسماسیہ کے معاہدے کو مزید مضبوط کیا۔
ان معاہدوں کی ایک اہم شق، جسے سنی عثمانیوں کی ایک بڑی فتح اور شیعہ صفویوں کے لئے کافی ذلت آمیز شق تسلیم کیا جاتا ہے، وہ یہ تھی کہ صفوی سلطنت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عائشہؓ اور دیگر صحابہ پر تبرا بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ صفوی سلطنت خود کو ایک انتہا پسند شیعہ سلطنت کے طور پر پیش کرتی تھی اور یہ شق ان کے لئے اپنے عقیدے پر خود ہی پابندی تسلیم کرنے کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔ بعد کے تمام عثمانی و صفوی معاہدوں میں بھی یہ شق شامل رہی۔
ایک ذکر ہوا تھا بابر کو اسماعیل صفوی کی طرف سے دیے گئے شیبانی خان کی کھوپڑی کے پیالے کے تحفے کا جس کی وجہ سے برصغیر کو بھی ایک بہت بڑا فائدہ ہوا۔ ان صفوی اور عثمانی جنگوں کے دوران بابر ایک ابھرتی ہوئی قوت بن رہا تھا۔ وسطی ایشیا کے محاذ پر خود کسی پریشانی سے بچنے اور دشمن کو پریشانی میں مبتلا کرنے کی خاطر دونوں سلطنتیں بابر پر توجہ دے رہی تھیں۔
بابر کو توپ خانے کے عثمانی ماہر استاد علی قلی خان اور بندوقوں کے ماہر مصطفی رومی کی صورت میں عثمانیوں سے ایک اہم جنگی ہتھیار کا تحفہ ملا، جس کے بل پر اس نے ابراہیم لودھی کو شکست دی اور برصغیر میں مغل حکومت قائم کی۔ ان کے علاوہ عثمانیوں نے عظیم عثمانی آرکیٹیکٹ معمار سنان کے شاگردوں کو بھی بھیجا جن کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن مغل عمارتوں، خاص طور پر تاج محل میں دکھائی دیتے ہیں=
بشکریہ:
واپس فرنٹ پیج پر :  Back to Front Page
..............................................
ایران کے سُنی حکومت کے نسلی ومذہبی مظالم کا شکار!

ایران سے امریکا سے صلح کر لی لیکن اہل سنت کو معاف کرنے پر تیار نہیں
ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد جہاں یہ ملک ایک مخصوص فرقے اور طبقے کے لوگوں کےلیے جنت ثابت ہوا مگر وہاں اہل سنت والجماعت مسلک کے پیروکاروں کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے۔ ایران کے سنی مسلمانوں کو حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے اور انہیں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر عدم مساوات کے ظالمانہ سلوک کا سامنا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران میں اہل سنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ایرانی رجیم کے ہاتھوں ہونے والی صریح زیادتیوں پرمبنی ایک تفصیلی رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔
رپورٹ کا آغاز ایک سنی نوجوان مبلغ شہرام احمدی کی پھانسی کے واقعے سے کیا جا رہا ہے۔ شہرام احمد کو حال ہی میں سزائے موت سنائی گئی۔ اس واقعے نے ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کی بنیادی حقوق کی سنگین پامالیوں کا معاملہ ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کسی بھی وقت شہرام احمدی کو سنائی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کر دیں گے۔

ایران میں پھانسی کے منتظر سنی مبلغ شہرام احمدی
احمدی کو سنائی گئی سزا سے یہ آشکار ہو رہا ہے کہ ملک میں غیر فارسی بان بالخصوص سنی اقلیت کے ساتھ کس درجے کا ظالمانہ اور غیر مساوی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایران کے جنوبی اضلاع، جہاں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے، ایرانی رجیم کی انتقامی پالیسی کا منہ چڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایرانی حکومت صرف مذہب اور مسلک ہی کی بنیاد پر امتیاز نہیں برت رہی ہے بلکہ رنگ ونسل کی بنیاد پر بھی اقلیتوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثالیں ایران کی کرد، ترکمان، عرب اور بلوچ اقوام ہیں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک یا مذہب سے ہو مگر انہیں صرف اس لیے عدم مساوات کا سامنا ہے کہ یہ لوگ ایرانی اور فارسی النسل نہیں ہیں۔
ایران میں جہاں اہلسنت کے مسلمان اپنے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ایرانی حکومت اور سرکاری میڈیا بار بار یہ پروپیگنڈہ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ ایران میں کسی کے ساتھ مذہب، زبان، مسلک اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔
اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کا سامنا ہے۔ ملکی سیاست میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ پہلے ہی نہیں تھی مگر اب سنی مسلمانوں کو مساجد میں اپنے طریقے کے مطابق نماز اور عبادت سے بھی روکا جانے لگا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران اور کئی دوسرے شہروں میں مساجد کے قیام پر پابندی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تہران بلدیہ نے دارالحکومت کی اکلوتی جامع مسجد بھی شہید کر دی تھی جس پر ایران بھر میں اہل سنت والجماعت مسلک کی جانب سے شید ردعمل سامنے آیا تھا۔
ایران کے سنی رہ نما الشیخ عبدالحمید اسماعیل زئی بلوچستان کے دارالحکومت زاھدان کی جامع مسجد کے امام ہیں۔ تہران بلدیہ کی جانب سے مسجد کی شہید کرنے کے واقعے پر انہوں نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب میں اس معاملے پر متوجہ کیا مگر انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
رواں سال اگست میں ایرانی صدر حسن روحانی نے سنی اکثریت علاقے کردستان کا دورہ کیا جہاں انہیں صحافیوں کی جانب سے تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صحافیوں نے صدر حسن روحانی سے پوچھا کہ ایرانی کابینہ میں کوئی سُنی وزیر کیوں نہیں ہے تو انہوں نے سخت غصے میں جواب دیا کہ ہم ایران میں شیعہ اور سنی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔
ایران میں سنی آبادی کا تناسب
ایران کی کل 15 سے 17 ملین آبادی یعنی کل آبادی کا 20 سے 25 فی صد اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ معلومات غیر سرکاری اعداد وشمار کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ سرکاری سطح پر اقلیتوں کی آبادی کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہ تو جمع کی جاتی ہیں اور نہ ہی انہیں ظاہر کیا جاتا ہے۔
سنی آبادی کی اکثریت مغربی ایران کے ضلع کردستان، جنوب مشرق میں بلوچستان، شمال مشرق میں چولستان، ساحلی شہر آذربائیجان، جنوب مغرب میں اھواز، شمال مشرق میں خرسان، اور شمال میں جیلا اور طالش کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔
ایرانی دستور اور اہل سنت
ایران میں مسلک اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک صرف حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ یہ سب کچھ ایران کے دستور کا حصہ ہے۔ ایرانی دستور میں اعلیٰ عہدے صرف امامی اہل تشیع کے لیے مختص ہیں۔ دستور کی دفعہ 107 میں وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ کوئی غیر مذہب [مراد سنی مسلمان] مرشد اعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکا۔ ایران کی گارڈین کونسل کا رکن نہیں بن سکتا۔ گارڈین کونسل کا چیئرمین بھی نہیں بن سکتا۔ آرٹیکل 61 کے مطابق 'کوئی سنی مسلمان کسی عدالت کا جج نہیں بن سکتا۔'
آرٹیکل 115 کی دفعہ 5 میں تحریر ہے کہ 'صدر جمہوریہ کے لیے سرکاری مذہب شیعہ کا پیروکار ہونا ضروری ہے۔' آئین کی دفعہ 121 میں ہے کہ ریاست کا ہر عہدیدار سرکاری مذہب[شیعہ] کے مطابق حلف اٹھائے گا۔
آرٹیکل 12 اور 13 میں صراحت کی گئی ہے کہ شیعہ مذہب کے سوا کسی دوسرے مذہب کی تبلیغ کی قطعی اجازت نہیں ہوگی تاہم اہل تشیع کو تمام تر مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ اور تشہیر کی بھی اجازت ہے۔ اسی ضمن میں ایران کے دارالحکومت تہران میں اہل سنت والجماعت کو مسجد بنانے سے روکا گیا ہے۔ مساجد کی تعمیر ان تمام شہروں میں ممنوع ہے جہاں شیعہ اکثریت ہے۔
ایرانی دستور کے آرٹیکل دو میں ایران کے سیاسی نظام کی تعریف کے بعد اس کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ آئین کی رو سے ایران میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی ڈھانچہ امامی شیعہ کی تعلیمات کے تحت ہو گا۔ ملک کی زمام کار امامی اہل تشیع کے ہاتھ میں ہوگی جو فقہا کی وضع کردہ تمام شرائط پر پورا اترنے کے بعد کوئی عہدہ اور منصب سنھبالنے کے اہل ہوں گے۔
اہل سنت کی آبادی میں اضافے کا خوف
ایران میں جہاں ایک جانب سرکاری سطح پر اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کو دبایا اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے وہیں ایران حکومت اہل سنت کی آبادی میں اضافے سے خوف کا بھی شکار دکھائی دیتی ہے۔
ایران میں متعدد مرتبہ حکومتی عہدیدار ملک میں سنی مسلک کے لوگوں کی تعداد بڑھنے پر تشویش میں مبتلا دکھائی دیے ہیں۔ انہوں نے اپنی زبان سے کھل کر اس بات کا اظہار اور اقرار کیا ہے کہ ایران میں سنی مسلک کے لوگوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ولایت فقیہ کے نظام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
بین الاقوامی المصطفیٰ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ناصر رفیعی کا کہنا ہے کہ ایران میں اہل سنت مسلک کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ شیعہ مسلک کی آبادی اس سرعت کے ساتھ نہیں بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا بعض شہروں میں قائم سکولوں میں سنی بچوں کی تعداد 50 فی صد سے تجاوز کر رہی ہے۔ شیعہ آبادی کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود ان کے اسکولوں میں موجود بچوں کی تعداد سنی مسلمانوں کے بچوں سے کم ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی"مہر" نے حال ہی میں ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ آذربائیجان میں سنی آبادی میں 70 فی صد اضافہ ہو چکا ہے اور شیعہ آبادی صرف 30 رہ گئی ہے۔ شیعہ آن لائن نامی ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 20 برسوں میں ملک میں شیعہ مسلمان اقلیت میں بدل جائیں گے۔
ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ ملک میں اہل سنت تیزی کے ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ضلع خراسان میں وسیع علاقے پر اراضی کی خریداری شروع کی ہے۔ انہوں نے اہل تشیع کو کثرت اولاد کی ترغیب دی اور کہا کہ جو شخص اہل تشیع کی ترویج اور آبادی میں اضافے پر ایک ریال خرچ کرتا ہے وہ ایران کے امن واستحکام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
آبادی سے متعلق مرشد اعلیٰ کا پیغام
ایران میں اہل تشیع کی آبادی میں بتدریج کمی پر رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے ایرانی شیعہ مسلک کے پیروکاروں کو اپنی آبادی میں اضافے حکم دیا تھا۔ جہاں جہاں سنی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں شیعہ آبادی میں اضافے کے لیے حکومت نے ایک نیا پلان ترتیب دینا شروع کیا ہے۔ خلیج العربی سے متصل علاقوں، بحر عمان کے آس پاس، اماراتی جزیروں طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ میں شیعہ آبادی کو کھپانے کے لیے سرمایہ کاری کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاکہ ان اہل تشیع کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آباد ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار محمد ناظمی اردکانی نے بتایا کہ اگلے ڈیڑھ سال میں ایران کی آبادی 80 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ سنہ 2014ء میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا آبادی میں اضافے کا پلان ایران کی مجلس شوریٰ میں بھی زیر بحث آیا۔ حکومت نے سپریم لیڈر کی شیعہ آبادی میں اضافے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے آئندہ چند برسوں میں اس حوالے سے مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اپنی آبادی میں تیزی کے ساتھ کمی کی طرف گامزن ہیں۔ ہمیں کچھ عرصے کے اندر ایران کی آبادی کو مزید ایک گنا بڑھا کر 150 ملین تک لے جانا ہے۔
اشتعال انگیز مذہبی رسومات
ایران میں حکومت کی سطح پر اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کے ہاں ایسی ایسی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں جو سنی مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیزی سے کم نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کو "عمر کشتون"[قتل عمر] کو خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوں 9 ربیع الاول شہادت عمر فاروق کو ایران میں "عیدالزھراء" کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایران میں حضرت عمر فاروق کی شہادت کو عید کے طور پر منانے کی مکروہ روایت کوئی پانچ سو سال قبل صفویوں نے شروع کی تھی۔ صفوی چار صدیوں تک ایران میں حکمران رہے اور انہی کی دور میں ایران میں شیعہ مذہب تیزی کے ساتھ پھیلا۔
حضرت عمر فاروق کے قاتل ابو لولو مجوسی کو بھی ایران میں نہایت عقیدت واحترام کا مقام دیا جاتا ہے۔ وسطی ایران کے کاشان شہر میں بد بخت ابو لولو مجوسی کا باقاعدہ مزار ہے جہاں دور دور سے شیعہ زائرین 'عبادت' کے لیے وہاں آتے ہیں۔
ایران میں خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات پر طعن وتشنیع کا سلسلہ بھی عام ہے خاص طور پر محرم الحرام کے موقع پر ایران کے شیعہ مذہبی ذاکرین کھلے عام صحابہ کرام اور ازواج نبی کے خلاف دشنام طراز کرتے ہیں۔
ایران میں ہر سال 21 مارچ کو نئے سال کا آغاز بھی مذہبی جوش و جذبے منایا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو حضرت فاطمۃ الزھراء کے یوم وفات کی نسبت ماتم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ خلفائے راشدین کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم جامع تہران کے شیعہ امام محمد علی موحدی کرمانی نے اہل تشیع پر زور دیا تھا کہ وہ عید نوروز کے موقع پر خوشی کے بجائے ماتم کو زیادہ اہمیت دیں۔
پھانسی کی سزائیں
ایران میں معمولی معمولی واقعات کی بنیاد پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اس ظلم کا شکار ہونے والوں میں بھی اہل سنت کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ ایران کی جیلیں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو ان کے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ بیشتر کو پھانسی کی سزائیں سنائی گئی ہیں جنہیں کسی بھی وقت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
رواں سال مارچ میں کرج نامی شہر کے "رجائی شہر" جیل میں قید 6 سنی کرد کارکنوں حامد احمدی، کمال ملائی، جمشید دھقانی، جہانگیر دھقانی، صدیق محمدی اور ھادی حسینی کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ انہیں سنہ 2012ء میں ایران کی ایک انقلاب عدالت نے 'فساد فی الارض' کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
حال ہی میں ایک اور سنی مبلغ شہرام احمدی کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔ شہرام ایک سلفی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور پچھلے چھ سال سے ایران کی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ ان پر ایران کے ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف گفتگو کرنے اور اپنے سیاسی اور مذہبی عقائد کی تشہیر کے لیے کتب اور سی ڈیز فروخت کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ شہرام کے ایک بھائی کو اسی الزام میں 2012ء میں 18 سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہرام احمدی کو دوران حراست ہولناک جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
صالح حمید ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
مختصر لنک  : http://ara.tv/664ez